ایرانی رہنما مجتبیٰ خامنہ ای کا سخت پیغام“خطہ اب امریکی فوجی اڈوں کے لیے محفوظ نہیں رہے گا”، عیدالاضحیٰ اور حج کے موقع پر اہم خطاب
انہوں نے کہا کہ:“وقت پیچھے نہیں لوٹے گا اور خطے کی زمینیں امریکی اڈوں کے لیے ڈھال نہیں بنیں گی۔”
By Voice of Germany Urdu News Team
ایران کے سپریم رہنما کے منصب پر فائز ہونے والے مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے تازہ عوامی پیغام میں خطے میں امریکی اثر و رسوخ میں کمی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین اب امریکہ کے فوجی اڈوں کے لیے پہلے جیسی محفوظ پناہ گاہ نہیں رہے گی۔
سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے عیدالاضحیٰ اور حج کے موقع پر امتِ مسلمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وقت تیزی سے بدل رہا ہے اور خطے کی سیاسی و عسکری حقیقتیں اب ماضی کی طرح نہیں رہیں۔
انہوں نے کہا کہ:“وقت پیچھے نہیں لوٹے گا اور خطے کی زمینیں امریکی اڈوں کے لیے ڈھال نہیں بنیں گی۔”
خطے میں امریکی موجودگی پر تنقید“امریکہ اپنی سابقہ حیثیت کھو رہا ہے”
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ اب خطے میں محفوظ فوجی اڈے قائم رکھنے کی صلاحیت کھوتا جا رہا ہے اور اس کا اثر و رسوخ مسلسل کمزور ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اب نئی سیاسی حقیقتوں کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے لیے پہلے جیسی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔
اگرچہ انہوں نے حالیہ امریکی حملوں کا براہِ راست ذکر نہیں کیا، تاہم ان کے بیانات کو جنوبی ایران میں امریکی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی قیادت اس وقت ایک طرف خطے میں اپنی عسکری و سیاسی پوزیشن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب سفارتی سطح پر بھی امریکہ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر غور جاری ہے۔
مذاکرات اور جنگ بندی پر خاموشی پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکر نہ کیا گیا
اہم بات یہ رہی کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں امریکہ کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات، جنگ بندی یا پاکستان سمیت دیگر علاقائی ممالک کی سفارتی کوششوں کا کوئی واضح ذکر نہیں کیا۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے مختلف سفارتی ذرائع متحرک ہیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ابتدائی مفاہمت اور پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ 8 اپریل سے نافذ جنگ بندی نے خطے میں وقتی طور پر کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کی تقریر میں مذاکراتی عمل کا ذکر نہ کرنا اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ ایرانی قیادت ابھی کسی حتمی معاہدے یا مفاہمت کو عوامی سطح پر ظاہر کرنے سے گریز کر رہی ہے۔
10 ہفتوں بعد منظرِ عام پر واپسی
مجتبیٰ خامنہ ای گزشتہ تقریباً دس ہفتوں سے عوامی منظرنامے سے غائب تھے، جس کے باعث ایران اور عالمی سطح پر ان کی صحت اور سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی تھیں۔
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق تہران میں سابق ایرانی رہنما Ali Khamenei کے مقام کو نشانہ بنانے والے حملوں کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے تھے، تاہم ایرانی حکام نے ان اطلاعات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
تازہ خطاب کو ان کی سیاسی واپسی اور طاقت کے مظاہرے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران کو داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
منجمد ایرانی اثاثے: سب سے بڑا تنازع قطر کی ثالثی کے ذریعے مذاکرات جاری
ایک ایرانی ذریعے کے مطابق بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی اب بھی ایران اور امریکہ کے درمیان سب سے بڑا اور آخری اہم اختلافی نکتہ بنی ہوئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے حل کے لیے قطر ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان پسِ پردہ رابطے جاری ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی “فارس” کے مطابق مذاکرات میں بعض پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم مالیاتی پابندیوں اور اثاثوں کی واپسی کے معاملے پر اب بھی مکمل اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہو سکا۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق ایران کو شدید مالی دباؤ، پابندیوں اور توانائی کی برآمدات میں مشکلات کے باعث اپنے منجمد اثاثوں تک رسائی کی اشد ضرورت ہے، جبکہ امریکہ اس معاملے کو وسیع تر سیکیورٹی اور جوہری معاملات سے جوڑ کر دیکھ رہا ہے۔
ایران میں امریکی کارروائیاں میزائل تنصیبات اورکشتیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
دوسری جانب امریکی فوج نے گزشتہ شب اعلان کیا کہ اس نے جنوبی ایران میں مخصوص فوجی کارروائیاں انجام دی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق کارروائیوں کے دوران میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب بعض کشتیوں پر بھی حملے کیے گئے۔
امریکہ کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ کشتیوں کو اسٹریٹجک آبی گزرگاہ میں بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، جو عالمی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے خطرہ بن سکتی تھیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے وہاں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی پر عالمی تشویش
علاقائی اور بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں براہِ راست جنگ سے گریز کے باوجود دونوں ممالک ایک دوسرے پر دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ جنگ بندی اور سفارتی رابطوں نے فوری تصادم کے خطرات میں کمی کی ہے، تاہم جنوبی ایران، آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے میں عسکری سرگرمیوں کے باعث صورتحال اب بھی انتہائی حساس ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے تازہ بیانات کو ایرانی قیادت کی جانب سے ایک واضح سیاسی اور عسکری پیغام سمجھا جا رہا ہے کہ ایران خطے میں امریکی موجودگی کو محدود کرنے کے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔




