پاکستاناہم خبریں

پاکستان کی امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی معاونت کی درخواست، ذرائع

امریکی وزارت خزانہ نے اس درخواست پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ پاکستان کی وزارت خزانہ نے بھی روئٹرز کی جانب سے رابطے پر کوئی فوری ردعمل ظاہر نہ کیا۔

روئٹرز کے ساتھ

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستان نے امریکہ سے 10 بلین ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسیلٹی فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس کی منظوری کی صورت میں مالی مشکلات سے دوچار پاکستانی معیشت کو بڑا سہارا مل سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ درخواست پہلی مرتبہ منظر عام پر آئی ہے اور ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے، جب ایران جنگ سے متعلق مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار  نے اس کی سفارتی اہمیت میں اضافہ کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو بھیجی گئی درخواست میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان 10 بلین ڈالر مالیت کی دوطرفہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسیلٹی کے قیام کی تجویز دی ہے، جس کی مدت پانچ سال تک ہو سکتی ہے۔

ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فیسیلٹیز امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے شاذ و نادر ہی فراہم کی جانے والی مالی معاونت ہوتی ہیں، جو عموماً ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ (ای ایس ایف) کے ذریعے ڈالر، کرنسی سواپ یا حکومتی ضمانتوں کی صورت میں دی جاتی ہیں تاکہ متعلقہ ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا جا سکے اور ان کی کرنسیوں کو استحکام مل سکے۔

اگر اس سہولت کی منظوری دے دی جاتی ہے تو اس سے پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو گا، روپے پر دباؤ کم ہو گا اور ملک کا کثیرالجہتی مالیاتی اداروں پر انحصار بھی کم ہو سکے گا۔

امریکی وزارت خزانہ نے اس درخواست پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ پاکستان کی وزارت خزانہ نے بھی روئٹرز کی جانب سے رابطے پر کوئی فوری ردعمل ظاہر نہ کیا۔

امریکی وزیر خارجہ وائٹ ہاؤس میں پاکستانی وزیر اعظم شہبز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خیر مقدم کرتے ہوئے
یہ درخواست ایسے وقت پر سامنے آئی ہے، جب ایران جنگ سے متعلق مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار  نے اس کی سفارتی اہمیت میں اضافہ کر دیا ہے۔تصویر: Andrew Harnik/Getty Images/AFP

درخواست کی منظوری ایک اہم سیاسی اشارہ ہو گی

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسیلٹی کی منظوری پاکستان کے لیے نہ صرف زر مبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے والی مالی معاونت ثابت ہو سکتی ہے بلکہ اسے ایک اہم سیاسی اشارہ بھی سمجھا جائے گا۔

اس وقت پاکستان آئی ایم ایف کے ایک پروگرام کے تحت سخت مالیاتی پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔

آئی ایم ایف کی حمایت سے نافذ کی جانے والی معاشی اصلاحات نے اگرچہ پاکستان کی معیشت کو کسی حد تک استحکام دیا ہے، تاہم اس کی سیاسی قیمت بھی چکانا پڑی ہے، جس میں ٹیکسوں میں اضافہ، سرکاری اخراجات پر سخت کنٹرول اور ترقیاتی و سماجی بہبود کے منصوبوں کے لیے محدود مالی گنجائش شامل ہیں۔

پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری اب بھی محدود ہے۔ اس کی وجوہات میں بار بار پیدا ہونے والے بیرونی مالی بحران، پالیسیوں میں غیر یقینی صورت حال، سکیورٹی خدشات، ماضی میں منافع کی بیرون ملک منتقلی پر عائد پابندیاں، محدود برآمدی بنیاد اور ملک کی کمزور کریڈٹ ریٹنگ شامل ہیں، جن کے باعث پاکستان کے لیے قرض لینے کی لاگت زیادہ ہوتی ہے اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی محدود رہتی ہے۔

پاکستان نے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو معاشی تعاون کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب تک دونوں ممالک کے درمیان تعاون کرپٹو کرنسی، ریئل اسٹیٹ اور کان کنی کے شعبوں تک پھیل چکا ہے۔

دریں اثنا پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے منگل کو واشنگٹن میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کی۔ وزارت خزانہ کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق انہوں نے خطے کی جغرافیائی سیاسی صورت حال کے باعث پاکستانی معیشت کو درپیش خطرات کا معاملہ اٹھایا، تاہم بیان میں 10 بلین ڈالر کی اس درخواست کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button