
جب معیارِ زندگی بقا میں بدلنے لگے!………سید عاطف ندیم
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پورا پاکستانی معاشرہ یکساں مشکلات کا شکار ہے۔ ملک میں ایسے طبقات بھی موجود ہیں جن کی آمدنی، کاروبار یا اثاثوں پر موجودہ معاشی بحران کے اثرات نسبتاً کم پڑے ہیں
پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں معاشی اشاریوں میں معمولی بہتری کے دعوے اور عام شہری کی روزمرہ زندگی کے تجربات ایک دوسرے سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف حکومتی حلقے مالیاتی نظم و ضبط، مہنگائی میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاہدوں کو معاشی استحکام کی علامت قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایک بڑی تعداد، خصوصاً متوسط طبقہ، اپنی قوتِ خرید میں مسلسل کمی، محدود ہوتے معاشی مواقع اور گرتے ہوئے معیارِ زندگی کا شکوہ کرتی نظر آتی ہے۔ یہی تضاد اس وقت پاکستان کے معاشی اور سماجی منظرنامے کو سمجھنے کے لیے سب سے اہم نقطۂ آغاز ہے۔
پاکستان میں طویل عرصے تک متوسط طبقہ معاشی ترقی، شہری توسیع، نجی شعبے کی ملازمتوں، تعلیم اور خدمات کے شعبے کی ترقی کے باعث نسبتاً مضبوط ہوا۔ اس طبقے نے نہ صرف ملکی معیشت میں کھپت (Consumption) کو بڑھایا بلکہ نجی تعلیمی اداروں، صحت کی سہولیات، رہائشی منصوبوں، بینکنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت اور ریٹیل سیکٹر کی ترقی میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ لیکن حالیہ برسوں میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، بلند شرح سود اور محدود معاشی سرگرمیوں نے اسی طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔
آج پاکستان میں "نارمل زندگی” کی تعریف پہلے جیسی نہیں رہی۔ ماضی میں معیاری تعلیم، مناسب علاج، خاندان کے ساتھ کبھی کبھار باہر کھانا، سال میں ایک مرتبہ سیر و تفریح، بچوں کی غیر نصابی سرگرمیوں میں شرکت اور ایک باوقار طرزِ زندگی کو متوسط طبقے کا معمول سمجھا جانے لگا تھا۔ اگرچہ یہ سہولتیں ہر شہری کو میسر نہیں تھیں، لیکن شہری متوسط طبقے کا ایک نمایاں حصہ انہیں اپنی محنت کا فطری نتیجہ سمجھنے لگا تھا۔ اب یہی معمول بہت سے خاندانوں کے لیے دوبارہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ لوگ صرف اخراجات کم نہیں کر رہے بلکہ اپنی زندگی کے تصور کو بھی محدود کرنے پر مجبور ہیں۔
معاشی ماہرین اس صورتحال کو صرف مہنگائی کا مسئلہ نہیں بلکہ قوتِ خرید کے بحران سے تعبیر کرتے ہیں۔ جب تنخواہوں میں اضافہ مہنگائی کی رفتار سے کم ہو، جب روزگار کے نئے مواقع محدود ہوں اور جب بنیادی خدمات کی لاگت مسلسل بڑھتی رہے تو بظاہر آمدنی برقرار رہنے کے باوجود حقیقی آمدنی کم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے خاندان اپنی ضروریات کی فہرست ازسرِ نو ترتیب دے رہے ہیں۔ پہلے تفریح ختم ہوتی ہے، پھر سفر، اس کے بعد غیر نصابی سرگرمیاں، پھر علاج اور آخرکار تعلیم کے معیار پر بھی سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک خاموش مگر گہرا معاشی انحطاط ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پورا پاکستانی معاشرہ یکساں مشکلات کا شکار ہے۔ ملک میں ایسے طبقات بھی موجود ہیں جن کی آمدنی، کاروبار یا اثاثوں پر موجودہ معاشی بحران کے اثرات نسبتاً کم پڑے ہیں۔ اسی طرح بڑے شہروں کے کیفے، شاپنگ مالز اور مہنگے ریسٹورنٹس میں موجود رش بھی بظاہر خوشحالی کا تاثر دیتا ہے، لیکن معاشی تجزیے کے اعتبار سے ان مقامات پر آنے والے افراد پورے معاشرے کی نمائندگی نہیں کرتے۔ پاکستان کی اکثریت ان سہولتوں تک رسائی نہیں رکھتی، جبکہ متوسط طبقے کا ایک بڑا حصہ بھی اب ایسی سرگرمیوں کو محدود کرتا جا رہا ہے۔
سماجیات کے ماہرین کے مطابق انسان کے لیے اس سہولت سے محروم ہونا زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے جس کا وہ پہلے تجربہ کر چکا ہو۔ جس خاندان نے اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دی ہو، انہیں سیر و تفریح کے مواقع فراہم کیے ہوں، اچھی صحت کی سہولیات حاصل کی ہوں، اس کے لیے ان تمام چیزوں سے دستبردار ہونا محض مالی فیصلہ نہیں بلکہ ایک نفسیاتی صدمہ بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے متوسط طبقے میں بڑھتا ہوا اضطراب صرف موجودہ مشکلات کی وجہ سے نہیں بلکہ مستقبل کے خوف کی وجہ سے بھی ہے۔
متوسط طبقے کی سب سے بڑی تشویش یہ نہیں کہ وہ آج زندہ رہ سکے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ اپنے بچوں کو وہ مواقع فراہم کر سکے گا جو اسے خود کبھی حاصل تھے۔ والدین کے لیے اپنے بچوں کو کم معیار کے اسکول میں منتقل کرنا، نجی اسپتال کے بجائے محدود علاج پر اکتفا کرنا یا غیر نصابی سرگرمیاں ختم کرنا محض اخراجات میں کمی نہیں بلکہ سماجی حیثیت، خوابوں اور مستقبل کے امکانات میں کمی کا احساس بھی پیدا کرتا ہے۔
معاشی بحران کے نفسیاتی اثرات اکثر معاشی اعدادوشمار میں نظر نہیں آتے۔ مستقل مالی دباؤ ذہنی صحت، خاندانی تعلقات اور سماجی رویوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جب خاندان ہر مہینے صرف بل ادا کرنے اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہو جائیں تو زندگی میں امید، تخلیقی سرگرمیوں اور سماجی روابط کے لیے جگہ کم ہوتی جاتی ہے۔ نفسیات کے ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال میں اضطراب، بے خوابی، چڑچڑاپن، ڈپریشن اور احساسِ محرومی جیسے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں نوجوان طبقہ اس بحران کا ایک اور اہم متاثرہ فریق ہے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار کے محدود مواقع، کم تنخواہیں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نوجوانوں میں غیر یقینی کیفیت پیدا کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونِ ملک ملازمت، تعلیم اور مستقل ہجرت کی خواہش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اگر یہ رجحان مسلسل بڑھتا رہا تو ملک کو انسانی سرمائے کے نقصان، جسے "برین ڈرین” کہا جاتا ہے، کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے طویل المدتی اثرات معیشت، تحقیق، صنعت اور قومی ترقی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
معاشی دباؤ کا ایک پہلو سماجی اعتماد سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جب لوگ یہ محسوس کریں کہ محنت کے باوجود ان کا معیارِ زندگی بہتر نہیں ہو رہا، یا معاشی مواقع محدود ہیں، تو ریاست، اداروں اور مستقبل پر اعتماد کمزور پڑ سکتا ہے۔ یہ کیفیت سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور مجموعی معاشی ماحول کو بھی متاثر کرتی ہے۔ تاہم اس صورتحال کی شدت مختلف علاقوں، شعبوں اور آمدنی کے طبقات میں مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے پورے معاشرے کے بارے میں یکساں نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا۔
