پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

پاکستان میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، تاوان اور جنسی تشدد کیس میں اہم پیش رفت، لاہور پولیس تحقیقات جاری رکھے گی، 8 ملزمان گرفتار

پریس کانفرنس کے دوران پولیس نے ملزمان، استعمال ہونے والی گاڑیوں، مختلف مقامات اور تفتیش کے دوران جمع کیے گئے شواہد کی تصاویر بھی میڈیا کے سامنے پیش کیں۔

شیخ جعفر محمود-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

لاہور: ڈی آئی جی فیصل کامران کی مبینہ غیر ملکی لڑکیوں کے اغوا اور جنسی زیادتی سے متعلق کیس پر ہونے والی پریس کانفرنس ایک ایسا موقع تھا جہاں صحافیوں کی اولین ترجیح عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے سخت، جامع اور حقائق پر مبنی سوالات ہونا چاہیے تھے۔ یہ وہ معاملہ ہے جس پر نہ صرف ملک بلکہ بیرونِ ملک بھی نظریں جمی ہوئی ہیں، اس لیے ہر سوال کا محور تحقیقات کی پیش رفت، دستیاب شواہد، ممکنہ ملزمان، متاثرین کے تحفظ اور آئندہ قانونی کارروائی ہونا چاہیے تھا۔

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، تاوان اور جنسی تشدد کے ہائی پروفائل مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے ایک تفصیلی پریس کانفرنس میں کیس کی تحقیقات، ملزمان کی گرفتاریوں، متاثرہ خواتین کی بازیابی اور آئندہ قانونی کارروائی کے حوالے سے تفصیلات جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ مقدمہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کو منتقل نہیں کیا جا رہا بلکہ لاہور پولیس ہی اس کی تفتیش مکمل کرے گی۔

پریس کانفرنس کے دوران پولیس نے ملزمان، استعمال ہونے والی گاڑیوں، مختلف مقامات اور تفتیش کے دوران جمع کیے گئے شواہد کی تصاویر بھی میڈیا کے سامنے پیش کیں۔ ڈی آئی جی فیصل کامران کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی حساس نوعیت کا مقدمہ تھا، اس لیے ابتدائی مرحلے میں معلومات کو محدود رکھا گیا تاکہ تحقیقات متاثر نہ ہوں۔ ان کے مطابق اب کیس کی بنیادی کارروائی مکمل ہونے کے بعد حقائق عوام کے سامنے لائے جا رہے ہیں۔

اسپین سے موصول ہونے والی ہنگامی کال سے تحقیقات کا آغاز

ڈی آئی جی فیصل کامران کے مطابق یکم جولائی کو دوپہر 12 بج کر 40 منٹ پر پولیس ہیلپ لائن 15 پر پہلی اطلاع موصول ہوئی۔ یہ کال اسپین سے متاثرہ خاتون کے والد کارلوس نے کی، جنہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی اور اس کی ساتھی کو پاکستان میں مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا ہے اور اغوا کار انہیں قتل کر کے لاشوں کے ٹکڑے کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کے والد نے اغوا کاروں کی جانب سے کی گئی کال کی ویڈیو اور تاوان سے متعلق آڈیو ریکارڈنگ بھی پولیس کو فراہم کی۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ اس وقت اسپین کی پولیس بھی متاثرہ خاندان کے ساتھ موجود تھی اور انہی کی موجودگی میں پاکستان میں ہنگامی نمبر پر رابطہ کیا گیا۔

ابتدائی تحقیقات اور ملزمان تک رسائی

پولیس کے مطابق دونوں غیر ملکی خواتین 29 جون کو لاہور پہنچی تھیں۔ ابتدائی معلومات میں صرف اتنا معلوم تھا کہ انہیں پاکستان کس شخص نے مدعو کیا تھا اور ایئرپورٹ سے انہیں لینے والی گاڑی کا رجسٹریشن نمبر کیا تھا۔

فیصل کامران کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے دوران تین مختلف مقامات کی نشاندہی کی گئی، جہاں بیک وقت پولیس کارروائیاں کی گئیں۔ گاڑی کے مالک کا موبائل نمبر حاصل کیا گیا، تاہم وہ بند تھا۔ اس کے بعد اس کے رشتہ داروں کے نمبرز، رہائشی پتے اور دیگر معلومات اکٹھی کی گئیں۔

متاثرہ خاتون کے والد کی جانب سے فراہم کی گئی گاڑی کی تصویر اور لوکیشن ڈیٹا کی مدد سے پولیس مرکزی ملزم محمد احمد رضا ڈار تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔

سرگودھا سے لاہور تک چھاپے

ڈی آئی جی کے مطابق پہلا چھاپہ سرگودھا میں مارا گیا، جس کے بعد پولیس لاہور کے علاقے ڈیفنس میں واقع ایک رہائش گاہ پر پہنچی۔

انہوں نے بتایا کہ گھر کے مکینوں نے پولیس کو بتایا کہ چند افراد مختصر عرصے کے لیے یہ مکان کرائے پر لے کر رہتے رہے اور بعد میں وہاں سے جا چکے ہیں۔ مکینوں نے یہ تاثر بھی دیا کہ ان افراد کا تعلق ایک اہم حکومتی شخصیت کے خاندان سے ہے۔

پولیس کے مطابق اس اطلاع کے بعد متعلقہ خاندان سے رابطہ کیا گیا، ان سے معلومات حاصل کی گئیں اور تفتیش کو مزید آگے بڑھایا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات

فیصل کامران نے بتایا کہ جیسے ہی معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب کے نوٹس میں آیا، انہوں نے ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرنے کی ہدایت دی۔

ڈی آئی جی کے مطابق وزیراعلیٰ نے واضح طور پر کہا کہ اگر کسی بااثر شخصیت یا اس کے رشتہ دار کا نام بھی سامنے آئے تو قانون کے مطابق بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے خود فون کر کے ہدایت دی کہ مقدمے کی تحقیقات سو فیصد میرٹ پر کی جائیں اور کسی قسم کا سیاسی یا سماجی دباؤ قبول نہ کیا جائے۔

پولیس کا مؤقف: بھاری تاوان کا مطالبہ

پولیس کے مطابق ملزمان نے متاثرہ خواتین کے اہل خانہ سے 15 لاکھ ڈالر تاوان طلب کیا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں کی شناخت اور ان کی تفصیلات متاثرہ خاتون کے والد نے بھی فراہم کیں، تاہم تحقیقات کے مفاد میں ابتدائی مرحلے پر میڈیا کو تمام معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

فیصل کامران نے پریس کانفرنس کے دوران اعتراف کیا کہ خواتین کی بازیابی کے وقت ڈیوٹی مجسٹریٹ سے فوری رابطہ ممکن نہ ہو سکا، جس پر ایس ایچ او کو موقع پر بھیجا گیا۔

انہوں نے اس معاملے پر عدلیہ سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال غیر معمولی تھی، تاہم مستقبل میں قانونی تقاضوں پر مزید سختی سے عمل کیا جائے گا۔

سفارتی تعاون

چونکہ پاکستان میں وینزویلا کا سفارت خانہ موجود نہیں، اس لیے پولیس نے متاثرہ خاتون کے حوالے سے ڈچ سفارت خانے سے رابطہ رکھا۔

ڈی آئی جی کے مطابق دونوں خواتین کے فضائی ٹکٹ تبدیل کرانے کے اخراجات لاہور پولیس نے برداشت کیے، جبکہ ان کے عدالتی بیانات ریکارڈ کراتے وقت ڈچ آنریری قونصل جنرل بھی عدالت میں موجود تھے۔

پولیس کے مطابق دونوں خواتین نے لاہور پولیس کے رویے پر اطمینان کا اظہار کیا اور پاکستان سے روانگی کے وقت یادگار کے طور پر پاکستان کا قومی پرچم بھی اپنے ساتھ لے گئیں۔

