
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی حکومت کے حجم میں کمی (Right-sizing)، سرکاری اداروں کی استعدادِ کار میں اضافے اور حکومتی اصلاحات سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں رائٹ سائزنگ کمیٹی کی جانب سے مختلف وزارتوں، محکموں اور سرکاری اداروں میں جاری اصلاحاتی اقدامات کی پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں وفاقی حکومت کے اخراجات میں کمی، انتظامی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا بنیادی مقصد ایک ایسی جدید، مؤثر اور عوام دوست انتظامیہ تشکیل دینا ہے جو کم وسائل میں زیادہ بہتر نتائج فراہم کر سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نظام، ای گورننس اور سرکاری ملازمین کی پیشہ ورانہ تربیت کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا اصلاحاتی ایجنڈا صرف اخراجات میں کمی تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد حکومتی نظام کو زیادہ مؤثر، شفاف اور جوابدہ بنانا بھی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر ضروری آسامیوں، غیر فعال عہدوں اور ایسے ڈھانچوں کا خاتمہ جو قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ بنے ہوئے ہیں، اصلاحاتی پروگرام کا اہم حصہ ہے۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ رائٹ سائزنگ پروگرام کے تحت اب تک کئی اہم اقدامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔ ان میں یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن، پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پاک پی ڈبلیو ڈی) اور پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کی بندش شامل ہے، جس سے قومی خزانے پر آنے والے مالی بوجھ میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ان فیصلوں کے نتیجے میں حکومت کو مسلسل مالی بچت حاصل ہو رہی ہے اور وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ رائٹ سائزنگ کے تحت ختم کی جانے والی تمام آسامیوں، عہدوں اور اداروں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے تاکہ اصلاحاتی عمل کی شفافیت، مؤثریت اور نتائج کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات کا مقصد صرف اداروں کو ختم کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے جو عوام کی ضروریات کے مطابق زیادہ فعال اور مؤثر ہو۔
وزیراعظم نے رائٹ سائزنگ کمیٹی کو ہدایت دی کہ وہ اپنی باقی ماندہ سفارشات ایک ماہ کے اندر مکمل کر کے حکومت کو پیش کرے تاکہ ان پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو بھی ہدایت کی کہ اصلاحاتی پروگرام پر عملدرآمد کی رفتار مزید تیز کی جائے اور ہر مرحلے پر شفافیت، احتساب اور کارکردگی کو ترجیح دی جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ رائٹ سائزنگ اقدامات کے باعث سول حکومت کے اخراجات کا مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں تناسب کم ہوا ہے، جو حکومتی مالی نظم و ضبط کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مختلف وزارتوں اور سرکاری محکموں میں موجود بڑی تعداد میں خالی آسامیوں کو ختم کر دیا گیا ہے، جس سے غیر ضروری مالی بوجھ میں کمی آئی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ سرکاری ملکیتی اداروں (State-Owned Enterprises – SoEs) اور مختلف خودمختار اداروں کی تنظیمِ نو اور رائٹ سائزنگ کے حوالے سے جامع تجاویز تیار کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد ان اداروں کو مالی طور پر خود کفیل اور انتظامی لحاظ سے زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
اجلاس میں نجکاری پروگرام کی پیشرفت پر بھی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) اور فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ کی نجکاری مکمل ہو چکی ہے، جبکہ دیگر متعدد سرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری کے حوالے سے بھی مختلف مراحل میں اقدامات جاری ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نجکاری اور رائٹ سائزنگ کے ذریعے قومی وسائل کا زیادہ مؤثر استعمال ممکن ہوگا، خسارے میں چلنے والے اداروں کا بوجھ کم ہوگا اور معیشت کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ وزارتوں و اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت مالیاتی نظم و ضبط، انتظامی اصلاحات، ڈیجیٹل گورننس اور شفافیت کے ذریعے ایک جدید، مؤثر اور عوامی خدمت پر مبنی حکومتی نظام تشکیل دینے کے لیے اپنے اصلاحاتی ایجنڈے پر پوری رفتار سے عمل جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی وسائل کا دانشمندانہ استعمال، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور اداروں کی کارکردگی میں بہتری ہی پاکستان کی پائیدار اقتصادی ترقی اور بہتر طرزِ حکمرانی کی بنیاد ثابت ہوگی۔




