پاکستاناہم خبریں

چین اور پاکستان کا اقوام متحدہ میں مشترکہ اقدام، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اہم اجلاس کا انعقاد

سلامتی کونسل کی ساکھ اور عالمی امن کے لیے قراردادوں پر مؤثر عمل درآمد ناگزیر قرار

مدثر احمد-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

نیویارک: چین اور پاکستان نے مشترکہ طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت ایک اہم ارریا فارمولہ اجلاس (Arria-Formula Meeting) کا انعقاد کیا، جس میں سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مکمل، مؤثر اور غیر امتیازی عمل درآمد کے حوالے سے درپیش چیلنجز اور ان کے حل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس نے رکن ممالک کو ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں عالمی امن و سلامتی کے قیام میں سلامتی کونسل کے فیصلوں کی مؤثر عملداری کو یقینی بنانے کے لیے مختلف تجاویز اور سفارشات پیش کی گئیں۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سیاسی اعلانات نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت قانونی حیثیت کی حامل ذمہ داریاں ہیں، جن پر عمل درآمد عالمی امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام اور عالمی ماہرین کی بریفنگ

اجلاس کو اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل خالد خیری، سلامتی کونسل رپورٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر شمالہ کنڈیا اور انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے سینئر عہدیدار رچرڈ گوون نے بریفنگ دی۔

مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ سلامتی کونسل کی ساکھ، اختیار اور مؤثریت کا انحصار اس کی قراردادوں کے نفاذ پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ قراردادوں کے ساتھ حقیقت پسندانہ مینڈیٹس، واضح عمل درآمدی حکمت عملی، مؤثر نگرانی، باقاعدہ رپورٹنگ، مناسب وسائل، سیاسی عزم اور مضبوط فالو اپ میکانزم موجود ہونا چاہیے تاکہ کونسل کے فیصلے عملی اقدامات میں تبدیل ہو سکیں۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ قراردادوں پر عدم عمل درآمد یا انتخابی عملداری نہ صرف تنازعات کو طول دیتی ہے بلکہ اقوام متحدہ کے ادارہ جاتی وقار اور عالمی اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہے۔

پاکستان کا مؤقف: قراردادوں پر عمل درآمد قانونی ذمہ داری ہے

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل نمائندے برائے اقوام متحدہ، عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں صرف نیک خواہشات کا اظہار نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت قانونی ذمہ داریاں ہیں جن پر عمل درآمد ہر رکن ملک کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ قراردادوں پر انتخابی انداز میں عمل یا ان کے نفاذ میں طویل تاخیر سلامتی کونسل کے اختیار اور ساکھ کو کمزور کرتی ہے، جبکہ حل طلب تنازعات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں اور متاثرہ آبادیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔

جموں و کشمیر اور فلسطین کا معاملہ اجاگر

پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب میں خاص طور پر جموں و کشمیر اور فلسطین کے تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کے باوجود ان مسائل کا حل نہ نکلنا عالمی نظام کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے تنازعے سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث ایک اہم بین الاقوامی تنازعہ آج بھی حل طلب ہے، جس کے اثرات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن و سلامتی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے سیاسی غیر یقینی صورتحال اور انسانی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

پاکستان کی عملی تجاویز

پاکستان نے اجلاس میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مؤثر نفاذ کے لیے متعدد عملی تجاویز بھی پیش کیں۔

ان تجاویز میں:

  • غیر نافذ شدہ اور جزوی طور پر نافذ شدہ قراردادوں کا سالانہ جائزہ
  • عمل درآمد کے واضح اور قابل عمل روڈ میپس کی تشکیل
  • مضبوط نگرانی اور فالو اپ میکانزم
  • سیکرٹری جنرل کے "گڈ آفسز” کے کردار کو مزید فعال بنانا
  • امن مشنز اور علاقائی انتظامات کو سلامتی کونسل کے فیصلوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا

شامل ہیں۔

پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ ان اقدامات سے سلامتی کونسل کے فیصلوں کو زمینی حقائق میں تبدیل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

رکن ممالک کا خیرمقدم اور حمایت

اجلاس میں شریک سلامتی کونسل کے اراکین اور اقوام متحدہ کے دیگر رکن ممالک نے چین اور پاکستان کے اس مشترکہ اقدام کا خیرمقدم کیا اور اسے ایک بروقت اور تعمیری سفارتی کاوش قرار دیا۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ سلامتی کونسل کے فیصلے حقیقت پسندانہ، قابل عمل اور مؤثر ہونے چاہئیں، جبکہ ان کی کامیابی کے لیے مستقل سفارت کاری، بروقت رپورٹنگ، باقاعدہ جائزہ اور مناسب وسائل کی فراہمی بھی ضروری ہے۔

متعدد مندوبین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سلامتی کونسل کی مؤثریت کا اصل پیمانہ اس کی قراردادوں کے نفاذ میں پوشیدہ ہے، لہٰذا عمل درآمد کے نظام کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

عالمی امن کے لیے مؤثر عمل درآمد ناگزیر

اجلاس کے اختتام پر اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مؤثر عمل درآمد ہی عالمی امن و سلامتی کے قیام، تنازعات کے حل اور اقوام متحدہ کے نظام پر عالمی اعتماد کی بحالی کی بنیاد ہے۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ سلامتی کونسل کو اپنے فیصلوں کے نفاذ میں مستقل مزاجی، شفافیت، غیر جانبداری اور مضبوط سیاسی عزم کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ عالمی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

چین اور پاکستان کا کثیرالجہتی نظام سے وابستگی کا اعادہ

اجلاس کے انعقاد کے ذریعے چین اور پاکستان نے ایک بار پھر کثیرالجہتی نظام، اقوام متحدہ کے چارٹر، عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کے اختیارات کے احترام کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اجلاس نہ صرف سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے بلکہ عالمی تنازعات کے حل اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کے فروغ کی جانب ایک مثبت قدم بھی تصور کیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button