ایران جنگ کے سائے میں لاکھوں افراد حج میں شریک
مورخین کے مطابق گزشتہ 14 صدیوں کے دوران حج صرف تقریباً 40 مرتبہ ہی منسوخ یا محدود کیا گیا ہے، آخری بار ایسا 2020 میں کورونا وبا کے دوران ہوا تھا۔
اس سال حج 25 مئی سے 29 مئی تک جاری رہے گا جبکہ تقریباً 15 لاکھ عازمین کی سعودی عرب آمد متوقع ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں 17 سے 18 لاکھ افراد نے یہ فریضہ ادا کیا۔
مورخین کے مطابق گزشتہ 14 صدیوں کے دوران حج صرف تقریباً 40 مرتبہ ہی منسوخ یا محدود کیا گیا ہے، آخری بار ایسا 2020 میں کورونا وبا کے دوران ہوا تھا۔
ایک ہی مقام پر پندرہ لاکھ سے زائد افراد کا ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ایک ہی مذہبی رسم ادا کرنے کے لیے جمع ہونا ہمیشہ ایک پیچیدہ انتظامی عمل رہا ہے۔ اس سال ایران جنگ نے ان انتظامات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اس وقت جنگ بندی نافذ ہے، لیکن یہ اب بھی واضح نہیں کہ یہ کتنی دیرپا ثابت ہو گی۔ گزشتہ ہفتے کے آخر میں سعودی عرب نے تین ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ غالباً انہیں عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں نے بھیجا تھا۔

سفری انتباہات جاری
2026 وہ پہلا سال بھی ہے جب امریکی حکومت نے اپنے شہریوں کو حج میں شرکت پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا۔ حکومت نے یہ بھی بتایا کہ مارچ کے آغاز میں ”امریکی حکومت کے غیر ہنگامی عملے کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔‘‘
جرمنی، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک نے بھی سعودی عرب کے لیے سفری انتباہات جاری کیے ہیں اور اپنے شہریوں کو موجودہ تنازع کے دوران وہاں جانے سے سختی سے خبردار کیا ہے، اور جانے کی صورت میں صورتحال پر گہری نظر رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔
وہ ممالک جو عموماً سب سے زیادہ تعداد میں حجاج بھیجتے ہیں، ابتدا میں محتاط تھے۔ مثال کے طور پر انڈونیشیا، جو اس سال 2 لاکھ 21 ہزار عازمین حج بھیج رہا ہے، نے مارچ میں اپنے شہریوں کو مشورہ دیا تھا کہ جنگ کی صورتحال واضح ہونے تک روانگی مؤخر کر دیں۔
تاہم اس کے بعد انڈونیشیا اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک نے عازمین کو سفر کی اجازت دے دی اور حسب معمول سفری و دیگر سہولیات فراہم کرنا جاری رکھیں۔

کیا ایران حج کو نشانہ بنا سکتا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان انتہائی کم ہے کہ ایران جان بوجھ کر حج کو نشانہ بنائے۔ ایسا اقدام بے حد غیر مقبول ہو گا کیونکہ یہ مقامات تمام مسلمانوں کے لیے مقدس ہیں، اور ایران خود ایک مذہبی ریاست ہے۔ مزید یہ کہ جنگ کے باوجود اس سال تقریباً 30 ہزار ایرانی عازمین سعودی عرب میں موجود ہوں گے، جبکہ عام طور پر ایران تقریباً 87 ہزار افراد بھیجتا ہے۔
سعودی حکومت نے حال ہی میں تصاویر جاری کیں جن میں مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے پیٹریاٹ میزائل نظام کی تنصیبات دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان میں اونچائی تک مار کرنے والے میزائلوں سے لے کر اینٹی ڈرون لیزر ہتھیار بھی موجود ہیں۔
لیکن تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر کسی میزائل کو فضا میں تباہ کر دیا جائے اور اس کے ملبے کے ٹکڑے حج کے مقامات کے قریب گر جائیں تو کیا ہو گا؟
معاشی اثرات
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نے اس سال کے حج پر دیگر اثرات بھی مرتب کیے ہیں۔
حج کے اخراجات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو گئے ہیں۔ جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، اور اگرچہ بھارت، انڈونیشیا اور ملائیشیا جیسے ممالک کی حکومتیں عموماً حج پروازوں کی ٹکٹوں کے لیے خصوصی معاہدے کرتی ہیں، لیکن سب ہی حکومتوں نے ایئر لائنز کی جانب سے طلب کیے گئے اضافی اخراجات برداشت نہیں کیے۔ نیویارک ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، مثال کے طور پر انڈونیشیا کی حکومت نے اضافی اخراجات خود برداشت کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جبکہ بھارتی حکومت کی حج کمیٹی نے تقریباً 100 ڈالر فی حاجی اضافی لاگت عازمین سے وصول کی۔

کرنسی کی غیر یقینی صورتحال اور مہنگائی نے بھی محدود بجٹ رکھنے والے ممکنہ عازمین کے لیے مزید مالی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
سعودی عرب نے بیرونِ ملک سے آنے والے حجاج کے لیے ٹریول انشورنس لازمی قرار دے رکھی ہے۔ لیکن بہت سے انشورنس پیکیجز جنگ یا فوجی تنازع کا احاطہ نہیں کرتے۔ جو پالیسیاں جنگ زدہ علاقوں کو کور کرتی ہیں، وہ عموماً زیادہ مہنگی ہوتی ہیں۔ اگر اضافی جنگی شقیں شامل نہ ہوں تو مسافروں کو لڑائی کے باعث زخمی ہونے سے لے کر پروازوں میں تبدیلی تک کے تمام اخراجات خود برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔



