
موبائل فون ٹیکس اقساط میں ادائیگی کا اعلان، دو ماہ بعد بھی عملی نظام فعال نہ ہو سکا
ایف بی آر نے قانونی گنجائش فراہم کر دی، مگر صارفین کے لیے عملی طریقہ کار تاحال غیر واضح؛ ایف بی آر اور پی ٹی اے کے درمیان تکنیکی و انتظامی رابطہ اہم مرحلہ بن گیا
اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ 2026-27 میں درآمد شدہ سمارٹ فونز پر عائد ٹیکسز کی اقساط میں ادائیگی کی سہولت متعارف کرانے کے اعلان کے باوجود اس پر تاحال عملی طور پر عملدرآمد شروع نہیں ہو سکا، جس کے باعث موبائل فون صارفین میں تشویش بڑھ رہی ہے۔
صارفین کی جانب سے بنیادی سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ یہ سہولت آخر کب دستیاب ہوگی اور وہ بھاری یکمشت ٹیکس ادا کرنے کے بجائے اپنے موبائل فون پر عائد واجبات اقساط میں کس طریقے سے ادا کر سکیں گے۔
اگرچہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری کردہ سرکلر میں موبائل فونز سے متعلق ٹیکس کی اقساط میں ادائیگی کے لیے قانونی گنجائش فراہم کی جا چکی ہے، تاہم عام صارف کے لیے اس سہولت کو استعمال کرنے کا مکمل اور واضح عملی طریقہ کار ابھی سامنے نہیں آ سکا۔
حکام کے مطابق اس نظام کے تکنیکی اور انتظامی پہلوؤں پر کام جاری ہے اور حتمی طریقہ کار طے ہونے کے بعد صارفین کو اس حوالے سے آگاہ کیا جائے گا۔
’پی ٹی اے ٹیکس‘ دراصل کیا ہے؟
عام طور پر پاکستان میں موبائل فون صارفین درآمد شدہ فون کی رجسٹریشن کے لیے ادا کی جانے والی رقم کو ’پی ٹی اے ٹیکس‘ کہتے ہیں، تاہم تکنیکی طور پر یہ اصطلاح مکمل طور پر درست نہیں۔
موبائل فونز پر عائد مختلف ٹیکسز اور ڈیوٹیز بنیادی طور پر ایف بی آر کے ٹیکس نظام کے تحت آتے ہیں۔ پی ٹی اے خود کوئی نیا موبائل فون ٹیکس عائد نہیں کرتی۔
پاکستان میں بیرون ملک سے لائے جانے والے موبائل فون کو مقامی موبائل نیٹ ورکس پر استعمال کرنے کے لیے اس کے آئی ایم ای آئی نمبر کی متعلقہ نظام میں رجسٹریشن ضروری ہوتی ہے۔ ٹیکس اور ڈیوٹی کی ادائیگی کی تصدیق کے بعد پی ٹی اے کے ڈیوائس آئیڈینٹیفیکیشن، رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (DIRBS) کے ذریعے ڈیوائس کی قانونی حیثیت کے مطابق اسے مقامی موبائل نیٹ ورکس پر استعمال کے لیے فعال کیا جاتا ہے۔
اسی لیے موبائل فون صارفین میں عام طور پر رائج ’پی ٹی اے ٹیکس‘ کی اصطلاح دراصل ایف بی آر کی جانب سے عائد مختلف ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے مجموعے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
بجٹ 2026-27 میں اقساط کی سہولت کا اعلان
وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں درآمد شدہ سمارٹ فونز پر عائد ٹیکس کی ادائیگی کو اقساط میں کرنے کی سہولت متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد ایسے صارفین کے لیے سہولت پیدا کرنا ہے جو بیرون ملک سے مہنگا موبائل فون پاکستان لاتے ہیں لیکن اس پر عائد بھاری ٹیکس یکمشت ادا کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔
نئے طریقہ کار کے تحت صارفین کو قانونی طور پر رجسٹریشن مکمل کرنے کے لیے ٹیکس کی رقم مرحلہ وار ادا کرنے کی اجازت دینے کا تصور پیش کیا گیا۔
تاہم بجٹ اعلان کے بعد دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ سہولت عام صارف کے لیے عملی طور پر دستیاب نہیں ہو سکی۔
ایف بی آر نے قانونی راستہ فراہم کر دیا
اس معاملے میں ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایف بی آر نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کے نائنتھ شیڈول میں ترمیم کے ذریعے موبائل فونز پر عائد متعلقہ ٹیکس کی اقساط میں ادائیگی کے لیے قانونی گنجائش فراہم کی۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ سرکلر نمبر 1 آف 2026 میں اس حوالے سے طریقہ کار اور شرائط کی وضاحت کی گئی ہے۔
سرکلر کے تحت پی ٹی اے کے DIRBS پر موبائل فون کی رجسٹریشن کے مرحلے میں صارف کو ٹیکس کی رقم اقساط میں ادا کرنے کی سہولت فراہم کرنے کی قانونی بنیاد رکھی گئی ہے۔
تاہم قانونی اجازت کے باوجود اس سہولت کو عملی شکل دینے کے لیے متعلقہ ڈیجیٹل نظام، ادائیگی کے طریقہ کار اور ایف بی آر و پی ٹی اے کے درمیان تکنیکی انضمام جیسے مراحل مکمل ہونا ابھی باقی ہیں۔
تمام اقساط اسی مالی سال میں ادا کرنا ہوں گی
ایف بی آر کے جاری کردہ طریقہ کار میں ایک اہم شرط یہ بھی شامل ہے کہ اقساط کی سہولت سے فائدہ اٹھانے والے صارف کو تمام واجب الادا اقساط اسی مالی سال کے اختتام سے قبل ادا کرنا ہوں گی جس مالی سال کے دوران متعلقہ موبائل فون پاکستان درآمد کیا گیا ہو۔
اس شرط کا مطلب یہ ہے کہ صارف کو ٹیکس کی ادائیگی کے لیے غیر معینہ مدت تک قسطوں کی سہولت حاصل نہیں ہوگی بلکہ ادائیگی کی مکمل ذمہ داری متعلقہ مالی سال کے اختتام تک پوری کرنا ہوگی۔
یہ شرط صارفین کے لیے اس نظام کو سمجھنے میں اہمیت رکھتی ہے کیونکہ صرف اقساط کی قانونی اجازت ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ ٹیکس کئی سالوں تک مرحلہ وار ادا کیا جا سکے گا۔
ایم این اے سید علی قاسم گیلانی کا مؤقف
اس معاملے پر ملتان سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید علی قاسم گیلانی نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔
ان کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں ان کے موقف اور احتجاج کے نتیجے میں ایف بی آر کی جانب سے سیلز ٹیکس ایکٹ میں ترمیم کرکے موبائل فون ٹیکس کی اقساط میں ادائیگی کے لیے قانونی گنجائش پیدا کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کے نائنتھ شیڈول میں ترمیم کے ذریعے اقساط کے نظام کو قانونی بنیاد فراہم کی اور 11 ستمبر کو سرکلر نمبر 1 آف 2026 جاری کیا۔
ان کے مطابق اس نظام کے تحت صارفین کے لیے یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ متعلقہ مالی سال کے اختتام سے قبل تمام اقساط ادا کی جائیں۔
قانونی منظوری کے باوجود عملی نظام کیوں نہیں چل سکا؟
اصل مسئلہ اب قانونی اجازت سے زیادہ اس نظام کو عملی طور پر نافذ کرنے کا ہے۔
متعلقہ حکام کے مطابق ایف بی آر اور پی ٹی اے کو ایک ایسا مربوط ڈیجیٹل طریقہ کار تشکیل دینا ہوگا جس کے ذریعے صارف موبائل فون کی رجسٹریشن کے وقت ٹیکس کی رقم اقساط میں ادا کر سکے، ادائیگی کا ریکارڈ خودکار طور پر متعلقہ نظام میں منتقل ہو اور DIRBS کو بھی اس ادائیگی کی تازہ صورتحال کا علم ہو۔
ایف بی آر اور پی ٹی اے کے متعلقہ حکام نے بتایا ہے کہ اقساط پر مبنی نظام کے نفاذ کو تاحال حتمی شکل دینا باقی ہے۔
حکام کے مطابق اس حوالے سے تکنیکی کام جاری ہے اور طریقہ کار مکمل ہونے کے بعد صارفین کو اس سہولت کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔
پی ٹی اے پورٹل اور DIRBS سے انضمام اہم مرحلہ
موبائل فون کی قانونی رجسٹریشن کا معاملہ براہ راست DIRBS سے منسلک ہونے کے باعث اقساط کے نظام کو فعال کرنے کے لیے ایف بی آر کے ٹیکس نظام اور پی ٹی اے کے ڈیوائس رجسٹریشن نظام کے درمیان مؤثر ڈیجیٹل رابطہ ضروری ہوگا۔
پی ٹی اے کے متعلقہ حکام کے مطابق پورٹل اور سسٹم کے انضمام کے حوالے سے بعض انتظامی اور تکنیکی معاملات ابھی مکمل ہونا باقی ہیں۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ صارف کی جانب سے ٹیکس کی پہلی قسط ادا کیے جانے کے بعد DIRBS کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ڈیوائس کس ادائیگی کے پلان کے تحت رجسٹر ہوئی ہے اور آئندہ اقساط کی ادائیگی کی نگرانی کس طریقے سے کی جائے گی۔
قسط ادا نہ کرنے کی صورت میں موبائل فون کا کیا ہوگا؟
اقساط کے نظام کو عملی شکل دینے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر کوئی صارف مقررہ تاریخ پر قسط ادا نہ کرے تو اس کے موبائل فون کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔
کیا فون کو DIRBS کے ذریعے فوری طور پر بلاک کر دیا جائے گا؟
کیا صارف کو اضافی مہلت دی جائے گی؟
کیا صرف موبائل نیٹ ورک سروس بند ہوگی یا ڈیوائس کی رجسٹریشن بھی منسوخ کی جائے گی؟
یا پھر عدم ادائیگی کی صورت میں کوئی جرمانہ یا اضافی مالی ذمہ داری عائد ہوگی؟
ان سوالات کا واضح جواب اس وقت تک سامنے نہیں آیا اور یہی وہ تکنیکی و انتظامی نکات ہیں جنہیں حتمی نظام متعارف کرانے سے قبل طے کرنا ضروری ہوگا۔
بینکنگ اور ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام بھی اہم
اقساط میں ٹیکس وصولی کے لیے ادائیگی کا طریقہ کار بھی اہمیت رکھتا ہے۔
صارفین کے لیے یہ واضح ہونا ضروری ہوگا کہ وہ اپنی ماہانہ یا مقررہ قسط کس ذریعے سے ادا کریں گے، آیا ادائیگی بینکوں، آن لائن بینکنگ، موبائل والٹس یا کسی مخصوص سرکاری پورٹل کے ذریعے ممکن ہوگی، اور ادائیگی کے بعد DIRBS پر اس کی تصدیق کتنے وقت میں ہوگی۔
اسی طرح نادہندگی کی صورت میں خودکار طور پر سسٹم کو اپ ڈیٹ کرنے کا طریقہ بھی وضع کرنا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق جب تک ٹیکس وصولی، ادائیگی کی تصدیق اور ڈیوائس ایکٹیویشن یا بلاکنگ کے نظام کو ایک دوسرے سے مربوط نہیں کیا جاتا، اقساط کی سہولت مکمل طور پر فعال کرنا تکنیکی طور پر پیچیدہ رہے گا۔
سوشل میڈیا پر غلط تاثر سے صارفین میں ابہام
گزشتہ چند دنوں میں سوشل میڈیا اور بعض خبر رساں پلیٹ فارمز پر یہ تاثر بھی سامنے آیا کہ موبائل فون ٹیکس اقساط میں ادا کرنے کا نظام عملی طور پر شروع ہو چکا ہے۔
تاہم متعلقہ حکام کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ قانونی گنجائش فراہم کیے جانے اور عملی سہولت شروع ہونے میں فرق موجود ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے قانونی فریم ورک فراہم کیا جا چکا ہے، لیکن عام صارف کے لیے مکمل سہولت اسی وقت دستیاب تصور ہوگی جب ادائیگی، رجسٹریشن، تصدیق اور عدم ادائیگی کی صورت میں کارروائی سمیت تمام مراحل کا باقاعدہ نظام فعال کر دیا جائے۔
صارفین کو کب تک سہولت ملے گی؟
اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے کہ اقساط پر موبائل فون ٹیکس کی ادائیگی کا عملی نظام کب سے شروع ہوگا۔
متعلقہ حکام نے اس حوالے سے کوئی حتمی تاریخ دینے کے بجائے بتایا ہے کہ تکنیکی کام جاری ہے اور طریقہ کار مکمل ہونے کے بعد صارفین کو آگاہ کیا جائے گا۔
یعنی فی الحال صارفین کے لیے ایسی کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی جس سے یہ یقینی طور پر کہا جا سکے کہ فلاں دن سے وہ DIRBS یا متعلقہ پورٹل کے ذریعے موبائل فون ٹیکس اقساط میں ادا کر سکیں گے۔
ماہرین: بروقت عملدرآمد سے صارفین کو ریلیف مل سکتا ہے
ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق موبائل فون ٹیکس کی یکمشت ادائیگی کے بجائے اقساط کی سہولت سے صارفین پر فوری مالی بوجھ کم ہو سکتا ہے۔
خاص طور پر مہنگے سمارٹ فونز خریدنے یا بیرون ملک سے پاکستان لانے والے صارفین کے لیے ایک ہی وقت میں بڑی رقم ٹیکس کی مد میں ادا کرنا مالی طور پر مشکل ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اقساط کا نظام شفاف، آسان اور قابلِ عمل بنایا جاتا ہے تو اس سے قانونی طور پر موبائل فون رجسٹر کروانے کی حوصلہ افزائی بھی ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق اس اقدام کا ایک ممکنہ فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ صارفین غیر رسمی ذرائع یا غیر قانونی طریقوں سے ڈیوائس استعمال کرنے کے بجائے اسے DIRBS کے ذریعے قانونی طور پر رجسٹر کروانے کو ترجیح دیں۔
اصل چیلنج مربوط ڈیجیٹل فریم ورک کی تشکیل
ماہرین کے مطابق اقساط کے نظام کے نفاذ میں بنیادی چیلنج صرف ٹیکس کی تقسیم نہیں بلکہ مختلف سرکاری نظاموں کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کرنا ہے۔
ایف بی آر کے ٹیکس ریکارڈ، موبائل فون کی درآمد سے متعلق معلومات، ادائیگی کا ریکارڈ اور پی ٹی اے کے DIRBS کو ایک مربوط ڈیجیٹل فریم ورک کے تحت کام کرنا ہوگا۔
اس کے ساتھ ساتھ قسط کی تاریخ، عدم ادائیگی، جرمانہ، اضافی مہلت، ڈیوائس بلاکنگ اور بحالی جیسے معاملات کے لیے بھی واضح قواعد کی ضرورت ہوگی۔
جب تک یہ تمام پہلو طے نہیں ہوتے، صارفین کے لیے یہ جاننا مشکل رہے گا کہ اقساط کی سہولت حاصل کرنے کے بعد ان کے موبائل فون کی قانونی حیثیت کس طرح برقرار رہے گی۔
حکومت کے اعلان اور عملی سہولت کے درمیان خلا
موبائل فون ٹیکس کی اقساط میں ادائیگی کا اعلان صارفین کے لیے ایک اہم مالی سہولت کے طور پر سامنے آیا تھا، تاہم قانونی منظوری کے باوجود عملی نظام کا فعال نہ ہونا اس اقدام کے ثمرات عام صارف تک پہنچنے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
موجودہ صورتحال میں ایف بی آر کی جانب سے قانونی فریم ورک فراہم کیا جا چکا ہے، جبکہ پی ٹی اے اور متعلقہ اداروں کو اب اس فریم ورک کو عملی، قابلِ استعمال اور شفاف ڈیجیٹل نظام میں تبدیل کرنا ہے۔
صارفین کی نظریں اب اسی بات پر ہیں کہ ایف بی آر اور پی ٹی اے اس تکنیکی و انتظامی عمل کو کب مکمل کرتے ہیں اور موبائل فون ٹیکس کی اقساط میں ادائیگی کی سہولت باقاعدہ طور پر کب دستیاب ہوتی ہے۔
جب تک حتمی طریقہ کار اور آغاز کی تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں ہوتا، صارفین کے لیے موجودہ نظام کے تحت ٹیکس کی ادائیگی اور DIRBS رجسٹریشن کا عمل ہی قابلِ عمل رہے گا۔



