بین الاقوامیاہم خبریں

خامنہ ای کے تین بیٹوں کی نماز جنازہ میں شرکت، جانشین مجتبیٰ خامنہ ای منظرِ عام پر نہ آئے

دوسری جانب بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای سکیورٹی خدشات کے باعث عوامی تقریبات سے گریز کر رہے ہیں

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز، اے ایف پی، ڈی پی اے، روئٹرز کے ساتھ

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری سطح پر جاری آخری رسومات کے دوران اتوار کو ایک اہم منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب ان کے تین بیٹے مصطفیٰ، میثم اور مسعود خامنہ ای نماز جنازہ میں شریک ہوئے، تاہم ان کے جانشین اور نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای تقریب میں نظر نہیں آئے، جس کے بعد ان کی صحت اور سکیورٹی سے متعلق قیاس آرائیاں مزید شدت اختیار کر گئی ہیں۔

تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں منعقدہ نماز جنازہ میں لاکھوں سوگواروں نے شرکت کی۔ سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں مصطفیٰ، میثم اور مسعود خامنہ ای کو اپنے والد کے تابوت کے قریب کھڑے ہو کر نماز جنازہ ادا کرتے دیکھا گیا، جبکہ ایرانی صدر، پارلیمنٹ کے اسپیکر، اعلیٰ فوجی قیادت، مذہبی شخصیات اور متعدد غیر ملکی وفود بھی اس موقع پر موجود تھے۔

ایک ہفتے پر محیط سرکاری آخری رسومات

ایرانی حکومت نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کو قومی سطح پر اتحاد، استقامت اور انقلابی وابستگی کی علامت قرار دیا ہے۔ سرکاری شیڈول کے مطابق چھ روزہ اور بعض تقریبات میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی ان رسومات کے دوران میت کو تہران، قم، عراق کے مقدس شیعہ شہروں نجف اور کربلا سے گزارنے کے بعد مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

جنازے سے قبل خامنہ ای کے تابوت کو ایک روز تک امام خمینی گرینڈ مصلیٰ کے اندرونی ہال میں رکھا گیا، جہاں اعلیٰ حکومتی شخصیات، سفارتی وفود اور مذہبی رہنماؤں نے تعزیت کی۔ بعد ازاں تابوت کو عوامی دیدار کے لیے مرکزی صحن میں منتقل کر دیا گیا، جہاں ہزاروں افراد نے آخری دیدار کیا۔

خاندان کے دیگر افراد کے تابوت بھی ساتھ رکھے گئے

نماز جنازہ کے موقع پر آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ ان کی بیٹی، داماد، بہو اور صرف 14 ماہ کی نواسی کے تابوت بھی رکھے گئے، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ ان تابوتوں کی موجودگی نے جنازے کے ماحول کو مزید رنج و الم سے بھر دیا اور کئی شرکاء آبدیدہ دکھائی دیے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی

جنازے کی سب سے نمایاں بات نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی رہی۔ سرکاری طور پر ان کی غیر حاضری کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم مختلف بین الاقوامی ذرائع کے مطابق وہ فروری میں ہونے والے فضائی حملے میں زخمی ہوئے تھے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں ان کے چہرے کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ایک یا دونوں ٹانگوں پر بھی سنگین زخم آئے تھے۔ ان اطلاعات کی ایرانی حکومت نے باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی، جس کے باعث ان کی صحت اور عوامی منظر سے دور رہنے کی وجوہات پر مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

دوسری جانب بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای سکیورٹی خدشات کے باعث عوامی تقریبات سے گریز کر رہے ہیں، کیونکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ کے بعد ملک کی اعلیٰ قیادت کو غیر معمولی حفاظتی انتظامات فراہم کیے جا رہے ہیں۔

عوامی اجتماع اور سخت سکیورٹی

نماز جنازہ اور تعزیتی اجتماعات کے دوران تہران میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ مرکزی شاہراہیں بند رہیں جبکہ ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔ جنازے میں شریک افراد نے ایرانی پرچم، خامنہ ای کی تصاویر اور مزاحمتی تنظیموں کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔

قیادت کے استحکام کا پیغام

سیاسی مبصرین کے مطابق ایرانی قیادت اس وسیع جنازے کو صرف مذہبی تقریب نہیں بلکہ ریاستی طاقت، سیاسی استحکام اور قومی اتحاد کے مظاہرے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اندرون اور بیرون ملک یہ پیغام دیا جائے کہ سپریم لیڈر کی وفات کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران کا نظام مضبوط اور فعال ہے۔

آئندہ کیا ہوگا؟

ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں سب سے اہم سوال یہی ہوگا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کب پہلی مرتبہ عوام کے سامنے آتے ہیں اور آیا ان کی صحت سے متعلق جاری افواہوں کی سرکاری سطح پر وضاحت کی جاتی ہے یا نہیں۔ ان کی عوامی عدم موجودگی نے ایران کی نئی قیادت، سکیورٹی صورتحال اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر عالمی توجہ مرکوز کر دی ہے، جبکہ ملک میں جاری آخری رسومات کو خطے کی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

اگر چاہیں تو میں اس خبر کے لیے SEO فرینڈلی ہیڈ لائن، یوٹیوب ڈسکرپشن، تھمب نیل ٹیکسٹ اور 20 SEO کی ورڈز بھی تیار کر سکتا ہوں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button