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ موجودہ معاشی پالیسیاں عوامی سطح پر فوری ریلیف فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں، جبکہ حکومت کا مؤقف یہ رہا ہے کہ سخت معاشی فیصلے مالی استحکام، قرضوں کے انتظام اور طویل المدتی بحالی کے لیے ضروری تھے۔ حقیقت شاید ان دونوں مؤقفوں کے درمیان موجود ہے۔ معاشی استحکام کے اشاریے بہتر ہونا اہم ہیں، لیکن اگر ان کے فوائد عام شہری تک بروقت منتقل نہ ہوں تو عوامی سطح پر معاشی بہتری کا احساس پیدا نہیں ہوتا۔
بین الاقوامی تعلقات اور بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی عوام میں مختلف توقعات پائی جاتی ہیں۔ بعض حلقے یہ امید رکھتے ہیں کہ دفاعی، تجارتی یا سفارتی معاہدے فوری مالی فوائد یا بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا باعث بنیں گے، جبکہ عملی طور پر ایسے معاہدوں کے نتائج اکثر کئی عوامل پر منحصر ہوتے ہیں اور ان کے معاشی اثرات فوری طور پر ظاہر ہونا ضروری نہیں ہوتے۔ اس لیے کسی ایک معاہدے یا سفارتی پیش رفت سے فوری معاشی ریلیف کی توقع ہمیشہ حقیقت پسندانہ نہیں ہوتی۔
اگر موجودہ معاشی دباؤ طویل عرصے تک برقرار رہا تو اس کے ممکنہ اثرات صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی بھی ہو سکتے ہیں۔ متوسط طبقے کا سکڑنا کھپت میں کمی، نجی سرمایہ کاری میں سست روی، انسانی سرمائے پر کم اخراجات، نوجوانوں کی ہجرت اور سماجی بے چینی جیسے رجحانات کو تقویت دے سکتا ہے۔ اسی طرح غربت میں اضافے کی صورت میں جرائم، غیر رسمی معیشت اور سماجی مسائل میں اضافے کے خدشات بھی زیر بحث آتے ہیں، اگرچہ ان کا انحصار قانون کی حکمرانی، روزگار، سماجی تحفظ اور دیگر عوامل پر بھی ہوتا ہے۔
پاکستان کے لیے اصل چیلنج صرف مہنگائی کو کم کرنا نہیں بلکہ متوسط طبقے کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ ایک مضبوط متوسط طبقہ کسی بھی ملک میں معاشی استحکام، سیاسی اعتدال، ٹیکس وصولی، سرمایہ کاری، تعلیم اور سماجی ترقی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہی طبقہ مسلسل کمزور ہوتا جائے تو معیشت کی بحالی مشکل ہو جاتی ہے، کیونکہ کھپت کم ہوتی ہے، سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے اور انسانی وسائل کی ترقی سست پڑ جاتی ہے۔
اس صورتحال سے نکلنے کے لیے محض قلیل مدتی مالیاتی اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ پائیدار معاشی اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، صنعت اور چھوٹے کاروباروں کی حوصلہ افزائی، روزگار کی تخلیق، منصفانہ ٹیکس نظام، تعلیم اور صحت میں زیادہ سرمایہ کاری، اور پالیسیوں میں تسلسل ناگزیر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کے ایسے پروگرام بھی ضروری ہیں جو صرف انتہائی غریب طبقے ہی نہیں بلکہ دباؤ کا شکار متوسط طبقے کو بھی سہارا دے سکیں۔
پاکستان کی آئندہ معاشی سمت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کیا ریاست، نجی شعبہ اور معاشرہ مل کر ایسا ماحول پیدا کر سکتے ہیں جہاں ایک عام شہری کو یہ یقین ہو کہ اس کی محنت اسے صرف زندہ رہنے کے قابل نہیں بلکہ باوقار، محفوظ اور بہتر زندگی کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔ کسی بھی معاشرے کی حقیقی کامیابی صرف اس میں نہیں کہ اس کے شہری بقا کی جنگ جیت جائیں، بلکہ اس میں ہے کہ وہ امید، وقار، مواقع اور ترقی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ یہی وہ امتحان ہے جس سے پاکستان اس وقت گزر رہا ہے، اور اسی کا نتیجہ آنے والے برسوں میں ملک کے معاشی اور سماجی مستقبل کا تعین کرے گا۔

