
اے ایف پی اور ایس پی اے کے ساتھ
شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کو پاکستان کی امن کوششوں سے متعلق حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا جس کی وجہ سے ایران جنگ میں فائر بندی ہوئی اور حال ہی میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی مذاکرات کا دور بھی ہوا۔
انہوں نے قریبی دوطرفہ تعلقات پر بھی بات چیت کی اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے طریقوں پر غور کیا۔ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے وزیر اعظم شہباز شریف کی پاکستان کی معاشی ترقی کو فروغ دینے اور سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو بھی سراہا۔
ایس پی اے کے مطابق سعودی ولی عہد نے وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کی بھی تعریف کی۔
پاکستانی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے دوران پاکستان کے معاشی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے سعودی عرب کی مسلسل حمایت پر بھی گہرے تشکر کا اظہار کیا۔
پاکستانی وزیر اعظم نے سعودی عرب کی مسلسل معاشی حمایت کا بھی اعتراف کیا۔ بیان کے مطابق، ”میں نے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے سعودی مملکت کی مستقل حمایت پر دلی شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان منفرد دفاعی اور سکیورٹی تعلقات کو بھی اجاگر کیا۔‘‘
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، جو اس ملاقات میں شریک تھے، نے ایکس پر ایک بیان میں کہا، ”یہ ملاقات گرمجوشی، برادرانہ تعلقات اور پاکستانی سعودی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ وژن کی عکاس تھی۔‘‘

سعودی عرب سے پاکستان کو دو بلین ڈالر موصول
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمعرات کو ایکس پر جاری کردی ایک پیغام میں کہا کہ پاکستان کو سعودی عرب کی وزارت خزانہ کی جانب سے دو بلین ڈالر موصول ہو گئے ہیں۔
پاکستان کے مرکزی بینک کے مطابق یہ رقم ”15 اپریل 2026 کی ویلیو ڈیٹ‘‘ کے ساتھ وصول کی گئی۔
یہ پیش رفت اس فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں سعودی عرب نے پاکستان کو ایک اور مالیاتی بیل آؤٹ پیکج دینے کا اعلان کیا، جس کا مقصد پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط کے مطابق اپنی بیرونی مالی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دینا ہے۔
دو روز قبل ہی پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب نے مزید تین بلین ڈالر کے ڈیپازٹس دینے کا وعدہ کیا ہے، جن کی ادائیگی آئندہ ہفتے متوقع ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سعودی عرب کے موجودہ پانچ بلین ڈالر کے ڈیپازٹ پر اب پہلے والی سالانہ رول اوور کی شرط لاگو نہیں ہو گی بلکہ اسے زیادہ طویل مدت کے لیے بڑھا دیا جائے گا۔
اس نئے قرض کے بعد سعودی عرب وہ واحد ملک بن گیا ہے، جس نے پاکستان کے اسٹیٹ بینک کے پاس مجموعی طور پر آٹھ بلین ڈالر کے نقد ڈیپازٹس رکھوائے ہیں۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں کے باوجود اپنے 3.5 بلین ڈالر کے قرض کو رول اوور نہیں کیا، جس کے باعث پاکستان کے زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر میں 3.5 بلین ڈالر کا خلا پیدا ہوگیا ہے۔



