
امریکی اور ایرانی وزراء کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف بڑھ چڑھ کر اشتعال انگیز بیانات کی مثالیں
ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر کیے جانے والے ہر حملے کے بدلے امریکہ ایران میں یا تو کوئی پل تباہ کر دے گا یا پھر پھر کوئی بجلی گھر۔
اے ایف پی کے مطابق

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک دوسرے پر مسلح حملوں کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے خلاف بڑھ چڑھ کر اشتعال انگیز سیاسی بیانات دینے کی مثالیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
تہران سے جمعرات 23 جولائی کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ملکی ٹیلی وژن سے نشر ہونے والے اپنے ایک بیان میں آج کہا کہ واشنگٹن نے موجودہ تنازعے میں تہران کے ساتھ جو رویہ اپنا رکھا ہے، وہ اس لیے ’’قابل مذمت‘‘ ہے کہ وہ ’’غیر منطقی‘‘ بھی ہے اور امریکہ کی ’’غالب آ جانے کی سوچ‘‘ کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عباس عراقچی نے کہا، ’’مسئلہ امریکہ کی سوچ اور رویے کی نوعیت کا ہے۔ بات ان کی غیر منطقی سوچ اور غالب آ جانے کی خواہش کی عکاسی کرنے والی ذہنیت کی بھی ہے، جس پر ہم نے اپنی طرف سے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔‘‘

دونوں طرف سے اشتعال انگیز سیاسی بیانات کی مثالیں
عبوری فائر بندی معاہدہ ناکام ہو جانے کے بعد سے امریکہ ایران پر قریب دو ہفتوں سے مسلسل فضائی حملوں کے ساتھ اور ایران خلیج کے علاقے کی عرب ریاستوں اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اہداف اور مفادات پر میزائلوں اور جنگی ڈرونز کے ساتھ حملوں کے ذریعے جس طرح ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی متواتر کوششیں کر رہے ہیں، ان کے ساتھ ساتھ دونوں کے مابین اشتعال دلا دینے والی اور گرما گرم سیاسی بیان بازی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
اس کی دو تازہ ترین مثالیں ابھی حال ہی میں دیکھنے میں آئیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں تہران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر اپنے حملے بند کر دینا چاہییں۔
ساتھ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر کیے جانے والے ہر حملے کے بدلے امریکہ ایران میں یا تو کوئی پل تباہ کر دے گا یا پھر پھر کوئی بجلی گھر۔

عراقچی اور روبیو کے تازہ بیانات
امریکی صدر ٹرمپ کی اس دھمکی کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران اپنے لیے جس دفاعی نظریے پر یقین رکھتا ہے، وہ ’’آنکھ کے بدلے آنکھ‘‘ کا نظریہ ہے۔
لیکن تہران اور واشنگٹن کے مابین ایسی بیان بازی کی یہ مثال یہیں پر ختم نہ ہوئی۔
اپنے ہم منصب عباس عراقچی کے اس بیان کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس کے موقع پر اپنی موجودگی کے دوران جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا کہ صدر ’’ٹرمپ کی پالیسی تو آنکھ کے بدلے سر‘‘ کی پالیسی ہے۔
ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا، ’’وہ (ایران) جو کچھ کر رہے ہیں، وہ اس کی بہت بھاری قیمت چکائیں گے۔‘‘



