کالمزناصف اعوان

شملہ معاہدہ ،بھٹو کی سفارتی فتح ۔۔!! پیر مشتاق رضوی

صرف 883 مربع کلومیٹرکے چار اسٹریٹیجک علاقوں ترتوک، دھو تھانگ، تیاگشی، چالونکا۔ پر اپنا غاصبانہ قبضہ برقرار رکھا

1971ء کی پاک بھارت جنگ میں مشرقی پاکستان میں بھارت نے بنگالی باغیوں "مکتی باہنی”کا ساتھ دیا اور فوجی مداخلت کی بھارت کی مداخلت فیصلہ کن ثابت ہوئی اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن کر الگ ہو گیاجنگ کے بعد بھارت کے پاس90 ہزار سے زائد پاکستانی جنگی قیدی اور 13,000مربع کلومیٹر پاکستانی علاقہ تھا اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو شملہ گئے تاکہ قیدیوں کی رہائی اور علاقے کی واپسی کا "باعزت معاہدہ” کر سکیں اس موقع پر2 جولائی 1972ھ شملہ معاہدہ ہواجب پوری قوم ایک کڑے امتحان سے گزر رہی تھی ذوالفقار علی بھٹو نے مذاکرات کی میز پر پاکستان کا مقدمہ قومی وقار، تدبر اور جرات کے ساتھ لڑا۔شملہ معاہدہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک اہم باب ثابت ہوا، جہاں قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اہم کامیابیاں حاصل کی گئیں۔90 ہزار سے زائد پاکستانی پاک فوج کے جنگی قیدیوں کی باعزت واپسی ممکن ہوئی اور پانچ ہزار مربع میل مقبوضہ پاکستانی علاقے بھارت سے واپس حاصل کیااس تاریخی معاہدے کا اھم پاک بھارت کیے مابین تنازعات اور محاذ آرائی کو ختم کر کے تعلقات معمول پر لانا تھااس حوالے سے دونوں ممالک نے طے کیا کہ کشمیر سمیت تمام تنازعات دو طرفہ بات چیت سے حل ہوں گے 1971ء کی جنگ بندی لائن کو لائن آف کنٹرول (LOC) کا نام دیا گیا۔ دونوں ممالک نے وعدہ کیا کہ اسے یکطرفہ تبدیل نہیں کریں گے دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت کا احترام اور طاقت کے استعمال سے گریز کرنے کا عہد کیا بھٹو کا کامیاب سفارتکاری کے نتیجہ میں بھارت نے پاکستان کے 90ہزار جنگی قیدی رہا کیےاور بھارت نے 13,000 مربع کلومیٹر میں سے زیادہ تر علاقہ واپس کیا لیکن ترتوک، دھوتھانگ، تیاگشی اور چالونکا جیسے چند اسٹریٹیجک علاقے اپنے پاس رکھے واضح رہے کہ یہ معاہدہ 1971ء کی جنگ کا باضابطہ خاتمہ تھا۔ بھارت آج بھی اس معاہدے کی آڑ میں گمراہ کن پروپگنڈہ کرتا ہے کہ "کشمیر کا مسئلہ دو طرفہ ہے”،جبکہ شملہ معاہدے میں کشمیر کے حتمی حل یا جنگی قیدیوں کے علاوہ دیگر مسائل پر تفصیل سے بات نہیں ہوئی تھی، اس لیے وہ بعد کے لیے رہ گئے 1971ء کی جنگ کے بعد پاکستان کی پوزیشن بہت کمزور تھی۔ بھٹو شملہ "شکست خوردہ” ملک کے سربراہ کی حیثیت سے گئے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے شملہ میں اپنی ذھانت کامیاب مذکرات کرکے ہار کو جیت میں بدل دیا تھاجبکہ پاکستان کا ایک بازو کٹ چکا تھا بھٹو ذلت اور رسوائی سے نکال پاکستان کے قومی وقار کو۔بحال کیا ملکی سلامتی کا احیاء کیابھارت کے پاس 1971ء کی جنگ کے 90 ہزار سے زائد پاکستانی قیدی تھے۔ بھٹو نے ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ منوا لیا۔ اگر یہ قیدی نہ چھوٹتے تو پاکستان کی فوجی قوت اور قومی حمیت پر بہت لمبا بوجھ رہتا۔بھارتی فوج نے جنگ میں 13,000 مربع کلومیٹر سے زائد پاکستانی علاقہ قبضے میں لے لیا تھا۔بھارت نے زیادہ تر علاقہ واپس کر دیا۔ صرف 883 مربع کلومیٹرکے چار اسٹریٹیجک علاقوں ترتوک، دھو تھانگ، تیاگشی، چالونکا۔ پر اپنا غاصبانہ قبضہ برقرار رکھا بھٹو کے مخالفین کہتے ہیں علاقہ زیادہ ملنا چاہیے تھا، لیکناس وقت کی پوزیشن میں مکمل واپسی بہت مشکل تھی۔ بھارت بنگلہ دیش کو تسلیم کروانے کا راستہ ہموار کی لیکن امعاہدے کے بعد بھارت نے وعدہ کیا کہ وہ پاکستان پر بنگلہ دیش کو فوری تسلیم کرنے کا دباؤ نہیں ڈالے گا۔ پاکستان کو باعزت طریقے سے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے لیے وقت اور سفارتی گنجائش ملی 1971ء کی عارضی جنگ بندی لائن کو لائن آف کا نام دیا گیا۔اس سے مغربی محاذ پر فوری طور پر ایک مستحکم سرحد بن گئی اور بڑی جنگ کا خطرہ ٹل گیا بھٹو نےمعاہدے کو "باعزت امن” کے طور پر پیش کیا۔پاکستان جنگ ہارنے کے بعد بھی مکمل طور پر سفارتی طور پر تنہا نہیں ہوا۔ اس نے مذاکرات کی میز پر کھڑے ہو کر باقی ماندہ پاکستان کو بچا لیا۔ جبکہ بھٹو کے مخالفین کا کہنا تھا کہ انہوں نے کشمیر کا مسئلہ "دو طرفہ” بنا کر بین الاقوامی فورم سے ہٹا دیا۔ اس لیے آج بھی بھارت اسی شق کا حوالہ دیتا ہے۔ بھٹو جنگ ہار چکے تھے، لیکن شملہ میں انہوں نے قیدی، زمین اور وقت بچا کر پاکستان کو مکمل تباہی سے نکالا۔ اس لیے اسے”شکست میں کامیابی” بھی کہا جاتا ہے یہ حقیقت ہے کہ معاہدہ شملہ بھٹو کی سفارتکاری کا عالمی کارنامہ تھا بھٹو نے بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ساتھ رات 12:40 بجے تک مذاکرات کیےان کی ذاتی کرشماتی شخصیت اور "دوست بن کر” بات کرنے کے انداز کو عالمی میڈیا نے سراہا۔اس لیے بہت سے لوگ اسے "شکست کے جبڑے سے امن چھین لینا” کہتے ہیں۔ اس کے بر عکس ناقدین کا موقف ہے کہ بھٹو نے کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ سے نکال کر "دو طرفہ مسئلہ” بنا دیا۔ بھارت آج تک اسی شق کو استعمال کر کے تیسرے فریق کو روکتا ہے۔ اس معاہدے نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کی راہ ہموار کر دی۔ ناقدین کے نزدیک یہ پاکستان کی "جغرافیائی ٹوٹ پھوٹ” پر مہر تھی یہ معاہدہ صرف دو ممالک کے درمیان تھا۔ اقوام متحدہ یا کسی بڑی طاقت کی ضمانت نہیں تھی۔ اسی لیے 1999ء میں کارگل جنگ بھی ہوئی۔ حالانکہ عالمی سطح پرشملہ معاہدہ جنگ کے بعد امن کا ایک کلاسک کیس سٹڈی ہے۔ اسے دنیا کی یونیورسٹیوں میں "Defeated Power کی Negotiation” کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ کارنامہ بھی تھا اور مجبوری بھی۔ بھٹو کے پاس جنگ جیتنے کا آپشن نہیں تھا، صرف نقصان کم کرنے کا تھا۔ اس لحاظ سے انہوں نے بہترین سودا کیا۔ بھٹو نے 1971ء کی شکست کو 2جولائی 1972ء کی”سفارتی فتح” میں تبدیل کر دیا۔ بعدا اذاں بھارت نے شملہ کی ‘شملہ کی روح” کو توڑا ڈالا پاکستان کے سرد جنگ اور محاذ آرائی جاری رکھی دروازے بند کر دیۓ اس دوران سب سے بڑا تصادم سیاچن 1984ء میں ہواجبکہ شملہ معاہدے میں "سیاچن گلیشئر”کا ذکر نہیں تھا کیونکہ وہ "No Man’s Land” تھا۔ 1984ءمیں بھارت نے”آپریشن میگدوت” کر کے پورا سیاچن قبضے میں لے لیا یہ شملہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے کارگل جنگ 1999، کے بعد پلوامہ 2019، بالا کوٹ سے لیکر 2026ء تک بھارت نے فالس فلیگ فوجی آپریشنز کیے۔2016ء کا "سرجیکل سٹرائیک” بھی اسی میں آتا ہے۔ اسی تسلسل میں 2025 ءپاکستان پر باقاعدہ حملہ کیا بھارت نے علاقائی سالمیت کا احترام کبھی نہ کیا 5 اگست 2019ءبھارت نے آرٹیکل 370 ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت یکطرفہ بدل دی۔ پاکستان کہتا ہے یہ LoC کی روح کے خلاف تھا۔2019ء کے بعد پرامن دو طرفہ مذاکرات کے بھارت "دو طرفہ حل” کی آڑ میں اور "LoC” کی شق کو پکڑتا ہے۔ باقی چھوڑ دیتا ہے پاکستان”امن، مذاکرات اور سالمیت” والی روح کو پکڑتا ہے۔ دو طرفہ شق کو UN کے ساتھ جوڑتا ہے۔: بھارت شملہ کو "کشمیر کو بین الاقوامی بننے سے روکنے کے ڈھال” کے طور پر استعمال کر رہا ہے، لیکن "امن” والے حصے پر عمل نہیں کر رہا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button