پاکستان

اسلام آباد میں اہم سفارتی سرگرمیاں: پاکستان کی ثالثی میں امریکہ–ایران مذاکرات، خطے کی صورتحال اور انڈیا سے متعلق مؤقف پر تفصیلی بریفنگ

انہوں نے کہا کہ ان رابطوں کا مقصد نہ صرف اعتماد سازی تھا بلکہ عالمی برادری کو پاکستان کی امن کوششوں سے آگاہ رکھنا بھی تھا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں، علاقائی صورتحال، عالمی رابطوں اور انڈیا سے متعلق امور پر جامع اور تفصیلی بریفنگ دی۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف خطے میں امن کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کیا بلکہ اہم عالمی تنازعات میں بھی تعمیری ثالثی کی کوششیں جاری رکھیں۔

امریکہ–ایران مذاکرات میں پاکستان کا کردار

ترجمان کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات انتہائی مثبت، تعمیری اور اعتماد پر مبنی ماحول میں منعقد ہوئے۔ پاکستان نے ان مذاکرات میں ایک ذمہ دار ثالث کا کردار ادا کیا اور دونوں فریقین کے درمیان رابطے کے تمام چینلز کھلے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ان مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس جبکہ ایران کی نمائندگی اسپیکر باقر قالیباف نے کی۔ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے، جن میں براہ راست مکالمہ، تفصیلی تبادلہ خیال اور حساس امور پر بات چیت شامل تھی۔

ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ان مذاکرات کی میزبانی اور کامیاب انعقاد میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اس وقت ایران کے دورے پر ہیں جبکہ وزیراعظم 15 سے 18 اپریل تک سہ ملکی دورے پر ہیں، جو پاکستان کی امن کوششوں کا تسلسل ہے۔

عالمی رہنماؤں سے رابطے اور سفارتی ہم آہنگی

ترجمان کے مطابق مذاکرات سے قبل پاکستانی قیادت نے عالمی سطح پر وسیع سفارتی رابطے کیے۔ وزیراعظم اور عسکری قیادت نے امیر قطر، جرمن چانسلر، اطالوی وزیر اعظم، برطانوی وزیر اعظم، جاپانی وزیر اعظم اور کینیڈین وزیر اعظم سمیت اہم عالمی رہنماؤں سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ ان رابطوں کا مقصد نہ صرف اعتماد سازی تھا بلکہ عالمی برادری کو پاکستان کی امن کوششوں سے آگاہ رکھنا بھی تھا۔

خفیہ سفارتکاری اور اعتماد کا عنصر

ترجمان نے واضح کیا کہ ان حساس مذاکرات کو خفیہ رکھنا انتہائی ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں شرکت کرنے والے افراد، ان کی آمد و قیام اور دیگر انتظامات سے متعلق تمام فیصلے فریقین نے خود کیے تھے۔

ان کے مطابق پاکستان نے قومی اور بین الاقوامی میڈیا کے لیے یکساں پالیسی اختیار کی اور معلومات کو محدود رکھا تاکہ اعتماد کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے زور دیا کہ مذاکراتی تفصیلات کو امانت کے طور پر محفوظ رکھا گیا اور میڈیا سے بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کی گئی۔

جوہری معاملہ اور علاقائی امن

ترجمان نے انکشاف کیا کہ مذاکرات میں جوہری معاملہ بھی زیر بحث اہم موضوعات میں شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ فعال ہے اور دونوں ممالک خطے میں استحکام کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم اور علاقائی تعاون

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے ریجنل اینٹی ٹیررازم اسٹرکچر (RATS) میں بھرپور شرکت کی۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں چار اہم ممالک—سعودی عرب، ترکیہ اور مصر سمیت—کے سینئر حکام کا اجلاس بھی منعقد کیا گیا، جس میں انسداد دہشت گردی اور علاقائی سیکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

متحدہ عرب امارات سے تعلقات

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات پاکستان کا دیرینہ اور برادر دوست ملک ہے۔ تاہم، حالیہ مالی معاملات اس تنازع سے پہلے کے ہیں اور انہیں موجودہ سفارتی صورتحال سے جوڑنا درست نہیں۔

لبنان کی صورتحال اور اسرائیلی کارروائیاں

ترجمان نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں خطے میں عدم استحکام کو بڑھا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کے آثار حوصلہ افزا ہیں اور یہ پیش رفت امریکہ–ایران مذاکرات کے تناظر میں اہم ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ لبنان میں مسلح کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو۔

انڈیا سے متعلق پاکستان کا مؤقف

انڈیا کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ ’گائے کے تحفظ‘ کے نام پر وہاں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، جو تشویشناک ہے۔

انہوں نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مبینہ مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈی لمیٹیشن کا عمل غیرقانونی ہے اور اس کا مقصد آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ کشمیری عوام کا حقِ خودارادیت ناقابل تنسیخ ہے اور اسے ہر صورت تسلیم کیا جانا چاہیے۔

سمجھوتہ ایکسپریس کیس اور الزامات

ترجمان نے انڈین فوجی افسر کرنل پروہت کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں ملوث تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات انڈیا کی جانب سے ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں۔

پاکستان نے اس کیس میں ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے مطالبے کا اعادہ کیا۔

سیکیورٹی صورتحال اور حملے کی مذمت

ترجمان نے پاکستان کوسٹ گارڈز پر حالیہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

نتیجہ

ترجمان دفتر خارجہ کی بریفنگ سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکہ–ایران مذاکرات میں ثالثی، عالمی رہنماؤں سے رابطے، اور علاقائی تنازعات پر واضح مؤقف پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سمت اور ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button