آٹھ ملزمان گرفتار

ڈی آئی جی فیصل کامران کے مطابق بازیابی کے آخری مرحلے میں خواتین لاہور کے ایک مقام، جسے پولیس نے "فلٹر ہاؤس” قرار دیا، پہنچیں جہاں اے ایس پی ڈیفنس موقع پر پہنچے۔

بعد ازاں ایس پی کینٹ نے مرکزی ملزم محمد احمد رضا ڈار کو گرفتار کیا۔

انہوں نے بتایا کہ مقدمے میں "باس” کے نام سے شناخت کیے جانے والے شخص کی شناخت وحید کے نام سے ہوئی، جسے بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے مسلح ساتھیوں اور مزید چار افراد کی گرفتاری کے بعد مجموعی طور پر آٹھ ملزمان پولیس کی تحویل میں ہیں۔

پولیس کے مطابق جس شخص پر جنسی زیادتی کا الزام ہے وہ بھی گرفتار ہے جبکہ مبینہ دھمکیاں دینے والے ملزم کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

کیس لاہور پولیس ہی تفتیش کرے گی

ایک سوال کے جواب میں فیصل کامران نے واضح کیا کہ مقدمہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر میں شامل دفعات کے تحت لاہور پولیس خود ہی مقدمے کی تفتیش مکمل کرے گی اور چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

پولیس کے مطابق دونوں متاثرہ خواتین نے فوجداری ضابطہ کار کی دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیانات بھی ریکارڈ کرائے ہیں۔

بیان کے مطابق نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی خاتون نے کہا کہ ان کی محمد احمد رضا ڈار سے اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں ملاقات ہوئی تھی، جہاں دونوں کے درمیان کاروباری شراکت داری قائم ہوئی۔

خاتون کے مطابق ملزم نے خود کو ایک صوبائی وزیر کا بیٹا ظاہر کیا اور سرمایہ کاری کے مواقع دکھانے کے بہانے انہیں اور ان کی ساتھی کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔

بیان کے مطابق ابتدائی چند روز اسلام آباد اور مری میں ملاقاتوں اور سیاحت کے بعد انہیں لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ایک رہائش گاہ پر لے جایا گیا، جہاں ان کے مطابق مسلح افراد پہلے سے موجود تھے۔

متاثرہ خواتین نے اپنے عدالتی بیانات میں الزام عائد کیا کہ انہیں زبردستی قید رکھا گیا، ان پر تشدد کیا گیا، اہل خانہ سے تاوان طلب کرنے کے لیے مجبور کیا گیا، اور ان کے ساتھ جنسی تشدد کیا گیا۔ دونوں خواتین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے موبائل فون استعمال کر کے کرپٹو کرنسی والٹس سے رقوم بھی منتقل کی گئیں۔

ان الزامات کی آزادانہ عدالتی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے اور مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

متاثرہ خواتین کے مطابق یکم جولائی کو مرکزی ملزم انہیں ایئرپورٹ چھوڑنے کے بہانے گاڑی میں لے کر نکلا، تاہم راستے میں انہیں شبہ ہوا کہ گاڑی درست سمت میں نہیں جا رہی۔

بیان کے مطابق گاڑی ایک حادثے کا شکار ہوئی، جس کے بعد دونوں خواتین موقع سے نکل کر ایک قریبی مکینک کی دکان میں پہنچیں اور مقامی افراد کی مدد سے پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں بحفاظت بازیاب کر لیا۔

پریس کانفرنس میں صحافیوں کا احتجاج

افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض کرائم رپورٹرز نے اس حساس معاملے پر توجہ مرکوز رکھنے کے بجائے اپنی ذاتی ناراضی اور شکووں کو موضوع بنا لیا۔ کہیں یہ گلہ سننے کو ملا کہ انہیں دفتر کیوں نہیں بلایا جاتا، کہیں فون کالز نہ اٹھانے کی شکایت کی گئی، جبکہ ایسے معاملات کسی اور وقت بھی اٹھائے جا سکتے تھے۔ ایک اہم پریس کانفرنس کو ذاتی اختلافات یا گلے شکووں کا پلیٹ فارم بنانا پیشہ ورانہ صحافت کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

