
ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے لیے پیش کیے گئے بجٹ میں اگرچہ سمندر پار پاکستانیوں کے لیے کوئی بڑا خصوصی پیکیج شامل نہیں کیا گیا، تاہم فنانس بل میں متعارف کرائی گئی متعدد قانونی اور ٹیکس اصلاحات کو اوورسیز پاکستانیوں کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدامات بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے مالیاتی مفادات کے تحفظ، ملکی بینکاری نظام پر اعتماد کی بحالی اور قانونی ذرائع سے سرمایہ پاکستان منتقل کرنے کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پاکستان کی معیشت میں سمندر پار پاکستانیوں کا کردار ہمیشہ سے انتہائی اہم رہا ہے۔ ہر سال بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اربوں ڈالر کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجتے ہیں، جو نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں بلکہ ملکی معیشت کے مختلف شعبوں کو بھی سہارا فراہم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بجٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے کسی نہ کسی نوعیت کے اقدامات متعارف کروائے جاتے ہیں۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کو قانونی شناخت اور تحفظ
فنانس بل 2026 کے تحت انکم ٹیکس قوانین میں ایک اہم ترمیم کرتے ہوئے اوورسیز پاکستانیوں کی مالیاتی شناخت کو روایتی شناختی دستاویزات جیسے نائیکوپ (NICOP) یا پاکستان اوریجن کارڈ (POC) کے بجائے براہِ راست اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی منظور شدہ مخصوص ڈیجیٹل بینکاری اسکیموں سے منسلک کر دیا گیا ہے۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اور دیگر ویلیو اکاؤنٹس کے ذریعے سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانیوں کے لیے ایک واضح قانونی فریم ورک مہیا کرنا ہے تاکہ ان کے مالیاتی معاملات میں غیر ضروری پیچیدگیوں اور قانونی ابہام کا خاتمہ ہو سکے۔
نئی پالیسی کے تحت فارن کرنسی ویلیو اکاؤنٹ، فارن کرنسی بزنس ویلیو اکاؤنٹ، نان ریزیڈنٹ روپی ویلیو اکاؤنٹ اور نان ریزیڈنٹ روپی بزنس ویلیو اکاؤنٹ رکھنے والے اوورسیز پاکستانیوں کو خصوصی قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
ٹیکس ریٹرن اور رجسٹریشن سے استثنیٰ
بجٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سب سے نمایاں سہولت انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے اور لازمی ٹیکس رجسٹریشن کی شرائط سے متعلق ہے۔
فنانس بل کے مطابق اگر کسی غیر مقیم پاکستانی کی پاکستان میں آمدنی صرف روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ یا اس سے منسلک مخصوص ویلیو اکاؤنٹس تک محدود ہے تو اس پر پاکستان میں انکم ٹیکس گوشوارہ جمع کرانے یا ایف بی آر کے ساتھ لازمی رجسٹریشن کروانے کی شرط لاگو نہیں ہوگی۔
معاشی ماہرین کے مطابق یہ اقدام ان لاکھوں پاکستانیوں کے لیے اطمینان کا باعث بن سکتا ہے جو ایف بی آر کے پیچیدہ نظام، آڈٹ نوٹسز اور دیگر قانونی پیچیدگیوں کے خدشات کے باعث پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریز کرتے رہے ہیں۔
کن آمدنیوں کو خصوصی تحفظ حاصل ہوگا؟
نئے قانون کے تحت حکومت نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور دیگر منظور شدہ ویلیو اکاؤنٹس کے ذریعے حاصل ہونے والی مختلف اقسام کی آمدنی کو خصوصی تحفظ فراہم کیا ہے۔
ان میں شامل ہیں:
- بینک ڈپازٹس پر حاصل ہونے والا منافع
- نیا پاکستان سرٹیفکیٹس اور دیگر حکومتی سیکیورٹیز سے حاصل شدہ منافع
- شریعت کے مطابق سرمایہ کاری اسکیموں سے حاصل ہونے والی آمدنی
- پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری سے ملنے والے ڈیویڈنڈ
- میوچل فنڈز سے حاصل ہونے والا منافع
- انہی بینکاری ذرائع سے خریدی گئی جائیداد کی فروخت پر حاصل ہونے والا کیپیٹل گین
قانونی ماہرین کے مطابق اس اقدام کے بعد ایف بی آر یا دیگر متعلقہ ادارے ان اکاؤنٹس کو عام مقامی اکاؤنٹس کی طرح زیرِ تفتیش نہیں لا سکیں گے، جس سے اوورسیز پاکستانیوں کو قانونی تحفظ اور اعتماد حاصل ہوگا۔
سرمایہ بیرونِ ملک منتقل کرنے میں آسانی
