عیدالاضحیٰ کے لیے فول پروف سکیورٹی پلان جاری
395 مقامات پر نمازِ عید، دو ہزار کے قریب پولیس افسران و اہلکار ڈیوٹی انجام دیں گے
ڈاکٹر اصغر واہلہ-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
ضلع قصور میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی پولیس کی جانب سے فول پروف سکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ جامع سکیورٹی پلان بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کے مطابق عیدالاضحیٰ کے دوران ضلع بھر میں مساجد، امام بارگاہوں، عیدگاہوں اور کھلے مقامات سمیت مجموعی طور پر 395 مقامات پر نمازِ عید ادا کی جائے گی، جہاں شہریوں کی حفاظت کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ ملکی حالات اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ضلع بھر میں غیر معمولی حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ شہری عید کی خوشیاں پرامن ماحول میں منا سکیں۔
پولیس، ایلیٹ فورس، ٹریفک سٹاف اور رضا کار سکیورٹی پر مامور
ضلع قصور میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر تقریباً دو ہزار پولیس افسران اور اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔
سکیورٹی پلان کے مطابق:
- 01 ایس پی
- 08 ڈی ایس پیز
- 11 انسپکٹرز
- 238 اپر سب آرڈینیٹس
- 1200 کانسٹیبل اور لیڈی کانسٹیبلز
- ایلیٹ فورس
- ٹریفک پولیس
- رضا کار
عید کے اجتماعات، مویشی منڈیوں، بازاروں اور دیگر حساس مقامات پر اپنی خدمات انجام دیں گے۔
پولیس حکام کے مطابق حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ داخلی اور خارجی راستوں کی بھی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔
ایلیٹ فورس اور متعلقہ ایس ایچ اوز مسلسل گشت کریں گے
سکیورٹی پلان کے تحت عیدگاہوں، بڑی مساجد اور کھلے مقامات کے اطراف متعلقہ ایس ایچ اوز اور ایلیٹ فورس کے خصوصی گشت کا انتظام کیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق تمام اہم مقامات پر واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیکٹرز اور مشکوک افراد کی نگرانی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
ڈی پی او قصور Aftab Ahmed Phalrowan نے کہا کہ ضلعی پولیس کا ہر افسر اور اہلکار عوام الناس کی خدمت اور تحفظ کے لیے دن رات محنت کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
اہم شاہراہوں اور عیدگاہوں کے اطراف ٹریفک پولیس تعینات
عیدالاضحیٰ کے اجتماعات کے دوران ٹریفک کے بہاؤ کو رواں رکھنے کے لیے خصوصی ٹریفک پلان بھی تشکیل دیا گیا ہے۔
ٹریفک پولیس اہلکاروں کو عیدگاہوں، مرکزی شاہراہوں، بازاروں اور مویشی منڈیوں کے اطراف تعینات کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
پولیس حکام کے مطابق پارکنگ، ٹریفک ڈائیورژن اور رش والے علاقوں کی مسلسل نگرانی کی جائے گی جبکہ ایمرجنسی گاڑیوں کی آمد و رفت کے لیے بھی خصوصی راستے مختص کیے گئے ہیں۔
داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ جاری
عیدالاضحیٰ کے پیش نظر ضلع قصور کی مویشی منڈیوں، مارکیٹوں اور شاپنگ سینٹروں میں بھی سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
پولیس اور ایلیٹ فورس کے دستے مسلسل گشت کر رہے ہیں جبکہ مویشی منڈیوں کے داخلی و خارجی راستوں پر خصوصی پکٹس قائم کی گئی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق بیوپاریوں اور خریداروں کے تحفظ کے لیے موثر سنیپ چیکنگ جاری ہے تاکہ جرائم پیشہ عناصر، جیب تراشوں اور مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔
اس کے علاوہ اہم تجارتی مراکز اور مصروف شاہراہوں پر پولیس موبائلز اور ایلیٹ فورس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔
علما، تاجروں، صحافیوں اور شہریوں کو پولیس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ہدایت
ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان نے تمام مکاتبِ فکر کے علما، امن کمیٹیوں کے اراکین، عوامی نمائندوں، انجمن تاجران، صحافیوں، وکلا اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ عیدالاضحیٰ کے دوران امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لیے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
انہوں نے کہا کہ سماجی ہم آہنگی، بھائی چارے اور مشترکہ ذمہ داری کے ذریعے ہی عید کے موقع پر محفوظ اور پُرامن ماحول کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
ڈی پی او قصور نے شہریوں پر زور دیا کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا فرد کے بارے میں فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا ہیلپ لائن پر اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
“شہریوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے”
ضلعی پولیس کے مطابق عیدالاضحیٰ کے دوران تمام افسران و اہلکاروں کی چھٹیاں محدود کر دی گئی ہیں جبکہ حساس مقامات کی مسلسل مانیٹرنگ جاری رہے گی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں سرچ، کومبنگ اور ناکہ بندی کے عمل کو بھی مزید مؤثر بنایا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔
انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے دوران شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔



