By Voice of Germany Urdu News Team
بلباؤ: بلباؤ ایئرپورٹ پر غزہ کے لیے امدادی اور یکجہتی مشن میں شامل فلوٹیلا کارکنوں کی واپسی کے موقع پر شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے بعد متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق باسکی علاقائی پولیس فورس نے کارروائی کرتے ہوئے کارکنوں اور ان کے حامیوں کو زبردستی منتشر کیا، جبکہ بعض افراد کو گھسیٹنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق گلوبل سمود فلوٹیلا کے ارکان اسرائیلی حراست سے رہائی کے بعد اسپین پہنچے تھے، جہاں ان کے استقبال کے لیے بڑی تعداد میں حامی، انسانی حقوق کے کارکن اور فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کرنے والے افراد موجود تھے۔ اسی دوران ایئرپورٹ پر سیکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی جو بعد ازاں جھڑپوں میں تبدیل ہو گئی۔
پولیس کی سخت کارروائی، کارکنوں کو گھسیٹنے اور مارنے کے الزامات
عینی شاہدین کے مطابق باسکی پولیس فورس کے اہلکاروں نے احتجاجی مظاہرہ منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار بعض افراد کو زمین پر گراتے، گھسیٹتے اور زبردستی حراست میں لیتے دکھائی دے رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ وہ پرامن انداز میں غزہ کے لیے یکجہتی کا اظہار اور فلوٹیلا کارکنوں کا استقبال کر رہے تھے، تاہم پولیس نے بغیر کسی اشتعال کے طاقت کا استعمال کیا۔ اطلاعات کے مطابق کم از کم چار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ متعدد افراد معمولی زخمی بھی ہوئے۔
فلوٹیلا کارکن کون ہیں؟
گلوبل سمود فلوٹیلا سے وابستہ کارکن غزہ کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انسانی امداد کی فراہمی کے مقصد سے سرگرم ہیں۔ یہ کارکن حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی حراست میں رہے تھے، جس کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی۔
تنظیم کے مطابق فلوٹیلا مشن کا مقصد غزہ میں جاری انسانی بحران، محاصرے اور امدادی پابندیوں کے خلاف عالمی سطح پر آواز بلند کرنا ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ غزہ میں شہریوں، خصوصاً بچوں اور خواتین، کو شدید غذائی، طبی اور انسانی مشکلات کا سامنا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا ردعمل
واقعے کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں اور فلسطینی حامی تنظیموں نے پولیس کی کارروائی پر شدید تنقید کی ہے۔ متعدد سماجی اور سیاسی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور ایئرپورٹ پر مظاہرین کے ساتھ پیش آنے والا رویہ تشویشناک ہے۔ بعض تنظیموں نے اسپین کی حکومت اور باسکی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔
اسرائیلی حراست اور غزہ بحران کا پس منظر
فلوٹیلا کارکنوں کی واپسی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب غزہ کی صورتحال بدستور عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں لاکھوں افراد خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔
فلسطین کے حامی گروپس اور امدادی تنظیمیں مختلف ممالک میں احتجاج، ریلیوں اور امدادی مہمات کے ذریعے غزہ کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں فلوٹیلا مشنز کو بھی عالمی سطح پر توجہ حاصل ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا پر شدید ردعمل
بلباؤ ایئرپورٹ کے واقعے کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ صارفین کی بڑی تعداد نے پولیس کی کارروائی کو “غیر ضروری طاقت کا استعمال” قرار دیا جبکہ بعض حلقوں نے سیکیورٹی صورتحال اور ایئرپورٹ نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے پولیس اقدامات کا دفاع بھی کیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف غزہ کے مسئلے پر یورپ میں بڑھتی ہوئی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ فلسطینی کاز کے حق میں جاری عالمی عوامی حمایت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
مزید گرفتاریوں کا خدشہ
مقامی ذرائع کے مطابق حکام واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں اور ایئرپورٹ پر نصب کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جھڑپوں میں ملوث دیگر افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب فلسطینی حامی گروپس نے اعلان کیا ہے کہ وہ گرفتار کارکنوں کی رہائی اور پولیس کارروائی کے خلاف مزید احتجاجی مظاہرے منعقد کریں گے۔