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے پاکستان میں حاصل ہونے والے منافع اور سرمایہ کو قانونی طور پر بیرونِ ملک منتقل کرنا مزید آسان اور محفوظ ہو جائے گا۔
اس سے نہ صرف سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ پروگرام کے ذریعے آنے والی ترسیلات اور سرمایہ کاری کے حجم میں بھی اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔
بیرونی کارڈ ٹرانزیکشنز پر ٹیکس میں بڑی کمی
بجٹ 2026-27 میں بیرونِ ملک سفر کرنے والوں اور بین الاقوامی آن لائن لین دین کرنے والے پاکستانیوں کے لیے بھی ایک اہم ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
حکومت نے بیرونِ ملک ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے استعمال یا بین الاقوامی آن لائن ادائیگیوں پر عائد پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کو کم کر کے صرف 0.5 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں، طلبہ، کاروباری افراد اور سیاحوں کو نمایاں مالی فائدہ پہنچے گا جبکہ بین الاقوامی ادائیگیوں کی لاگت میں بھی خاطر خواہ کمی آئے گی۔
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ریلیف
وفاقی حکومت نے رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو فعال بنانے کے لیے بھی کئی اقدامات متعارف کروائے ہیں جن سے اوورسیز پاکستانیوں کو براہِ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
بجٹ کے تحت فائلرز کے لیے:
- جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔
- جائیداد کی فروخت پر ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں دلچسپی بڑھ سکتی ہے اور جائیداد کی خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں کی توقعات پوری نہ ہو سکیں
اگرچہ بجٹ میں متعدد اہم قانونی اور مالیاتی سہولتیں شامل کی گئی ہیں، تاہم بہت سے اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے جن بڑے اقدامات کی توقع کی جا رہی تھی، وہ اس بجٹ کا حصہ نہیں بن سکے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق:
- قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر بھیجنے والوں کے لیے کوئی نیا مراعاتی پیکیج متعارف نہیں کرایا گیا۔
- نان فائلر اوورسیز پاکستانیوں کے لیے جائیداد کی خریداری میں کوئی خصوصی رعایت شامل نہیں کی گئی۔
- بیرونِ ملک سے گاڑیوں، الیکٹرانکس یا دیگر اشیا کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی میں کسی نئی چھوٹ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
- اوورسیز پاکستانیوں کے لیے کسی الگ سرمایہ کاری فنڈ یا خصوصی رہائشی اسکیم کا بھی اعلان سامنے نہیں آیا۔
ماہرین کی رائے
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ بجٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے کوئی بڑا مالیاتی پیکیج موجود نہیں، تاہم روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کو قانونی تحفظ، ٹیکس ریٹرن سے استثنیٰ، بین الاقوامی کارڈ ٹرانزیکشنز پر ٹیکس میں نمایاں کمی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ٹیکس ریلیف ایسے اقدامات ہیں جو طویل المدتی بنیادوں پر مثبت اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مستقبل میں ترسیلاتِ زر بڑھانے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مزید سہولتوں کا اعلان کرتی ہے تو اس سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی معیشت کو بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم ہو سکے گی۔
ترسیلاتِ زر اور سرمایہ کاری کے فروغ کی نئی کوشش
اقتصادی حلقوں کا خیال ہے کہ حکومت کی جانب سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے لیے متعارف کرائی گئی نئی قانونی ضمانتیں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے اعتماد میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔ اگر ان اصلاحات پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کیا گیا تو آنے والے برسوں میں اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری، بینکاری سرگرمیوں اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں دلچسپی مزید بڑھنے کے امکانات روشن ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔



