
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید وزیراعظم آفس سسٹم (PMOS) کا باضابطہ افتتاح کر دیا، جسے حکومتی امور میں شفافیت، تیز رفتار فیصلہ سازی، مؤثر نگرانی، خودکار احتساب اور وزارتوں کی کارکردگی بہتر بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر واضح ہدایت کی کہ تمام وفاقی وزارتیں اور متعلقہ ادارے اس جدید نظام پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں اور آج کے بعد روایتی فائل سسٹم کو ترک کرتے ہوئے تمام سرکاری امور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے انجام دیے جائیں۔
منگل کو وزیراعظم آفس میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں وفاقی وزراء، اعلیٰ سرکاری حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران وزیراعظم کو مصنوعی ذہانت سے چلنے والے اس جدید نظام کی مختلف خصوصیات، کارکردگی، نگرانی کے طریقہ کار اور مستقبل میں اس کے استعمال سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم کی ہدایات پر بروقت عملدرآمد یقینی بنانے کا نظام
بریفنگ کے مطابق وزیراعظم آفس سسٹم (PMOS) پاکستان کا پہلا سرکاری مصنوعی ذہانت پر مبنی گورننس پلیٹ فارم ہے، جس کا بنیادی مقصد وزیراعظم کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایات، فیصلوں اور حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کو مکمل طور پر ڈیجیٹل انداز میں مانیٹر کرنا ہے۔ یہ نظام احکامات کے اجرا سے لے کر متعلقہ وزارتوں کو ان کی ترسیل، مقررہ وقت میں عملدرآمد، پیشرفت کی نگرانی، تکمیل کی تصدیق اور بعد از تکمیل جائزے تک تمام مراحل کو خودکار انداز میں ریکارڈ کرے گا۔
نظام میں مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس کی مدد سے مختلف وزارتوں کی کارکردگی، منصوبوں کی پیشرفت، زیر التوا معاملات، تاخیر کی وجوہات اور مقررہ ڈیڈ لائنز کی مسلسل نگرانی ممکن ہوگی، جس سے فیصلہ سازی کا عمل مزید مؤثر، شفاف اور بروقت بنایا جا سکے گا۔
روایتی فائل سسٹم ختم کرنے کا اعلان
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ جدید دور میں مؤثر حکمرانی کے لیے ڈیجیٹل نظام ناگزیر ہو چکا ہے، اس لیے اب روایتی فائلوں کے ذریعے کام کرنے کا طریقہ ختم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ:
"آج کے بعد کوئی روایتی فائل نظام نہیں ہوگا۔ تمام وزارتیں جدید ڈیجیٹل نظام کو اختیار کریں اور ہر سرکاری معاملہ اسی پلیٹ فارم کے ذریعے نمٹایا جائے تاکہ عوامی خدمت، شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔”
وزیراعظم نے زور دیا کہ سرکاری اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف فیصلوں پر تیزی سے عملدرآمد ہوگا بلکہ عوام کو حکومتی خدمات بھی زیادہ مؤثر انداز میں فراہم کی جا سکیں گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوامی فلاح و بہبود ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام سرکاری اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وفاقی وزراء اور حکام کی کاوشوں کو سراہا
وزیراعظم نے اس جدید نظام کی تیاری اور کامیاب فعالیت پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی احد خان چیمہ، وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ اور متعلقہ سرکاری حکام کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مشترکہ کوششوں سے پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔
انہوں نے متعلقہ ٹیم کو ہدایت کی کہ نظام کی استعداد میں مسلسل بہتری لائی جائے تاکہ مستقبل میں مزید جدید فیچرز شامل کیے جا سکیں۔
تمام وزارتوں کو فوری نفاذ کی ہدایت
وزیراعظم نے تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور سرکاری اداروں کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر وزیراعظم آفس سسٹم کو اپنی روزمرہ کارروائیوں کا حصہ بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ اب روایتی انداز میں فائلیں ایک دفتر سے دوسرے دفتر لے جانے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ تمام کارروائی آن لائن ہوگی، جس سے وقت، وسائل اور اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی جبکہ سرکاری امور کی رفتار میں بھی اضافہ ہوگا۔
جدید طرز حکمرانی کی جانب اہم قدم
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احد خان چیمہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جدید طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پر مبنی نظام کو عملی شکل دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم حکومتی فیصلوں میں شفافیت، بروقت اقدامات، مؤثر نگرانی اور جوابدہی کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے نظام میں متعدد تکنیکی خامیاں موجود تھیں، جن کے باعث فیصلہ سازی اور نتائج کے مکمل تجزیے میں مشکلات پیش آتی تھیں۔ نئے نظام میں ان تمام خامیوں کو دور کرتے ہوئے جدید فیچرز شامل کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے نہ صرف فیصلوں کی نگرانی ممکن ہوگی بلکہ ان کے نتائج کا بھی مؤثر جائزہ لیا جا سکے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق حکومتی پالیسی سازی کو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ قومی وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہو۔
ڈیجیٹل سے اے آئی گورننس کی جانب سفر
وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے وزیراعظم آفس سسٹم پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب سرکاری نظام میں ڈیجیٹائزیشن کی بنیاد رکھی تھی، جبکہ اب حکومت ڈیجیٹل گورننس سے آگے بڑھتے ہوئے مصنوعی ذہانت پر مبنی حکمرانی کی طرف پیش رفت کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہی ہے جبکہ سماجی تحفظ کے سب سے بڑے پروگرام کو بھی مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جا چکا ہے۔
ان کے مطابق حکومت پیپر لیس گورننس کے وژن پر تیزی سے کام کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں کارکردگی، نگرانی، شفافیت اور خود احتسابی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم آفس سسٹم کی نمایاں خصوصیات
بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم آفس سسٹم کی اہم خصوصیات میں شامل ہیں:
- وزیراعظم کی ہدایات کا فوری اندراج اور خودکار ترسیل۔
- تمام احکامات کی مقررہ ڈیڈ لائنز کی نشاندہی۔
- وزارتوں اور اداروں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی۔
- مصنوعی ذہانت کے ذریعے پیشرفت کا تجزیہ۔
- تاخیر کی فوری نشاندہی اور الرٹس۔
- خودکار احتساب اور جوابدہی کا نظام۔
- حقیقی وقت (Real-Time) میں رپورٹس اور ڈیش بورڈز۔
- کاغذ سے پاک (Paperless) سرکاری نظام۔
- پالیسی سازی کے لیے ڈیٹا پر مبنی تجزیاتی رپورٹس۔
- حکومتی منصوبوں کی تکمیل کے بعد بھی مسلسل نگرانی۔
گورننس میں تاریخی پیش رفت
حکام کے مطابق وزیراعظم آفس سسٹم پاکستان میں ای گورننس اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ اس نظام سے نہ صرف حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کی رفتار میں اضافہ ہوگا بلکہ شفافیت، احتساب، وزارتوں کی جوابدہی، وسائل کے مؤثر استعمال اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بھی نمایاں بہتری متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ نظام مستقبل میں حکومتی پالیسی سازی، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، معاشی اہداف کے حصول اور انتظامی اصلاحات میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وزیراعظم آفس سسٹم کے مکمل نفاذ کے بعد پاکستان میں ڈیجیٹل اور پیپر لیس گورننس کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، جہاں تمام اہم حکومتی فیصلے، ان پر عملدرآمد اور ان کی نگرانی ایک ہی مربوط اور جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے انجام دی جائے گی۔




