پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

پاکستان میں فلسطینی طلبہ کی تعلیمی کامیابی، غزہ کی جنگ کے سائے میں امید، استقامت اور تعلیم کی نئی داستان

اس پروگرام کے تحت فلسطینی طلبہ کو نہ صرف مکمل تعلیمی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں بلکہ رہائش، معاونت اور دیگر ضروری سہولیات بھی مہیا کی جا رہی ہیں

ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

لاہور: غزہ میں جاری جنگ اور انسانی بحران کے باعث بے گھر ہونے والے فلسطینی طلبہ کے لیے پاکستان میں تعلیم کا سفر ایک اہم سنگِ میل تک پہنچ گیا۔ یونیورسٹی آف لاہور میں منعقدہ پروقار تقریبِ تقسیمِ اسناد میں "فلسطینی سکالرشپ پروگرام” کے تحت زیرِ تعلیم 51 فلسطینی طلبہ کی تعلیمی کامیابی کا جشن منایا گیا، جہاں 38 طلبہ کو بیچلر آف ڈینٹل سرجری (بی ڈی ایس) کی ڈگریاں جبکہ ایک سالہ ہاؤس جاب مکمل کرنے والے 13 طلبہ کو سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا۔

یہ تقریب نہ صرف تعلیمی کامیابی کا جشن تھی بلکہ جنگ، نقل مکانی اور مشکلات کے باوجود علم کے سفر کو جاری رکھنے والے فلسطینی نوجوانوں کے عزم، حوصلے اور استقامت کی ایک متاثر کن علامت بھی ثابت ہوئی۔

تعلیم کے ذریعے مستقبل کی تعمیر

ویب سائٹ "آغوش” کے مطابق یہ تعلیمی منصوبہ آغوش یو کے (Aghosh UK) اور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے باہمی اشتراک سے جاری ہے، جس کا مقصد غزہ کی جنگ سے متاثرہ فلسطینی طلبہ کو اپنی اعلیٰ تعلیم بلا تعطل مکمل کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

اس پروگرام کے تحت فلسطینی طلبہ کو نہ صرف مکمل تعلیمی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں بلکہ رہائش، معاونت اور دیگر ضروری سہولیات بھی مہیا کی جا رہی ہیں تاکہ وہ جنگ کے باعث پیدا ہونے والے تعلیمی خلل پر قابو پا سکیں۔

تقریب میں سفارتی، تعلیمی اور سماجی شخصیات کی شرکت

تقریب میں پاکستان میں فلسطین کے سفیر ڈاکٹر زہیر محمد حمداللہ زید نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن مہمانِ اعزاز تھے۔

اس موقع پر یونیورسٹی آف لاہور کی انتظامیہ، سینئر اساتذہ، آغوش یو کے اور الخدمت فاؤنڈیشن کے نمائندوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب میں غزہ کی الازہر یونیورسٹی کے ڈین نے بھی آن لائن خطاب کیا اور پاکستان میں فلسطینی طلبہ کے لیے فراہم کی جانے والی تعلیمی معاونت کو سراہا۔

"یہ صرف طلبہ نہیں، پوری فلسطینی قوم کی نمائندگی کرتے ہیں”

الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان فارغ التحصیل طلبہ کی کامیابی محض انفرادی کامیابی نہیں بلکہ پوری فلسطینی قوم کے عزم اور استقامت کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا:

"لوگ ان طلبہ کو نوجوان ڈینٹسٹ کے طور پر دیکھتے ہیں، مگر میرے نزدیک یہ طلبہ 73 ہزار سے زائد شہداء اور 20 لاکھ سے زیادہ ایسے فلسطینیوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو آج بھی محفوظ چھت سے محروم ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ صرف مشکلات اور تباہی کی سرزمین نہیں بلکہ علم، ہمت، صبر اور استقامت کی بھی علامت ہے، جہاں کے نوجوان انتہائی نامساعد حالات میں بھی تعلیم کے سفر کو جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔

فلسطینی سفیر کا نوجوانوں کے نام پیغام

پاکستان میں فلسطین کے سفیر ڈاکٹر زہیر محمد حمداللہ زید نے فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تعلیم صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ فلسطین کے مستقبل سے جڑی ہوئی ہے۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد غزہ واپس جائیں اور اپنے عوام کی خدمت کریں۔

ان کا کہنا تھا:

"آپ کے اہلِ خانہ ہی نہیں بلکہ پوری فلسطینی قوم آپ کی واپسی اور کامیابی کی منتظر ہے۔ آپ ہی وہ نسل ہیں جو غزہ کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کرے گی۔”

طالب علم کی جذباتی داستان

تقریب کے دوران فلسطینی طالب علم احمد نے اپنی تعلیمی جدوجہد بیان کرتے ہوئے کہا کہ تین سال قبل وہ صرف ایک خواب لے کر غزہ سے نکلے تھے کہ ہر حال میں اپنی تعلیم مکمل کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا سفر غزہ سے ترکی، پھر قاہرہ اور آخرکار پاکستان تک پہنچا، جہاں انہیں الخدمت فاؤنڈیشن کی مسلسل معاونت حاصل رہی۔

انہوں نے کہا:

"اس سفر نے مجھے یہ احساس دلایا کہ انسانیت، ہمدردی اور محبت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔”

ان کے خطاب کے دوران شرکاء نے بھرپور داد دی اور فلسطینی نوجوانوں کے حوصلے کو سراہا۔

جنگ کے باوجود تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کا عزم

الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے مطابق غزہ میں جاری انسانی بحران کے دوران صرف ہنگامی امداد فراہم کرنا ہی کافی نہیں بلکہ نئی نسل کی تعلیم کو محفوظ بنانا بھی انتہائی ضروری ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اگر فلسطینی نوجوان تعلیم سے محروم ہو جائیں تو غزہ کا مستقبل شدید متاثر ہوگا، اسی لیے تعلیم کو امدادی سرگرمیوں کا بنیادی حصہ بنایا گیا ہے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری دو سالہ ہنگامی امدادی پروگرام کے تحت غزہ کے متاثرہ خاندانوں تک 21.55 ملین پاؤنڈ سے زائد مالیت کی امداد پہنچائی جا چکی ہے، جبکہ فلسطینی طلبہ کے لیے مختلف تعلیمی اور سکالرشپ پروگرام بھی کامیابی سے جاری ہیں۔

پاکستان کا تعلیمی تعاون عالمی یکجہتی کی مثال

تعلیمی ماہرین کے مطابق جنگ اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا نہ صرف انسانی ہمدردی بلکہ مستقبل کی تعمیر میں سرمایہ کاری بھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فلسطینی طلبہ کو تعلیم فراہم کرنے کا یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات، انسانی تعاون اور تعلیمی یکجہتی کی ایک مثبت مثال ہے۔

تعلیم ہی روشن مستقبل کی ضمانت

تقریب کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فلسطینی طلبہ کی تعلیم کا سفر ہر ممکن تعاون کے ساتھ جاری رکھا جائے گا تاکہ جنگ اور تباہی کے باوجود علم کا چراغ روشن رہے۔ مقررین نے کہا کہ تعلیم ہی وہ طاقت ہے جو تباہ حال معاشروں کو دوبارہ کھڑا کرنے، نئی قیادت تیار کرنے اور ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ فارغ التحصیل طلبہ کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر عزم مضبوط ہو اور عالمی برادری تعاون کرے تو جنگ بھی علم کے سفر کو روک نہیں سکتی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button