
بلوچستان میں شدت پسندی کی نئی لہر، دو روز میں قتل، اغوا اور آتش زنی کے متعدد واقعات؛ سکیورٹی اداروں کے سرچ آپریشن جاری
بارکھان، تربت، خضدار اور چاغی میں پرتشدد کارروائیاں، متعدد افراد نشانہ بنے
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
کوئٹہ: بلوچستان کے مختلف اضلاع میں گزشتہ دو روز کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات نے ایک بار پھر صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مختلف علاقوں میں مسلح افراد کی کارروائیوں کے نتیجے میں ایک پولیس افسر، ایک مزدور اور ایک راہگیر سمیت دو افراد ہلاک جبکہ ایک ٹرک ڈرائیور زخمی ہو گیا۔ اسی دوران ایک پروجیکٹ مینیجر، چھ مزدوروں اور دیگر افراد سمیت مجموعی طور پر 12 افراد کو اغوا کیے جانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے، جبکہ سات مال بردار گاڑیوں اور گیس باؤزرز کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق تمام واقعات کے بعد پولیس، فرنٹیئر کور (ایف سی)، محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مختلف علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیے ہیں، جبکہ حملہ آوروں کی گرفتاری اور مغویوں کی بازیابی کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
بارکھان میں ڈی ایس پی اغوا کے بعد قتل
سب سے افسوسناک واقعہ ضلع بارکھان میں پیش آیا، جہاں پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان سے متصل علاقے میں منگل کی شام ڈی ایس پی مرید بگٹی اور ان کے گن مین کانسٹیبل رسول بخش کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔
پولیس حکام کے مطابق ڈی ایس پی مرید بگٹی نجی گاڑی میں رکھنی سے بارکھان جا رہے تھے کہ راستے میں مسلح افراد نے ان کی گاڑی روک کر دونوں کو زبردستی اتارا اور پہاڑی علاقے کی جانب لے گئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ایف سی، سی ٹی ڈی اور دیگر سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ بعد ازاں سرچ کے دوران پہاڑی علاقے سے ڈی ایس پی کی گاڑی برآمد ہوئی، جس میں ان کی لاش موجود تھی، جبکہ گن مین کانسٹیبل رسول بخش کو مسلح افراد نے رہا کر دیا۔
حکام کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
تربت میں سات مزدور اغوا، ایک کو قتل کر دیا گیا
دوسرا بڑا واقعہ ضلع کیچ کے صدر مقام تربت کے علاقے کلاتک میں پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر رکھی تھی۔
پولیس ذرائع کے مطابق ایک گاڑی، جس میں سات مزدور سوار تھے، کو روک کر تمام افراد کو اغوا کر لیا گیا۔ یہ مزدور ایک تحصیل دار کی رہائش گاہ پر تعمیراتی کام مکمل کرنے کے بعد اپنے رہائشی کوارٹر واپس جا رہے تھے۔
حکام کے مطابق اغوا کیے گئے مزدوروں میں خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے جاوید خان کو مسلح افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا، جبکہ باقی چھ مزدوروں کو اپنے ساتھ لے گئے۔
پولیس کے مطابق اغوا ہونے والے افراد میں چار کا تعلق پنجاب جبکہ دو کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔
فائرنگ کے تبادلے میں راہگیر جاں بحق
واقعے کی اطلاع ملنے پر سکیورٹی فورسز نے تعاقب شروع کیا، جس کے دوران حملہ آوروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
حکام کے مطابق فائرنگ کی زد میں آ کر مقامی شہری عبدالرزاق جان کی بازی ہار گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور مغویوں کی بازیابی کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
خضدار میں ترقیاتی منصوبے کے مینیجر سمیت چار افراد اغوا
ایک اور اہم واقعہ ضلع خضدار میں پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے تعاون سے جاری ایمرجنسی فلڈ اسسٹنس پروجیکٹ کے پروجیکٹ مینیجر آفتاب احمد منگی سمیت چار افراد کو اغوا کر لیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق آفتاب احمد منگی اپنی ٹیم کے ہمراہ کرخ سے خضدار جا رہے تھے کہ راستے میں مسلح افراد نے انہیں روک لیا۔
اغوا کیے گئے دیگر افراد میں سعید اللہ، عبداللہ سولنگی اور ڈرائیور محی الدین شامل ہیں، جبکہ حملہ آور ان کی گاڑی بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے مغویوں کی بازیابی کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات اور سرچ آپریشن کر رہے ہیں۔
چاغی میں سات مال بردار گاڑیاں اور گیس باؤزرز نذرِ آتش
ضلع چاغی میں پیر اور منگل کی درمیانی شب قومی شاہراہ این-40 پر پدگ کے مقام پر مسلح افراد نے ایک اور کارروائی کرتے ہوئے سات مال بردار گاڑیوں کو آگ لگا دی۔
پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے ایک ہوٹل کے قریب کھڑے ہو کر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے بعد پانچ ٹرالرز اور دو گیس باؤزرز کو نذرِ آتش کر دیا۔
فائرنگ کے نتیجے میں ایک ٹرک ڈرائیور زخمی ہوا، جسے ابتدائی طبی امداد کے بعد نوشکی سے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔
قومی شاہراہ این-40 مسلسل حملوں کی زد میں
حکام کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کو تفتان سے ملانے والی قومی شاہراہ این-40 گزشتہ چند ماہ سے شدت پسند حملوں کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف گزشتہ دو ماہ کے دوران اس شاہراہ پر 100 سے زائد ٹرک، آئل ٹینکرز اور ایل پی جی گیس باؤزرز فائرنگ اور آتش زنی کے واقعات میں تباہ کیے جا چکے ہیں، جبکہ متعدد ڈرائیور بھی ان حملوں میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ شاہراہ کی حفاظت مزید مؤثر بنانے اور حملوں کی روک تھام کے لیے اضافی نفری تعینات کی جا رہی ہے۔
کھڈ کوچہ اغوا کیس تاحال حل طلب
ادھر مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ سے 24 جولائی کو اغوا کیے گئے ایک کوریئر کمپنی کے دو ملازمین تاحال بازیاب نہیں ہو سکے۔
حکام کے مطابق نامعلوم افراد کوئٹہ-کراچی شاہراہ سے کوریئر کمپنی کے ڈرائیور سمیت دو ملازمین کو اغوا کر کے لے گئے تھے، جن میں سے ایک کا تعلق کوئٹہ جبکہ دوسرے کا تعلق ہزارہ برادری سے بتایا جاتا ہے۔
پولیس اور دیگر ادارے اس مقدمے میں بھی مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم اب تک کوئی اہم پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
سکیورٹی صورتحال پر تشویش
بلوچستان میں حالیہ واقعات نے ایک مرتبہ پھر صوبے میں امن و امان، شاہراہوں کی حفاظت اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے عملے کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار پیش آنے والے اغوا، ٹارگٹ کلنگ، شاہراہوں پر ناکہ بندی اور آتش زنی کے واقعات نہ صرف مقامی آبادی بلکہ ملکی معیشت، بین الصوبائی تجارت اور ترقیاتی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تمام واقعات کی تحقیقات جاری ہیں، ذمہ دار عناصر کی گرفتاری اور مغویوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے مربوط کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے سکیورٹی اقدامات مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔



