
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں انسانیت، بہادری اور فرض شناسی کی ایک غیر معمولی مثال اس وقت سامنے آئی جب پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق ایک خاتون کو مبینہ طور پر زبردستی لے جانے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دے بیٹھے۔ اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف ملک بھر کو غمزدہ کر دیا بلکہ شہریوں، سرکاری حکام اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شہید افسر کی جرات اور بے خوف کردار کو بھرپور خراجِ تحسین بھی پیش کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI)، سیف سٹی کیمروں اور وسیع پیمانے پر کیے گئے سرچ آپریشن کی مدد سے مرکزی ملزم سعد عباسی کو واقعے کے صرف نو گھنٹوں کے اندر گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اتوار کی دوپہر گروپ کیپٹن عاصم طارق اسلام آباد کی نائنتھ ایونیو سے اپنی گاڑی میں گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک موٹرسائیکل پر سوار مرد اور خاتون کو دیکھا۔ پولیس کے مطابق خاتون موٹرسائیکل سے اترنے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ موٹرسائیکل سوار اسے زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔
صورتحال مشکوک محسوس ہونے پر گروپ کیپٹن عاصم نے اپنی گاڑی موڑی اور واپس آ کر موٹرسائیکل کے قریب روک دی۔ پولیس کے مطابق خاتون فوراً بھاگ کر ان کی گاڑی کے قریب آ گئی، جس سے ظاہر ہوا کہ وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی تھی۔
مداخلت کے بعد فائرنگ
پولیس کے مطابق گروپ کیپٹن عاصم طارق نے ملزم کو خاتون کے ساتھ بدسلوکی سے روکا اور اپنا تعارف بھی کرایا، تاہم ملزم سعد عباسی نے ان کے ساتھ تلخ کلامی شروع کر دی۔
ابتدائی طور پر ملزم وہاں سے چلا گیا، لیکن چند لمحوں بعد دوبارہ واپس آیا اور گروپ کیپٹن عاصم طارق پر ان کی گاڑی میں بیٹھے ہوئے فائرنگ کر دی۔
شدید زخمی ہونے کے باعث گروپ کیپٹن عاصم طارق موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون نے اور ملزم ایک ہی کیش اینڈ کیری اسٹور میں ملازمت کرتے ہیں۔
ان کے مطابق ملزم نے انہیں دفتر چھوڑنے کی پیش کش کی تھی، مگر راستے میں اس نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا اور انہیں زبردستی کسی نامعلوم مقام پر لے جانے کی کوشش کی۔
خاتون نے بتایا کہ انہوں نے مزاحمت کی، جس پر دونوں کے درمیان جھگڑا شروع ہو گیا۔ اسی دوران گروپ کیپٹن عاصم طارق موقع پر پہنچے اور بروقت مداخلت کرتے ہوئے انہیں تحفظ فراہم کیا۔
وزیر داخلہ کی ہدایت
واقعے کے فوراً بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔
انہوں نے آئی جی اسلام آباد پولیس سے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے ملزم کی جلد گرفتاری اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ شہید افسر کی قربانی رائیگاں نہیں جانے دی جائے گی اور ملزم کو قانون کے مطابق سخت سزا دلائی جائے گی۔
نو گھنٹوں میں گرفتاری
اتوار کی رات پریس کانفرنس کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی نے بتایا کہ پولیس نے جدید تفتیشی طریقوں کی مدد سے صرف نو گھنٹوں کے اندر مرکزی ملزم سعد عباسی کو گرفتار کر لیا۔
ان کے مطابق یہ اسلام آباد پولیس کے لیے انتہائی حساس اور غیر معمولی نوعیت کا مقدمہ تھا، جس کے لیے 11 خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔

ان ٹیموں کو ڈیجیٹل فرانزک، موبائل فون ڈیٹا، سیف سٹی کیمروں، نجی سی سی ٹی وی فوٹیج، زمینی چھاپوں اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کی الگ الگ ذمہ داریاں سونپی گئیں۔
جدید ٹیکنالوجی سے سراغ رسانی
آئی جی اسلام آباد کے مطابق تفتیش کے دوران اسلام آباد اور راولپنڈی کے 275 سیف سٹی کیمروں کی ریکارڈنگ کے علاوہ 100 سے زائد نجی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا۔
پولیس نے 137 موبائل فون کالز کا ریکارڈ (سی ڈی آر) بھی حاصل کیا، جبکہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ملزم کی نقل و حرکت، لباس اور موٹرسائیکل کی شناخت کی گئی۔
تفتیش میں معلوم ہوا کہ واردات کے بعد ملزم نے اپنی شرٹ تبدیل کر لی تھی تاکہ شناخت سے بچ سکے، تاہم اے آئی تجزیے اور ویڈیو فرانزک نے اس تبدیلی کی بھی نشاندہی کر دی۔
فرار کی منصوبہ بندی
پولیس کے مطابق ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنا موبائل فون بند کر دیا، سم نکال دی اور انٹرنیٹ پر اپنی لوکیشن چھپانے کے لیے متبادل آئی پی ایڈریس استعمال کیا۔
مزید تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس نے "سکائی ویز” بس سروس کے ذریعے لاہور جانے کا ٹکٹ بھی بک کروایا تھا۔
اس اطلاع پر پولیس کی ایک ٹیم فوری طور پر لاہور روانہ کی گئی جبکہ دیگر ٹیموں نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے۔
پولیس کے مطابق ملزم راستے میں بس سے اتر کر دوبارہ کھنہ پل میں واقع اپنی رہائش گاہ واپس آ گیا، جہاں جدید تکنیکی شواہد اور نگرانی کی بنیاد پر پولیس نے چھاپہ مار کر اسے گرفتار کر لیا۔
اس کامیاب کارروائی میں 100 سے زائد پولیس افسران اور اہلکاروں نے حصہ لیا۔
سابقہ مجرمانہ ریکارڈ
آئی جی علی ناصر رضوی نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران ملزم کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں سے بھی معلومات حاصل کی گئیں۔
ان کے مطابق تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ تقریباً ایک ماہ قبل ملزم پر ایک خاتون کو مبینہ طور پر اغوا کر کے میانوالی لے جانے کا الزام بھی سامنے آیا تھا، تاہم وہ معاملہ خاندانوں کے درمیان حل ہو گیا تھا اور پولیس تک نہیں پہنچا۔
اس پہلو کی بھی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
واقعے کی تفصیلات
پولیس کے مطابق ملزم سعد عباسی اور خاتون نمرہ جی سکس میلوڈی میں واقع ایک کیش اینڈ کیری اسٹور میں ملازم تھے اور کھنہ کے علاقے میں ایک دوسرے کے پڑوسی بھی تھے۔
تحقیقات کے مطابق واقعے کے روز ملزم خاتون کو دفتر لے جانے کے بجائے کسی دوسری جگہ لے جانا چاہتا تھا، جس پر خاتون نے انکار کر دیا۔
جب موٹرسائیکل جناح ایونیو کے قریب پہنچی تو دونوں کے درمیان تلخ کلامی شروع ہو گئی۔
اسی دوران گروپ کیپٹن عاصم طارق وہاں سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے خاتون کو پریشانی میں دیکھ کر فوری مداخلت کی، جس کے نتیجے میں ملزم نے بعد میں واپس آ کر فائرنگ کی۔
شہید افسر کی قربانی
گروپ کیپٹن عاصم طارق پاک فضائیہ کے ایک پیشہ ور اور باوقار افسر تھے۔ وہ اپنے پیچھے بیوہ، ایک بیٹی اور ایک بیٹا چھوڑ گئے ہیں۔
ان کی بہادری کو ملک بھر میں سراہا جا رہا ہے اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک اجنبی خاتون کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کر کے فرض شناسی، جرات اور انسان دوستی کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔
تحقیقات جاری
اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے اور واقعے میں استعمال ہونے والا اسلحہ، فرانزک شواہد، ڈیجیٹل ریکارڈ اور دیگر ثبوت اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق مقدمے کا چالان جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق کے اہل خانہ کو جلد از جلد انصاف فراہم کیا جا سکے۔
قانونی ماہرین کے مطابق ملزم کے خلاف عائد الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد، گواہوں اور قانونی کارروائی کی روشنی میں کیا جائے گا۔



