پاکستاناہم خبریں

ٹانک میں مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کا بڑا حملہ ناکام، 12 حملہ آور ہلاک، 15 اہلکار وطن پر قربان

ان اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کے امن، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر "ہندوستانی سرپرستی میں کام کرنے والے فتنہ الخوارج”کے دہشتگردوں کی جانب سے کیا گیا بڑا حملہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ شدید مقابلے کے دوران 12 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے، تاہم بارود سے بھری گاڑی کے زور دار دھماکے کے نتیجے میں پاک فوج کے 12 جوان، دو پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سرکاری اہلکار سمیت مجموعی طور پر 15 بہادر سپوت وطن پر قربان ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ حملہ 23 اور 24 جولائی 2026 کی درمیانی شب ضلع ٹانک میں قائم مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر کیا گیا، جہاں پاک فوج، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکار دہشتگردی کے خلاف مشترکہ ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ فوج کے مطابق دہشتگردوں نے اچانک حملہ کرتے ہوئے چیک پوسٹ کا حصار توڑنے اور اندر داخل ہونے کی کوشش کی تاکہ وہاں موجود اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا سکے اور چیک پوسٹ پر قبضہ کیا جا سکے۔

بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ چیک پوسٹ پر تعینات اہلکار پہلے سے چوکس تھے اور انہوں نے حملہ آوروں کی پیش قدمی کو فوری طور پر روک دیا۔ پاک فوج اور پولیس کے جوانوں نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشتگردوں کا بھرپور مقابلہ کیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران دہشتگرد اپنے منصوبے میں کامیاب نہ ہو سکے اور پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے۔

بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے فرار ہونے والے دہشتگردوں کا تعاقب جاری رکھا اور انتہائی مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 12 خوارج کو ہلاک کر دیا۔ آئی ایس پی آر نے اس کامیابی کو اہلکاروں کی جرات، تربیت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظہر قرار دیا۔

بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے خودکش حملہ

فوج کے مطابق جب دہشتگرد براہ راست حملے میں ناکام ہوگئے تو انہوں نے اپنی آخری کوشش کے طور پر بارود سے بھری ایک گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی حفاظتی دیوار سے ٹکرا دی۔ دھماکہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا جس سے چیک پوسٹ کا بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا اور عمارت کے مختلف حصے منہدم ہوگئے۔

دھماکے کے بعد امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئیں۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ملبے تلے دبے اہلکاروں کو نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیموں نے کئی گھنٹے تک کارروائیاں جاری رکھیں۔

15 بہادر سپوتوں کی عظیم قربانی

آئی ایس پی آر کے مطابق اس دہشتگرد حملے میں 12 فوجی جوان، دو پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سرکاری اہلکار شہید ہوئے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان بہادر سپوتوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے دہشتگردوں کو اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا اور مادرِ وطن کے دفاع میں عظیم قربانی دی۔

فوج کے مطابق شہداء کی قربانیاں قوم کے لیے فخر کا باعث ہیں اور پوری قوم ان عظیم سپوتوں کی خدمات اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ ان اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کے امن، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔

علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ حملے کے بعد پورے علاقے میں بڑے پیمانے پر کلیئرنس (سینیٹائزیشن) آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ اس آپریشن کا مقصد علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی سرپرستی میں سرگرم خارجی دہشتگرد یا ان کے سہولت کاروں کو تلاش کر کے ختم کرنا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ علاقے کے داخلی اور خارجی راستوں پر نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ انٹیلی جنس ادارے بھی حملے کی منصوبہ بندی، سہولت کاروں اور دہشتگرد نیٹ ورک سے متعلق معلومات اکٹھی کر رہے ہیں تاکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جا سکے۔

عزمِ استحکام کے تحت دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں جاری

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جاری مہم وفاقی ایپکس کمیٹی کی جانب سے منظور کردہ قومی ایکشن پلان اور عزمِ استحکام وژن کے تحت جاری ہے۔ بیان کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پوری قوت اور عزم کے ساتھ سرگرم ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی اور اس کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، سرچ آپریشنز اور مربوط سیکیورٹی اقدامات بلا تعطل جاری رہیں گے تاکہ ملک میں پائیدار امن قائم رکھا جا سکے۔

دہشتگردی کے خلاف غیر متزلزل عزم

آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وطن کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر جوانوں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے اور ملک کے امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے والے ہر دشمن کا پوری طاقت سے مقابلہ کریں گے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ٹانک میں پیش آنے والا یہ واقعہ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے عزم، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قربانیوں کا ایک اور واضح ثبوت ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ وطن کے ان 15 بہادر سپوتوں کی عظیم قربانیاں پاکستان کے دفاع کو مزید مضبوط اور دہشتگردی کے خلاف قومی عزم کو مزید مستحکم بنائیں گی، جبکہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری رہیں گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button