
By Voice of Germany Urdu News Team
برلن: جرمنی میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز رویوں، امتیازی سلوک اور تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے ملک میں مذہبی ہم آہنگی، سماجی یکجہتی اور انسانی حقوق کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ اسلام دشمنی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات کی نگرانی کرنے والے نیٹ ورک CLAIM کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس ملک بھر میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے ہزاروں واقعات سامنے آئے، جن میں سینکڑوں پرتشدد حملے بھی شامل ہیں۔
برلن میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران CLAIM کی منتظم ریما حنانو نے رپورٹ کے اہم نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی میں اسلاموفوبیا محض انفرادی رویوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک ایسا سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے جو مسلمانوں کی روزمرہ زندگی، ان کے تحفظ اور بنیادی حقوق کو براہ راست متاثر کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سال 2024 کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی 4,096 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ ان واقعات میں 214 جسمانی تشدد کے کیسز شامل تھے، جن میں متاثرین کو زبانی دھمکیوں، جسمانی حملوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ متاثرین کی ایک بڑی تعداد مختلف وجوہات کی بنا پر شکایات درج ہی نہیں کراتی۔ ماہرین کے مطابق خوف، عدم اعتماد اور ممکنہ ردعمل کے خدشات کے باعث متعدد مسلمان ایسے واقعات کو رپورٹ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
اسکولوں اور سرکاری اداروں میں امتیازی سلوک
رپورٹ کے مطابق اسلام مخالف رویے صرف عوامی مقامات تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر اور بعض اوقات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ معاملات میں بھی سامنے آ رہے ہیں۔
متاثرہ خاندانوں نے شکایت کی کہ ان کے بچوں کو اسکولوں میں مذہبی شناخت کی بنیاد پر تضحیک، تعصب اور امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی والدین نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر وہ باضابطہ شکایت درج کرائیں تو ان کے بچوں کے خلاف مزید منفی رویے یا انتقامی اقدامات سامنے آ سکتے ہیں، جس کے باعث وہ خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی خاموشی اصل مسئلے کی سنگینی کو چھپا دیتی ہے، حالانکہ متاثرین پر اس کے نفسیاتی اور سماجی اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
خوف اور بے یقینی کی فضا
CLAIM کی رپورٹ کے مطابق جرمنی میں مسلم کمیونٹی کے اندر خوف، بے یقینی اور مایوسی کے جذبات بڑھتے جا رہے ہیں۔ بہت سے مسلمان شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مذہبی شناخت کے باعث خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
ماہرین نفسیات کے مطابق بار بار نفرت انگیز رویوں، امتیازی سلوک اور سماجی دباؤ کا سامنا کرنے والے افراد میں ذہنی دباؤ، اضطراب، اعتماد میں کمی اور سماجی تنہائی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ نے خبردار کیا کہ اگر اس رجحان کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
اعداد و شمار کا پس منظر
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2024 کے دوران جرمنی کی 16 وفاقی ریاستوں میں سے 13 ریاستوں میں قائم 26 مشاورتی مراکز نے مسلمانوں کے خلاف 3,080 واقعات ریکارڈ کیے تھے، جبکہ تازہ سروے میں حصہ لینے والے مراکز کی تعداد بڑھ کر 15 ریاستوں میں 38 مراکز تک پہنچ گئی ہے۔
اس وجہ سے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دونوں برسوں کے اعداد و شمار کا براہ راست موازنہ کرتے وقت احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ رپورٹنگ کے نظام اور نگرانی کے دائرہ کار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اس کے باوجود ادارے کا مؤقف ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں حقیقی اضافہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔
ماہرین کی تشویش
انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم، مہاجرین کے مسائل، انتہا پسند بیانیے اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہمات اسلاموفوبیا میں اضافے کی اہم وجوہات بن رہی ہیں۔
انہوں نے جرمن حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نفرت انگیز جرائم کی روک تھام، متاثرین کے تحفظ، آگاہی مہمات اور بین المذاہب مکالمے کو فروغ دینے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ تمام شہریوں کو بلا امتیاز مساوی حقوق اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نتیجہ
CLAIM کی تازہ رپورٹ جرمنی میں مسلمانوں کو درپیش چیلنجز کی ایک سنجیدہ تصویر پیش کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسلاموفوبیا صرف چند انفرادی واقعات کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا سماجی رجحان بنتا جا رہا ہے جو مسلم کمیونٹی کے احساسِ تحفظ، سماجی شمولیت اور بنیادی انسانی حقوق کو متاثر کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومتی اداروں، تعلیمی مراکز، سول سوسائٹی اور عوام کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ جرمنی میں ایک زیادہ محفوظ، مساوی اور ہم آہنگ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔




