عراق میں تربیتی مشق کے دوران امریکی اور برطانوی فوجی ہلاک، اتحادی افواج میں تشویش کی لہر
امریکی اور برطانوی فوجی حکام نے مشترکہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا واقعہ تکنیکی خرابی، انسانی غلطی یا کسی اور وجہ سے پیش آیا۔
اے پی ایف کے ساتھ
عراق کے شمالی نیم خودمختار کردستان ریجن میں واقع ایک فوجی اڈے پر مشترکہ تربیتی مشق کے دوران ایک امریکی اور ایک برطانوی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، تاہم ہلاکتوں کی وجوہات اور واقعے کی نوعیت کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی فوج نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ واقعہ اتوار کے روز اربیل کے فضائی اڈے پر پیش آیا، جہاں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک داعش کے خلاف جاری کارروائیوں اور مقامی سکیورٹی فورسز کی تربیت کے لیے اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ہلاک ہونے والے امریکی فوجی کی شناخت اس وقت تک ظاہر نہیں کی جائے گی جب تک اس کے اہل خانہ کو باضابطہ طور پر اطلاع دیے جانے کے بعد 24 گھنٹے مکمل نہیں ہو جاتے۔ امریکی فوج کے مطابق اس پالیسی کا مقصد اہل خانہ کی رازداری اور احترام کو یقینی بنانا ہے۔
دوسری جانب برطانیہ کی وزارت دفاع نے بھی ایک علیحدہ بیان میں اپنے فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ متوفی فوجی کے اہل خانہ کو اطلاع دے دی گئی ہے اور خاندان نے میڈیا اور عوام سے درخواست کی ہے کہ اس مشکل وقت میں ان کے سوگ اور رازداری کا احترام کیا جائے۔
برطانوی حکام نے مزید کہا کہ جب تک ابتدائی تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، واقعے کے بارے میں مزید معلومات جاری نہیں کی جائیں گی۔ وزارت دفاع نے ہلاک ہونے والے فوجی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اسے ایک پیشہ ور اور فرض شناس سپاہی قرار دیا۔
تربیتی مشق میں پیش آنے والا واقعہ
اگرچہ حکام نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ ہلاکتیں کس نوعیت کے حادثے یا واقعے کے نتیجے میں ہوئیں، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں فوجی ایک مشترکہ تربیتی سرگرمی میں شریک تھے۔ عسکری ماہرین کے مطابق بین الاقوامی فوجی مشقوں میں جدید ہتھیاروں، جنگی گاڑیوں، فضائی معاونت اور حقیقی جنگی حالات سے ملتی جلتی تربیت شامل ہوتی ہے، جس کے باعث حفاظتی اقدامات کے باوجود بعض اوقات حادثات رونما ہو سکتے ہیں۔
امریکی اور برطانوی فوجی حکام نے مشترکہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا واقعہ تکنیکی خرابی، انسانی غلطی یا کسی اور وجہ سے پیش آیا۔
عراق میں امریکی فوجی حکمت عملی
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکہ عراق میں اپنی فوجی موجودگی کو مرحلہ وار کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ داعش کے خلاف کئی برسوں پر محیط جنگ کے بعد واشنگٹن نے عراق میں اپنے فوجیوں کی تعداد محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم امریکی افواج اب بھی عراق کے مختلف حصوں خصوصاً کردستان ریجن میں موجود ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی موجودگی کا مقصد داعش کے باقی ماندہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں معاونت، مقامی فورسز کی تربیت اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق اربیل میں امریکی موجودگی صرف فوجی نوعیت کی نہیں بلکہ اس کے اہم سیاسی اور تزویراتی پہلو بھی ہیں۔
اربیل کی بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت
اربیل گزشتہ چند برسوں میں امریکہ کے لیے مشرق وسطیٰ کا ایک اہم سفارتی اور عسکری مرکز بن کر ابھرا ہے۔ دسمبر میں امریکہ نے اربیل میں اپنے نئے اور وسیع قونصل خانے کے کمپلیکس کا افتتاح کیا تھا، جسے خطے میں امریکی اثر و رسوخ کی علامت قرار دیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن کردستان ریجن کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے، کیونکہ یہ علاقہ عراق میں نسبتاً مستحکم اور مغربی اتحادیوں کے لیے قابل اعتماد شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں امریکی فوج کو درپیش نقصانات
عراق میں پیش آنے والا یہ واقعہ امریکی فوج کے لیے حالیہ ہفتوں کے دوران دوسرا بڑا سانحہ ہے۔ اس سے قبل مئی کے اوائل میں دو امریکی فوجی مراکش میں ایک سالانہ کثیرالملکی فوجی مشق کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق دونوں فوجی "افریقن لائن” نامی فوجی مشق میں شرکت کر رہے تھے اور ڈیوٹی سے فارغ وقت میں تفریحی پیدل سفر کے دوران ایک پہاڑی چٹان سے گر گئے تھے۔ بعد ازاں انہیں لاپتا قرار دیا گیا اور تلاش کے بعد ان کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔
ان واقعات نے بیرون ملک تعینات فوجیوں کی سلامتی، تربیتی سرگرمیوں کے دوران خطرات اور حفاظتی پروٹوکول کے مؤثر نفاذ کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
اتحادی افواج میں سوگ کی فضا
امریکی اور برطانوی فوجی قیادت نے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فوجیوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیت اور عزم کا مظاہرہ کیا۔
اتحادی افواج کے ترجمانوں کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔ فی الحال دونوں ممالک کی افواج اپنے ساتھیوں کی ہلاکت پر سوگوار ہیں جبکہ اہل خانہ اور ساتھی فوجیوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
عراق میں پیش آنے والا یہ افسوسناک واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جنگی محاذ سے دور تربیتی سرگرمیوں کے دوران بھی فوجی اہلکار مختلف خطرات سے دوچار رہتے ہیں اور فوجی مشقیں بعض اوقات جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔



