پاکستاناہم خبریں

آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس، دہشت گردی، علاقائی سلامتی، سندھ طاس معاہدے اور کشمیر سمیت اہم امور کا تفصیلی جائزہ

اجلاس میں بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی سکیورٹی ماحول کے تناظر میں دفاعی تیاریوں اور جدید عسکری حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی زیر صدارت 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک کی مجموعی داخلی و خارجی سکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں، علاقائی سلامتی، آپریشنل تیاریوں، سندھ طاس معاہدے، مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور مستقبل کی عسکری حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔

کانفرنس کے آغاز میں شرکاء نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بے گناہ شہریوں کے شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔

فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی، خودمختاری، قومی اتحاد اور استحکام کی بنیاد ہیں اور قوم ان قربانیوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتی رہے گی۔

سکیورٹی صورتحال اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ

کور کمانڈرز کانفرنس میں پاکستان کی داخلی و خارجی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

فورم نے پاکستان کی مسلح افواج کی آپریشنل تیاری، پیشہ ورانہ مہارت، جنگی صلاحیت اور ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کی استعداد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افواج ہر وقت ملک کے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

اجلاس میں بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی سکیورٹی ماحول کے تناظر میں دفاعی تیاریوں اور جدید عسکری حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔

دہشت گردی اور سرحد پار حملوں پر تشویش

فورم نے پاکستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں، بالخصوص فتنہ الخوارج (FAK) اور فتنہ الہندستان (FAH) کی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ یہ گروہ بھارت کی سرپرستی میں پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں ملوث ہیں۔

فورم نے اس بات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ افغان طالبان کی حکومت کے زیرِ انتظام افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور لانچنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام اسی صورت ممکن ہے جب افغان سرزمین کو کسی بھی ملک، خصوصاً پاکستان، کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔

فورم کے مطابق اس ضمن میں افغان طالبان حکومت کی براہِ راست ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر سرگرم ایسے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔

آپریشن "غضب للحق” جاری رکھنے کا عزم

کانفرنس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کو اپنے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا مکمل حق حاصل ہے۔

فورم نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج آپریشن "غضب للحق” کے تحت انٹیلی جنس کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی، خصوصاً ایسے عناصر کے خلاف جو افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی کوشش کرتے ہیں۔

شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

مضبوط گورننس کی ضرورت پر زور

کانفرنس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ صرف فوجی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں مؤثر سول گورننس، بہتر عوامی خدمات اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل بھی ناگزیر ہے۔

فورم نے کہا کہ پرامن علاقوں میں مضبوط انتظامی ڈھانچے قائم کیے جائیں تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم ہوں اور سیاسی سرپرستی میں پروان چڑھنے والے جرائم اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کو ختم کیا جا سکے۔

ہائبرڈ وارفیئر اور ڈس انفارمیشن مہمات

کور کمانڈرز کانفرنس میں بیرونی حمایت یافتہ ہائبرڈ وارفیئر اور غلط معلومات پر مبنی مہمات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

فورم نے کہا کہ دہشت گرد گروہوں کی عسکری ناکامیوں کے بعد اب پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا، سائبر اسپیس، جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کوششیں بڑھ رہی ہیں۔

شرکاء نے دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت، سہولت کاری اور سرپرستی کرنے والی تمام ریاستی اور غیر ریاستی قوتوں کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ایسی ہر کوشش کا مؤثر اور بھرپور جواب دے گا۔

علاقائی امن میں پاکستان کے کردار کو سراہا گیا

کانفرنس میں جنوبی ایشیا اور خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔

فورم نے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان تنازعات کے پرامن حل، بین الاقوامی قوانین کے احترام اور باہمی تعاون کے ذریعے خطے میں امن کا خواہاں ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان مستقبل میں بھی مشترکہ سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون کی حمایت جاری رکھے گا۔

سندھ طاس معاہدے پر مؤقف

کانفرنس میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) سے متعلق حالیہ بیانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

فورم نے 24 اپریل 2025 کو قومی سلامتی کمیٹی (NSC) کے اجلاس میں طے کیے گئے قومی مؤقف کی مکمل توثیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے حصے کے پانی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔

شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے جائز آبی حقوق کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا اور اس سلسلے میں حکومت کی مکمل حمایت جاری رہے گی۔

کشمیر پر دوٹوک مؤقف

کور کمانڈرز کانفرنس میں بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کی صورتحال پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

فورم نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں، آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی پالیسی (ڈیموگرافک انجینئرنگ) اور دیگر یکطرفہ اقدامات کی شدید مذمت کی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

فورم نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔

جنگ کے بدلتے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی ہدایت

اجلاس کے اختتام پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تمام کور کمانڈرز کو ہدایت کی کہ وہ جنگ کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ملٹی ڈومین ٹرانسفارمیشن پلان پر عمل درآمد مزید تیز کریں۔

انہوں نے کہا کہ جدید جنگ صرف روایتی میدان تک محدود نہیں رہی بلکہ سائبر، اطلاعاتی، خلائی، اقتصادی اور ہائبرڈ محاذ بھی قومی سلامتی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔

آرمی چیف نے تمام فارمیشنز کو ہدایت کی کہ وہ اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ معیار، مستقل چوکسی، آپریشنل تیاری اور مشترکہ ردعمل کی صلاحیت برقرار رکھیں تاکہ روایتی، غیر روایتی اور ہائبرڈ خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں اور ملک کے دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button