اہم خبریںمشرق وسطیٰ

امریکی اور ایرانی وزراء کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف بڑھ چڑھ کر اشتعال انگیز بیانات کی مثالیں

ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر کیے جانے والے ہر حملے کے بدلے امریکہ ایران میں یا تو کوئی پل تباہ کر دے گا یا پھر پھر کوئی بجلی گھر۔

اے ایف پی کے مطابق
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں لی گئی ایک تصویر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں لی گئی ایک تصویرتصویر: Mark Schiefelbein/AP Photo/picture alliance

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک دوسرے پر مسلح حملوں کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے خلاف بڑھ چڑھ کر اشتعال انگیز سیاسی بیانات دینے کی مثالیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔

تہران سے جمعرات 23 جولائی کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ملکی ٹیلی وژن سے نشر ہونے والے اپنے ایک بیان میں آج کہا کہ واشنگٹن نے موجودہ تنازعے میں تہران کے ساتھ جو رویہ اپنا رکھا ہے، وہ اس لیے ’’قابل مذمت‘‘ ہے کہ وہ ’’غیر منطقی‘‘ بھی ہے اور امریکہ کی ’’غالب آ جانے کی سوچ‘‘ کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عباس عراقچی نے کہا، ’’مسئلہ امریکہ کی سوچ اور رویے کی نوعیت کا ہے۔ بات ان کی غیر منطقی سوچ اور غالب آ جانے کی خواہش کی عکاسی کرنے والی ذہنیت کی بھی ہے، جس پر ہم نے اپنی طرف سے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔‘‘

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی تہران میں ملکی وزارت خارجہ میں لی گئی ایک تصویر
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی تہران میں ملکی وزارت خارجہ میں لی گئی ایک تصویرتصویر: Sha Dati/Xinhua/IMAGO

دونوں طرف سے اشتعال انگیز سیاسی بیانات کی مثالیں

عبوری فائر بندی معاہدہ ناکام ہو جانے کے بعد سے امریکہ ایران پر قریب دو ہفتوں سے مسلسل فضائی حملوں کے ساتھ اور ایران خلیج کے علاقے کی عرب ریاستوں اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اہداف اور مفادات پر میزائلوں اور جنگی ڈرونز کے ساتھ حملوں کے ذریعے جس طرح ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی متواتر کوششیں کر رہے ہیں، ان کے ساتھ ساتھ دونوں کے مابین اشتعال دلا دینے والی اور گرما گرم سیاسی بیان بازی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اس کی دو تازہ ترین مثالیں ابھی حال ہی میں دیکھنے میں آئیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں تہران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر اپنے حملے بند کر دینا چاہییں۔

ساتھ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے دھمکی دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر کیے جانے والے ہر حملے کے بدلے امریکہ ایران میں یا تو کوئی پل تباہ کر دے گا یا پھر پھر کوئی بجلی گھر۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ایک تصویر
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیوتصویر: Eric Lee/REUTERS

عراقچی اور روبیو کے تازہ بیانات

امریکی صدر ٹرمپ کی اس دھمکی کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران اپنے لیے جس دفاعی نظریے پر یقین رکھتا ہے، وہ ’’آنکھ کے بدلے آنکھ‘‘ کا نظریہ ہے۔

لیکن تہران اور واشنگٹن کے مابین ایسی بیان بازی کی یہ مثال یہیں پر ختم نہ ہوئی۔

اپنے ہم منصب عباس عراقچی کے اس بیان کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس کے موقع پر اپنی موجودگی کے دوران جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا کہ صدر ’’ٹرمپ کی پالیسی تو آنکھ کے بدلے سر‘‘ کی پالیسی ہے۔

ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا، ’’وہ (ایران) جو کچھ کر رہے ہیں، وہ اس کی بہت بھاری قیمت چکائیں گے۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button