پاکستاناہم خبریں

امریکی کانگریس کے ارکان کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات، دفاعی و اقتصادی تعاون کے فروغ پر اتفاق

فریقین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل رابطے، مؤثر سفارت کاری اور باہمی تعاون ناگزیر ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

راولپنڈی: پاکستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی، اقتصادی اور دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کے سلسلے میں امریکی کانگریس کے دو ارکان نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز سے اہم ملاقات کی۔

ملاقات میں علاقائی سلامتی، دوطرفہ دفاعی تعاون، اقتصادی شراکت داری، تجارتی تعلقات، سرمایہ کاری اور خطے میں پائیدار امن و استحکام سمیت باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی وفد میں کون شامل تھا؟

جی ایچ کیو پہنچنے والے امریکی وفد میں امریکی ایوانِ نمائندگان کے دو اہم ارکان شامل تھے:

  • مسٹر ریان کیتھ زنکے (Ryan Keith Zinke)، رکن امریکی ایوانِ نمائندگان، ریاست مونٹانا
  • مسٹر مائیکل جیمز (Michael James)، رکن امریکی ایوانِ نمائندگان، ریاست واشنگٹن

وفد نے پاکستان کی عسکری قیادت سے ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر گفتگو کی۔

علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مؤثر بنانے، خطے کی مجموعی سلامتی کی صورتحال، انسداد دہشت گردی، علاقائی استحکام اور باہمی اعتماد کے فروغ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

فریقین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل رابطے، مؤثر سفارت کاری اور باہمی تعاون ناگزیر ہے۔

پاکستان کی اقتصادی صلاحیت پر زور

اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کی وسیع اقتصادی استعداد اور سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک قدرتی وسائل، نوجوان افرادی قوت، جغرافیائی محل وقوع اور علاقائی رابطہ کاری کی بدولت اقتصادی ترقی کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پائیدار اقتصادی ترقی کو قومی استحکام کا بنیادی ستون سمجھتا ہے اور حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد ملکی معیشت کو مضبوط بنانا اور بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔

اقتصادی استحکام اور امن کا باہمی تعلق

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی امن اور اقتصادی خوشحالی ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب خطے میں امن قائم ہوگا تو تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور علاقائی روابط میں نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو اقتصادی ترقی، علاقائی رابطہ کاری اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ دیں۔

اصلاحات اور سرمایہ کاری کے مواقع

آرمی چیف نے امریکی وفد کو پاکستان میں جاری اقتصادی اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات سے بھی آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت مختلف شعبوں میں اصلاحات متعارف کرا رہی ہے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نجی شعبے کے کردار کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے مزید سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔

امریکی ارکانِ کانگریس کا پاکستان کے کردار کا اعتراف

امریکی وفد نے ملاقات کے دوران جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ اقتصادی استحکام اور ترقی کے فروغ میں بھی ایک اہم ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔

وفد نے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، اقتصادی امکانات اور خطے میں رابطہ کاری کے کردار کو بھی سراہا۔

تجارت اور نجی شعبے میں تعاون پر گفتگو

ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے پاک امریکہ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر نجی شعبے کے درمیان شراکت داری، سرمایہ کاری کے نئے مواقع، تجارت کے فروغ، کاروباری تعاون اور صنعتی روابط کو وسعت دینے پر اتفاقِ رائے پایا گیا۔

دونوں جانب اس بات پر زور دیا گیا کہ سرکاری سطح کے تعلقات کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کے درمیان مضبوط روابط بھی دونوں ممالک کی معیشتوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے عزم کا اعادہ

امریکی کانگریس کے ارکان نے پاکستان میں پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر پاک فوج کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان اقتصادی، تجارتی، ادارہ جاتی اور عوامی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے لیے دونوں ممالک کو مشترکہ طور پر کام جاری رکھنا چاہیے۔

وفد نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

پاک امریکہ تعلقات کا تناظر

پاکستان اور امریکہ کئی دہائیوں سے دفاع، انسداد دہشت گردی، سلامتی، تجارت، تعلیم، توانائی اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کرتے آ رہے ہیں۔

اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات مختلف ادوار میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے، تاہم حالیہ برسوں میں اقتصادی تعاون، تجارتی روابط، علاقائی استحکام اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں روابط کو مزید وسعت دینے کی کوششیں جاری ہیں۔

ماہرین کے مطابق اعلیٰ سطح کے ایسے تبادلے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی، مشترکہ مفادات کے فروغ اور علاقائی استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مستقبل کے تعاون پر اتفاق

ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ اقتصادی شراکت داری، تجارت، سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے رابطے جاری رکھے جائیں گے۔

مبصرین کے مطابق جی ایچ کیو میں ہونے والی یہ ملاقات پاک امریکہ تعلقات کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جس میں سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی تعاون اور علاقائی خوشحالی کو مستقبل کی شراکت داری کا بنیادی محور قرار دیا گیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button