
روئٹرز، اے پی کے ساتھ
حسام حسن، جنہوں نے گزشتہ مرحلے میں آسٹریلیا کے خلاف فتح کے بعد فلسطینی پرچم بھی لہرایا تھا، نے تقریباً چار منٹ تک فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ ان کی گفتگو پر پریس کانفرنس میں موجود متعدد صحافیوں نے تالیاں بجا کر ان کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے کہا، ”اگر دنیا میں کوئی ایسا شخص ہے جو فلسطینی عوام کے دکھ کو محسوس نہیں کرتا، تو وہ انسان نہیں، خواہ وہ عرب ہو، یورپی ہو یا امریکی۔‘‘
ان سے پوچھا گیا تھا کہ جب گزشتہ جمعہ آسٹریلیا کو شکست دینے کے بعد انہوں نے فلسطینی پرچم لہرایا تھا تو اگر مصر ارجنٹائن کو بھی شکست دیتا ہے تو کیا وہ دوبارہ ایسا کریں گے۔
انہوں نے جواب دیا، ”یہ محض ایک انسانی ردِعمل تھا۔ عرب، مسلمان یا عیسائی ہونے سے پہلے میں ایک انسان ہوں۔ میں فٹبال، جو دنیا کی نرم طاقت ہے، کے ذریعے صرف یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ فلسطینی عوام کو زندہ رہنے دیا جائے۔ میں دنیا بھر کے کھلاڑیوں اور صحافیوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ یہ پیغام آگے پہنچائیں۔‘‘
روئٹرز کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں دسیوں ہزار فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ خوراک کے شدید بحران اور بڑے پیمانے پر بے گھر ہونے کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ بعض اقوام متحدہ کے ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا ہے، تاہم اسرائیل اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔

’اگر جانور کو بھی تکلیف پہنچے تو آواز اٹھائی جاتی ہے‘
حسام حسن نے کہا، ”دنیا میں اگر کسی جانور کو بھی تکلیف پہنچے تو جانوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی جاتی ہے اور پوری دنیا ردِعمل کا اظہار کرتی ہے۔ دوسری جانب ایک ہی دن میں دو یا تین ہزار افراد میزائل حملوں میں مارے جائیں۔ اب یہ معمول بنتا جا رہا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ”میں مذہب سے بالاتر ہو کر سب سے پہلے ایک انسان ہوں۔ فٹبال کے ذریعے میرا صرف ایک پیغام ہے کہ جس طرح فیفا باہمی احترام کی بات کرتا ہے، اسی طرح انسانوں کے جینے کے حق کا بھی احترام کیا جانا چاہیے۔‘‘
غزہ کی جنگ کے بعد دنیا بھر میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کیے گئے ہیں، جبکہ متعدد کھلاڑیوں نے بھی فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے، جن میں ہسپانوی فٹبالر لامین یامال بھی شامل ہیں۔

’ہم اپنی بہترین کارکردگی پیش کریں گے‘
ارجنٹائن کے خلاف میچ کے حوالے سے حسام حسن نے کہا کہ مصر کی ٹیم کے عزائم بلند ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ”میرے خواب اور میری خواہشات کی کوئی حد نہیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہم شائقین کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کریں گے۔ ہم کسی بھی لحاظ سے کمزور ٹیم نہیں ہیں۔ ہم سات ہزار سال سے بھی زیادہ قدیم تہذیب کے وارث ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا، ”ہم مصر، عرب دنیا اور افریقہ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ یہی ذمہ داری ہمیں اپنی کارکردگی پر توجہ مرکوز رکھنے کی ترغیب دیتی ہے اور ہم میدان میں اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔‘‘
فیفا کے کھیل اور ٹورنامنٹ سے متعلق قوانینِ و ضوابط کے تحت کھیلوں کے سامان اور آلات پر سیاسی نعرے یا سیاسی پیغامات درج کرنے کی اجازت نہیں ہے، تاہم روئٹرز فوری طور پر ایسے کسی ضابطے کی نشاندہی نہیں کر سکا جو کوچز کو پریس کانفرنسوں کے دوران اپنے سیاسی خیالات کے اظہار سے روکتا ہو۔