 

یہ تاثر بھی موجود ہے کہ جب سے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران تعینات ہوئے ہیں، انہوں نے صحافیوں کی سفارش پر ایس ایچ اوز اور کانسٹیبلز کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ جیسے معاملات میں مداخلت کی روایت ختم کر دی، جس پر بعض حلقے ناخوش ہیں۔ اگر اس تاثر میں کوئی حقیقت بھی موجود ہو، تب بھی اس کا اظہار ایسے موقع پر کرنا مناسب نہیں تھا جہاں پوری توجہ ایک سنگین اور عوامی اہمیت کے حامل مقدمے پر مرکوز ہونی چاہیے تھی۔

نتیجتاً پریس کانفرنس کا مجموعی تاثر یہی ابھرا کہ ڈی آئی جی فیصل کامران نسبتاً مضبوط پوزیشن میں دکھائی دیے۔ انہوں نے پوچھے گئے سوالات کے پراعتماد انداز میں جوابات دیے، جبکہ کئی صحافی ان سوالات سے گریز کرتے رہے جو عام شہریوں کے ذہنوں میں موجود تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب سوالات کمزور، منتشر یا غیر متعلقہ ہوں تو جواب دینے والا فریق خود بخود زیادہ مضبوط دکھائی دیتا ہے۔

صحافت کا بنیادی فرض ذاتی تعلقات نبھانا یا اپنی ناراضی کا اظہار کرنا نہیں بلکہ عوام کے حقِ معلومات کا تحفظ کرنا، ریاستی اداروں سے مؤثر انداز میں جواب طلب کرنا اور حقائق کو سامنے لانا ہے۔ ہماری اپنی شکایات اور مسائل اپنی جگہ اہم ہو سکتے ہیں، مگر ان پر بات کرنے کے لیے الگ مواقع موجود ہوتے ہیں۔ ایسے حساس مقدمات میں اصل ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ سوال پوچھے جائیں جو عوام جاننا چاہتے ہیں، نہ کہ وہ جو ہماری ذاتی انا یا جذبات کی تسکین کا باعث بنیں۔

یہ بھی افسوسناک حقیقت ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں شور شرابا، تلخ جملے، نعرے بازی اور جارحانہ انداز کو صحافت سمجھا جانے لگا ہے۔ وی لاگز، ٹاک شوز اور پریس کانفرنسوں میں بلند آواز میں بولنا یا محاذ آرائی کرنا بعض اوقات خبر سے زیادہ توجہ حاصل کر لیتا ہے۔ اس رجحان میں عوامی دلچسپی بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ معاشی اصول یہی کہتا ہے کہ جس چیز کی طلب زیادہ ہوگی، اسی کی رسد بھی بڑھے گی۔

تاہم لاہور جیسے شہر، جس کی صحافتی روایت ایک صدی سے بھی زیادہ پرانی اور مضبوط رہی ہے، وہاں سے زیادہ سنجیدگی، برداشت اور پیشہ ورانہ معیار کی توقع کی جاتی ہے۔ اگر ایسے اہم مواقع پر بھی ہم ذاتی معاملات کو عوامی مفاد پر ترجیح دیں گے تو نقصان صرف صحافت کا نہیں ہوگا بلکہ عوام کے حقِ معلومات اور سچ تک رسائی کا بھی ہوگا۔

مقدمے کی موجودہ صورتحال

لاہور پولیس کے مطابق مقدمے میں آٹھ ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں اور تفتیش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام شواہد، فرانزک رپورٹس، ڈیجیٹل ریکارڈ، متاثرہ خواتین کے بیانات اور دیگر ثبوتوں کی روشنی میں چالان مکمل کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

دوسری جانب مقدمے میں نامزد ملزمان یا ان کے وکلا کا تفصیلی مؤقف تاحال عوامی سطح پر سامنے نہیں آیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت میں شواہد، گواہوں اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ملزمان کی ذمہ داری یا بے گناہی کا حتمی تعین کیا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button