بین الاقوامیاہم خبریں

چین اور یورپی یونین میں ممکنہ تجارتی جنگ کا خدشہ

چین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یورپی یونین نے تحفظ پسندانہ پالیسیوں کو مزید سخت کیا، تو بیجنگ جوابی اقدامات بھی کر سکتا ہے۔

اے ایف پی کے ساتھ

برسلز نے چینی الیکٹرک گاڑیوں، ای کامرس پلیٹ فارمز اور دیگر مصنوعات کے خلاف حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں، جن سے چین اور یورپی یونین کے مابین تجارتی جنگ کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

یورپی کمیشن نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ چین کے ساتھ یورپی یونین کا تجارتی خسارہ ”ناقابلِ برداشت‘‘ سطح تک پہنچ چکا ہے۔ یوروسٹیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق صرف اپریل 2026 میں یہ خسارہ تقریباً 37 بلین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

یورپی کمشنر برائے تجارت کے مطابق،”چین کے ساتھ ہمارے تجارتی تعلقات ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ازسرنو توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا مقصد محاذ آرائی نہیں بلکہ تجارتی توازن کی بحالی ہے۔‘‘

چین نے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی حمایت کی ہے۔ یورپی یونین میں چین کے سفیر سائی رون نے کہا کہ بیجنگ یورپی خدشات سے پوری طرح آگاہ ہے۔ ان کے مطابق چین نے جان بوجھ کر کبھی ٹریڈ سرپلس حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اور وہ اس مسئلے کے حل کے لیے تیار ہے۔

چین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یورپی یونین نے تحفظ پسندانہ پالیسیوں کو مزید سخت کیا، تو بیجنگ جوابی اقدامات بھی کر سکتا ہے۔

چین اس الزام کو مسترد کرتا ہے کہ اس کی کمپنیوں کی عالمی کامیابی بڑے پیمانے پر سرکاری سبسڈیز کا نتیجہ ہے۔ بیجنگ کے مطابق اس کامیابی کی وجہ جدت، بڑے پیمانے پر پیداوار اور مضبوط صنعتی بنیاد ہیں۔

چین سے آنے والے مال بردار کنٹینرز 16 جولائی 2018 کو جرمنی کے شہر ڈوئسبرگ میں واقعڈی آئی ٹی کے مختلف ٹرمینلز کے درمیان منتقل کیے جا رہے ہیں
چین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یورپی یونین نے ”انڈسٹریل ایکسلریشن بل‘‘ منظور کیا تو بیجنگ جوابی اقدامات کرے گاتصویر: Maja Hitij/Getty Images

دوطرفہ تعلقات اس وقت کس مقام پر؟

رواں سال یورپی یونین اور چین کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے ہیں کیونکہ برسلز نے چینی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے قانونی اقدامات متعارف کرانے کی کوشش کی ہے۔

یورپی یونین کو خدشہ ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں، کیمیائی صنعت اور گرین ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چینی کمپنیوں کی بالادستی یورپی صنعتوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

برسلز یہ بھی مطالبہ کر رہا ہے کہ یورپی کمپنیوں کو چینی منڈی تک زیادہ رسائی دی جائے کیونکہ اس کے مطابق چین یورپی اداروں کو وہی سہولیات فراہم نہیں کرتا جو چینی کمپنیوں کو یورپ میں حاصل ہیں۔

چین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یورپی یونین نے ”انڈسٹریل ایکسلریشن بل‘‘ منظور کیا تو بیجنگ جوابی اقدامات کرے گا۔ اس بل کے تحت یورپ سے باہر تیار شدہ بعض مصنوعات کو سرکاری خریداری کے عمل سے خارج کیا جا سکتا ہے اور یورپی کمپنیوں کو خرید لینے پر پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔

یاد رہے کہ 2024 سے یورپ کو برآمد کی جانے والی چینی الیکٹرک گاڑیوں پر اضافی کسٹم ڈیوٹیز بھی عائد ہیں۔

چین سے آنے والے مال بردار کنٹینرز 16 جولائی 2018 کی اس تصویر میں جرمنی کے شہر ڈوئسبرگ میں واقع ڈی آئی ٹی ٹرمنلز پر نظر آ رہے ہیں
یورپی یونین اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ دونوں فریقوں کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کر رہا ہےتصویر: Maja Hitij/Getty Images

تجارتی جنگ کے امکانات کتنے؟

شنگھائی میں قائم چائنہ یورپ انٹرنیشنل بزنس اسکول کے پروفیسر شو ڈنگبو کے مطابق، ”جذبات اس وقت بہت شدید اور غیر مستحکم ہیں۔ یورپی یونین اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کا خطرہ حقیقی ہے۔‘‘

یورپی تھنک ٹینک ژاک دیلور انسٹیٹیوٹ کی تجارتی امور کی ماہر ایلویر فابری کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے عزم کا اظہار کریں اور طاقت کا توازن قائم کریں۔

تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ تصادم کے بجائے مفاہمت دونوں فریقوں کے مفاد میں ہے۔

چائنہ یورپ انٹرنیشنل بزنس اسکول کے ماہر اقتصادیات ژو تیان کے مطابق، ”کشیدگی میں اضافے سے کسی کو فائدہ نہیں ہو گا۔ یورپ کو زیادہ لاگت اور سبز معیشت کی جانب منتقلی میں سست روی کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ چین ایک اہم منڈی تک رسائی کھو سکتا ہے۔‘‘

6 جولائی 2010 کی اس فائل تصویر میں مزدور شمالی چین میں واقع کمیاب معدنیات  کی کان میں بھاری مشینری کے ذریعے کھدائی کرتے نظر آ رہے ہیں
یورپی یونین کو خاص طور پر خدشہ ہے کہ چین کمیاب معدنیات کی برآمدات محدود کر سکتا ہے، جو جدید ٹیکنالوجی کی صنعتوں کے لیے انتہائی اہم ہیںتصویر: AP Photo/AP Images/picture alliance

چین کا ممکنہ ردعمل

اگر یورپی یونین نے مزید سخت اقدامات کیے، تو چین کے پاس متعدد جوابی امکانات موجود ہیں۔ ژو تیان کے مطابق چین اینٹی ڈمپنگ تحقیقات شروع کر سکتا ہے، ریگولیٹری نگرانی سخت کر سکتا ہے، مخصوص شعبوں میں پابندیاں عائد کر سکتا ہے یا سیاسی طور پر حساس یورپی مصنوعات کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

ماضی میں بیجنگ یورپ میں بننے والی ایک شراب پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز عائد کر چکا ہے جبکہ وہ سؤر کے گوشت اور ڈیری کی یورپی مصنوعات کے خلاف تحقیقات بھی کر چکا ہے۔

اس بار یورپی یونین کو خاص طور پر خدشہ ہے کہ چین کمیاب معدنیات کی برآمدات محدود کر سکتا ہے، جو جدید ٹیکنالوجی کی صنعتوں کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق چین کا ردعمل ممکنہ طور پر متوازن ہو گا، یعنی اتنا ضرور کہ یورپ کو پیغام مل جائے کہ اسے اپنے اقدامات کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے، لیکن اتنا شدید نہیں کہ دونوں کے تعلقات مکمل طور پر خراب ہو جائیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button