مشرق وسطیٰتازہ ترین

ایران-امریکہ امن معاہدے میں لبنان جنگ کا خاتمہ مرکزی نکتہ قرار، عباس عراقچی کی اہم بریفنگ

"ہماری نظر میں اس مفاہمتی یادداشت کے دو فریق ہیں۔ ایک جانب امریکہ اور اسرائیل ہیں جبکہ دوسری جانب ایران اور حزب اللہ۔"

ڈی پی اے ،اے ایف پی کے ساتھ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی اور امن مفاہمت کے حوالے سے طے پانے والے معاہدے میں سب سے اہم شق لبنان میں جاری جنگ کا فوری اور مستقل خاتمہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے، بالخصوص لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر بھی مرتب ہوں گے۔

غیر ملکی سفارت کاروں کو خصوصی بریفنگ

تہران میں غیر ملکی سفارت کاروں کے لیے منعقدہ خصوصی بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران اس معاہدے کو دو فریقوں کے درمیان ایک وسیع تر مفاہمت کے طور پر دیکھتا ہے۔انہوں نے کہا:

"ہماری نظر میں اس مفاہمتی یادداشت کے دو فریق ہیں۔ ایک جانب امریکہ اور اسرائیل ہیں جبکہ دوسری جانب ایران اور حزب اللہ۔”

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق معاہدے کی بنیادی روح یہ ہے کہ خطے کے تمام محاذوں پر جاری عسکری سرگرمیوں کو فوری طور پر روکا جائے اور ایک پائیدار جنگ بندی قائم کی جائے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ اس مفاہمت کا سب سے اہم اور بنیادی جزو ہے، کیونکہ موجودہ بحران نے نہ صرف لبنان بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کو خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔


لبنان جنگ کیسے شروع ہوئی؟

لبنان میں حالیہ جنگ کا آغاز دو مارچ 2026 کو ہوا تھا۔ اس سے قبل 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی کارروائیوں کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر حزب اللہ نے لبنان سے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ حملے شروع کیے، جس کے جواب میں اسرائیل نے وسیع پیمانے پر فضائی اور زمینی کارروائیاں شروع کر دیں۔ابتدائی راکٹ حملوں کے بعد اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا اور بعد ازاں زمینی دستے بھی سرحد عبور کرکے لبنانی علاقے میں داخل ہوگئے۔


جنوبی لبنان میں اسرائیلی پیش قدمی

اسرائیلی فوج نے جنگ کے دوران جنوبی لبنان میں ایک وسیع سکیورٹی زون قائم کیا، جس کا مقصد سرحدی علاقوں سے حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں کو محدود کرنا بتایا گیا۔

اسرائیلی فوج اب بھی جنوبی لبنان کے مختلف حصوں میں موجود ہے اور تل ابیب کا مؤقف ہے کہ سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اس کی فوجی موجودگی ضروری ہے۔اسرائیلی حکام کے مطابق جنوبی لبنان سے فوری انخلا کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور فوج اپنی "نقل و حرکت کی آزادی” برقرار رکھے گی۔


انسانی بحران مزید سنگین

لبنان میں جاری جنگ نے ایک بڑے انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔لبنانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں اب تک تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی ہیں۔جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جس سے لبنان کو ایک نئے پناہ گزین اور انسانی امداد کے بحران کا سامنا ہے۔بین الاقوامی امدادی اداروں نے متعدد بار خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو لبنان کے صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔


امن معاہدے کے بعد محاذوں پر خاموشی

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد خطے میں نسبتاً سکون دیکھا جا رہا ہے۔اسرائیل اور حزب اللہ دونوں نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایک دوسرے پر بڑے حملوں سے گریز کیا ہے، جسے سفارتی حلقے مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ جنگ بندی برقرار رہی تو لبنان میں کئی ماہ سے جاری شدید لڑائی کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔


نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان اختلافات؟

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کی شب بالواسطہ طور پر اشارہ دیا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کے معاملے پر ان کی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ ہر معاملے میں مکمل طور پر یکساں نہیں ہے۔

ان کے بیان کو اسرائیل کے اندر اس بحث کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ آیا ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمت اسرائیل کی طویل المدتی سلامتی کے مفادات سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔اسرائیلی سیاسی حلقوں میں بعض رہنما اس معاہدے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کا موقع قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض اسے ایران اور اس کے اتحادیوں کو سفارتی فائدہ پہنچانے کی کوشش سمجھتے ہیں۔


پاکستان کا سفارتی کردار بھی نمایاں

علاقائی سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ بحران کے دوران پاکستان نے بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے متعدد سفارتی رابطے کیے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورۂ اسلام آباد اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقاتوں کو بھی خطے میں امن کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتا رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات کا حل مذاکرات، سفارت کاری اور سیاسی مفاہمت کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔


مستقبل کا منظرنامہ

ماہرین کے مطابق ایران-امریکہ مفاہمتی یادداشت کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا لبنان، غزہ اور دیگر علاقائی محاذوں پر جنگ بندی کو مستقل شکل دی جا سکتی ہے یا نہیں۔

اگر اسرائیل اور حزب اللہ موجودہ خاموشی کو برقرار رکھتے ہیں اور سفارتی مذاکرات آگے بڑھتے ہیں تو مشرق وسطیٰ ایک بڑے فوجی تصادم سے بچ سکتا ہے۔ تاہم جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کی موجودگی، حزب اللہ کی عسکری صلاحیت اور ایران-اسرائیل رقابت جیسے عوامل اب بھی خطے کے امن کے لیے اہم چیلنجز تصور کیے جا رہے ہیں۔

خلاصہ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کر دیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ امن مفاہمت کا بنیادی مقصد صرف دو ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنا نہیں بلکہ لبنان سمیت تمام علاقائی محاذوں پر جنگ کا مستقل خاتمہ یقینی بنانا ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر جنگ بندی کے مثبت آثار سامنے آئے ہیں، تاہم جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی موجودگی اور خطے کے پیچیدہ سیاسی و عسکری حقائق اس امن عمل کے مستقبل کا تعین کریں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button