
ویب ڈیسک
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں قطر اور دیگر ممالک پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے قطر کی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ یہ بیان اُن کی دوحہ میں امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے اہم ملاقات کے بعد جاری کیا گیا، جس میں خطے کی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور عالمی سطح پر تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، سکیورٹی چیلنجز اور جنگ بندی کی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جائے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مسلسل مکالمہ جاری رکھا جائے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ توانائی کی ترسیل کو بلا تعطل جاری رکھنا عالمی معیشت کے استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات کا بھی جامع جائزہ لیا گیا، جس میں پاکستان اور قطر کے درمیان سکیورٹی، دفاع، توانائی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی، جس میں موجودہ عالمی صورتحال کے پیش نظر قریبی مشاورت اور اشتراک عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں قطر کی جانب سے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبد الرحمن بن جاسم آل ثانی اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے، جبکہ پاکستانی وفد میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی شامل تھے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہا کہ امیرِ قطر کے ساتھ ان کی ملاقات نہایت خوشگوار اور نتیجہ خیز رہی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق ہوا۔ انہوں نے پاکستانی عوام کی جانب سے امیرِ قطر کا شکریہ بھی ادا کیا، جنہوں نے پاکستانی طیارے کے قطر کی فضائی حدود میں داخلے پر جنگی طیاروں کے ذریعے استقبال کیا۔ وزیرِ اعظم نے اس اقدام کو قطر کی روایتی مہمان نوازی اور دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کی عکاسی قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملاقات میں خلیجی خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی، جس میں کشیدگی کم کرنے، مکالمے کو فروغ دینے اور عالمی سطح پر تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیرِ اعظم نے قطر اور دیگر خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور قطر کے درمیان دیرینہ تعلقات مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے، خصوصاً توانائی اور اقتصادی شعبوں میں تعاون کے ذریعے۔
دوحہ پہنچنے پر وزیرِ اعظم کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جہاں قطری وزیرِ مملکت سلطان بن سعد المریخی نے ان کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر قطری مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی جبکہ شہر کو پاکستانی پرچموں سے سجایا گیا تھا، جو دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کی علامت تھا۔
اس دورے سے قبل وزیرِ اعظم نے سعودی عرب کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں حاضری دی اور امتِ مسلمہ اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے دعائیں کیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وزیرِ اعظم کے حالیہ خلیجی دورے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہیں، جن کا مقصد نہ صرف خطے میں امن کے قیام میں کردار ادا کرنا ہے بلکہ توانائی، سرمایہ کاری اور افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دے کر اقتصادی استحکام حاصل کرنا بھی ہے۔ یہ ملاقاتیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے سنجیدہ اور فعال سفارتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔



