
وزیراعلیٰ پنجاب کا مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی مراعاتی پیکج کا اعلان، گرین انڈسٹریل اکنامک زون کے قیام کی منظوری
اس منصوبے سے پنجاب میں صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا، مقامی صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انصار ذاہد سیال-ادارت
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑے اقدام کا اعلان کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی مراعاتی پیکج متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس پیش رفت کو پنجاب کی معیشت، صنعت اور روزگار کے شعبوں میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف جدید گرین انڈسٹریز کو فروغ ملے گا بلکہ ہزاروں نئی ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
یہ اعلان وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (او پی ایف) کے وفد کی ملاقات کے دوران سامنے آیا۔ وفد کی قیادت چیئرمین او پی ایف سید قمر رضا نے کی، جبکہ ملاقات میں او پی ایف اور گرین انرجی گروپ کے اشتراک سے پنجاب میں جدید گرین انڈسٹریل اکنامک زون کے قیام کی تجویز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ پنجاب کو جدید، ماحول دوست اور پائیدار صنعتی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ منصوبے کے تحت قابلِ تجدید توانائی، جدید صنعتی انفراسٹرکچر اور ماحول دوست ٹیکنالوجی پر مبنی ایک ایسا اقتصادی زون قائم کیا جائے گا جو ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مواقع فراہم کرے گا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے منصوبے کے بنیادی خدوخال سے اتفاق کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس پر فوری عملدرآمد کے لیے جامع، قابلِ عمل اور مرحلہ وار ایکشن پلان تیار کرکے پیش کیا جائے تاکہ منصوبے کو جلد از جلد عملی شکل دی جا سکے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ پنجاب حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی مراعاتی پیکج متعارف کرایا جا رہا ہے، جس میں مختلف مالی، انتظامی اور قانونی سہولتیں شامل ہوں گی۔
18 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مجوزہ گرین انڈسٹریل اکنامک زون کے قیام سے ابتدائی مرحلے میں 18 ہزار سے زائد براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ اس منصوبے سے سالانہ 5.6 ارب روپے سے زائد آمدن حاصل ہونے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق اس منصوبے سے پنجاب میں صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا، مقامی صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
قابلِ تجدید توانائی پر مبنی جدید صنعتی زون
بریفنگ میں بتایا گیا کہ گرین اکنامک زون میں جدید قابلِ تجدید توانائی کے مختلف منصوبے شامل کیے جائیں گے، جن میں:
- سولر انرجی سسٹمز
- ونڈ پاور منصوبے
- ہائیڈرو انرجی یونٹس
- گراؤنڈ سورس انرجی سسٹمز
- جدید بیٹری اسٹوریج انفراسٹرکچر
- ایچ وی او (Hydrotreated Vegetable Oil) بیک اپ پاور سسٹمز
شامل ہوں گے۔
یہ منصوبے نہ صرف صنعتوں کو ماحول دوست توانائی فراہم کریں گے بلکہ کاربن اخراج میں کمی، توانائی کے متبادل ذرائع کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔
برآمدات اور قومی معیشت کو تقویت
اجلاس کو بتایا گیا کہ گرین اکنامک زون میں تیار ہونے والی ماحول دوست مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں برآمد سے پاکستان کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔
بریفنگ کے مطابق اس منصوبے سے:
- قومی جی ڈی پی میں تقریباً 1.5 فیصد تک اضافے کی توقع ہے۔
- صنعتی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
- علاقائی اقتصادی سرگرمیوں کو نئی رفتار ملے گی۔
- گرین ٹیکنالوجی کی منتقلی اور جدید صنعتی مہارتوں کو فروغ حاصل ہوگا۔
- بیرونی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔
پنجاب سرمایہ کاری کے لیے مکمل طور پر تیار ہے: مریم نواز شریف
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب آج سرمایہ کاری کے لیے پاکستان کا سب سے موزوں صوبہ بن چکا ہے اور حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا:
"پنجاب ہر قسم کی مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے "زیرو ٹائم ٹو سٹارٹ” پالیسی نافذ کر دی ہے، جس کے تحت نئی صنعت یا کاروبار کے آغاز کے لیے غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو تمام متعلقہ سرکاری اداروں کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ ون ونڈو آپریشن کے ذریعے تمام سہولتیں ایک ہی پلیٹ فارم پر فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ:
- تمام این او سیز کی بروقت اور تیز رفتار فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔
- سرمایہ کار دوست ماحول تشکیل دیا گیا ہے۔
- انتظامی اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم سے کم کر دیا گیا ہے۔
- شفاف، محفوظ اور پرامن کاروباری ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔
- سرمایہ کاری کے عمل کو جدید ڈیجیٹل نظام سے مربوط کیا جا رہا ہے۔
پنجاب کو گرین انڈسٹری کا عالمی مرکز بنانے کا عزم
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب حکومت صرف صنعتی ترقی نہیں بلکہ ماحول دوست، پائیدار اور جدید صنعتی انقلاب کی بنیاد رکھ رہی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب کو مستقبل میں گرین انڈسٹری، قابلِ تجدید توانائی، جدید ٹیکنالوجی، ماحول دوست برآمدات اور عالمی سرمایہ کاری کا ایک اہم مرکز بنایا جائے گا تاکہ صوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کی معیشت میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کا بنیادی مقصد روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا، صنعتی پیداوار میں اضافہ، برآمدات کو فروغ دینا اور عوام کے لیے معاشی خوشحالی کے نئے دروازے کھولنا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ مقررہ اہداف کے مطابق مکمل ہوا تو پنجاب نہ صرف پاکستان میں گرین انڈسٹری کا سب سے بڑا مرکز بن سکتا ہے بلکہ قابلِ تجدید توانائی، ماحول دوست صنعتی پیداوار اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی ایک نمایاں علاقائی اقتصادی مرکز کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔



