
پاکستان کے صوبہ پنجاب لاہور میں نولکھا پریسبیٹیرین چرچ میں مذہبی رواداری کی عظیم مثال
نولکھا چرچ کیجانب سے جلوس اور مجلس عزاء کے زائرین کے لئے ناشتہ کا اہتمام کیا گیا ،آرچ بشپ ڈاکٹر آزاد مارشل ، مولانا عاصم مخدوم ، مفتی عاشق حسین اور دیگر کی شرکت
ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
محرم الحرام کے مقدس ایام میں امن، بھائی چارے، مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے عزم کے تحت نولکھا پریسبیٹیرین چرچ لاہور میں "محرم یکجہتی ناشتہ” کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب میں مختلف مذاہب، مکاتبِ فکر اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی اور ملک میں امن، استحکام اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔
تقریب کی میزبانی ریورنڈ ڈاکٹر مجید ایبل نے کی جبکہ اس موقع پر آرچ بشپ ڈاکٹر آزاد مارشل، چیئرمین کل مسالک بورڈ مولانا عاصم مخدوم، فادر جیمز چنن، مفتی عاشق حسین، پادری کھوکھر، عمانوایل پرویز بھٹی، مفتی انتخاب نوری، ڈاکٹر بدر منیر، ساجد کرسٹوفر، علامہ اصغر چشتی، پروفیسر سہیل احمد اور اہل تشیع سمیت مختلف مذہبی و سماجی طبقات کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کا مقصد محرم الحرام کے دوران بین المذاہب ہم آہنگی، باہمی احترام اور اتحاد و یکجہتی کے جذبے کو فروغ دینا تھا تاکہ مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد مل کر امن اور رواداری کا پیغام عام کر سکیں۔
محرم الحرام انسانیت، صبر اور قربانی کا درس دیتا ہے، ریورنڈ ڈاکٹر مجید ایبل
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریورنڈ ڈاکٹر مجید ایبل نے کہا کہ محرم الحرام محض ایک مذہبی واقعہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے صبر، قربانی، محبت، ایثار اور حق و انصاف کے اصولوں کی یاد دہانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی قربانیاں ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف ڈٹ جانے کا عظیم پیغام دیتی ہیں، جو ہر دور کے انسان کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

ریورنڈ ڈاکٹر مجید ایبل نے کہا کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا ایک ہی چھت تلے جمع ہو کر امن اور بھائی چارے کا پیغام دینا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے عوام مذہبی تنوع کے باوجود محبت، احترام اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کا قیام صرف حکومت یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ایسے بین المذاہب پروگرام معاشرے میں برداشت اور یکجہتی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
بین المذاہب مکالمہ قومی ہم آہنگی کی بنیاد ہے، آرچ بشپ آزاد مارشل
پاکستان کی مسیحی برادری کے ممتاز مذہبی رہنما آرچ بشپ ڈاکٹر آزاد مارشل نے اپنے خطاب میں کہا کہ مختلف مذاہب کے درمیان مکالمہ، باہمی احترام اور مشترکہ تقریبات ایک مضبوط، پرامن اور متحد معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مختلف مذاہب، ثقافتوں اور روایات کا خوبصورت گلدستہ ہے اور اس تنوع کو قومی طاقت میں تبدیل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آرچ بشپ آزاد مارشل نے کہا کہ محرم یکجہتی ناشتہ جیسی تقریبات معاشرے میں موجود غلط فہمیوں کو دور کرنے، اعتماد پیدا کرنے اور مختلف برادریوں کے درمیان محبت اور بھائی چارے کے رشتوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
محبت، احترام اور مکالمے کے ذریعے امن کا فروغ ممکن ہے، فادر جیمز چنن
معروف مسیحی رہنما فادر جیمز چنن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مختلف مذاہب کے نمائندوں کے درمیان مسلسل مکالمہ اور تعاون انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن کا قیام صرف نعروں سے ممکن نہیں بلکہ عملی اقدامات، باہمی احترام اور ایک دوسرے کے عقائد کے احترام سے ہی حقیقی سماجی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔
فادر جیمز چنن نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران بین المذاہب تقریبات اس امر کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کے عوام امن اور محبت کے مشترکہ پیغام پر یقین رکھتے ہیں۔
امام حسینؓ کی قربانی پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے
چیئرمین کل مسالک بورڈ مولانا عاصم مخدوم اور مفتی عاشق حسین نے اپنے خطابات میں حضرت امام حسینؓ کی عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ واقعۂ کربلا حق، سچائی، استقامت اور انصاف کی سربلندی کی ایک لازوال مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ نے ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق کے لیے اپنی جان اور اپنے خاندان کی قربانی پیش کی، جس کا پیغام آج بھی پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
علمائے کرام نے تمام مکاتبِ فکر سے اپیل کی کہ وہ محرم الحرام کے دوران اتحاد، برداشت، رواداری اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ دیں اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی یا فرقہ وارانہ کشیدگی سے اجتناب کریں۔
مذہبی قائدین کا کردار وقت کی اہم ضرورت
پروفیسر سہیل احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے علماء، مذہبی قائدین، تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں برداشت، احترام اور رواداری کی اقدار کو فروغ دینے کے لیے مختلف طبقات کے درمیان رابطوں اور مشترکہ سرگرمیوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔
ان کے مطابق مذہبی قائدین معاشرے میں امن اور اتحاد کے سفیر کا کردار ادا کر سکتے ہیں اور نوجوان نسل کو نفرت کے بجائے محبت، خدمت اور قومی یکجہتی کا پیغام دے سکتے ہیں۔
قومی یکجہتی اور امن کے لیے مشترکہ عزم
تقریب کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو درپیش سماجی اور مذہبی چیلنجز کا مقابلہ صرف اتحاد، برداشت اور بین المذاہب تعاون کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر کے درمیان مثبت روابط اور مکالمے کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ معاشرے میں امن، استحکام اور باہمی احترام کی فضا مضبوط ہو سکے۔
خصوصی دعاؤں کے ساتھ تقریب کا اختتام
تقریب کے اختتام پر ملک کی سلامتی، استحکام، قومی یکجہتی، بین المذاہب ہم آہنگی اور محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
شرکاء نے دعا کی کہ پاکستان ترقی، خوشحالی اور امن کی راہ پر گامزن رہے اور تمام مذاہب و مکاتبِ فکر کے ماننے والے باہمی احترام، محبت اور بھائی چارے کے ساتھ مل کر ایک مضبوط اور پرامن معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔
محرم یکجہتی ناشتہ کی یہ تقریب اس بات کا عملی مظہر تھی کہ پاکستان میں مختلف مذاہب اور عقائد سے تعلق رکھنے والے افراد قومی یکجہتی، مذہبی رواداری اور انسانی اقدار کے فروغ کے لیے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو سکتے ہیں، جو ملک میں پائیدار امن اور سماجی ہم آہنگی کے قیام کے لیے نہایت حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔



