
صحافت، فیک نیوز، ڈیجیٹل میڈیا، اے آئی مانیٹرنگ، صحافیوں کی رجسٹریشن اور اظہارِ رائے پر جامع پالیسی کا عندیہ،وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری
انہوں نے کہا کہ پرنٹ میڈیا پاکستان میں صحافت کی مضبوط روایت کا امین ہے اور قومی بیانیے کی تشکیل میں اس کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔
سید عاطف ندیم-ادارت
لاہور: پنجاب کی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کو درپیش چیلنجز، فیک نیوز، سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات، صحافتی ذمہ داریوں، مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال، صحافیوں کی رجسٹریشن، پریس قوانین اور اظہارِ رائے کی آزادی جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت میڈیا کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ ذمہ دار صحافت، درست معلومات کے فروغ اور جعلی خبروں کے خاتمے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔
سی پی این ای کا شکریہ، پرنٹ میڈیا سے براہِ راست مکالمہ ضروری قرار
اپنے خطاب کے آغاز میں عظمیٰ بخاری نے سی پی این ای کی قیادت اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس فورم کی بدولت انہیں اخبارات کے مدیران اور نمائندوں سے براہِ راست گفتگو کا موقع ملا۔
انہوں نے کہا کہ پرنٹ میڈیا پاکستان میں صحافت کی مضبوط روایت کا امین ہے اور قومی بیانیے کی تشکیل میں اس کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔
ڈی جی پی آر میں اے آئی پر مبنی ڈیجیٹل میڈیا ونگ قائم کرنے کا اعلان
وزیر اطلاعات نے اعلان کیا کہ محکمہ اطلاعات پنجاب (ڈی جی پی آر) میں جدید تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹل میڈیا ونگ قائم کیا جا رہا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence – AI) کی مدد سے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ انسانی وسائل کی محدود دستیابی کے باعث جدید ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہا ہے تاکہ معلومات کی بروقت نگرانی، تجزیہ اور عوام تک درست معلومات کی فراہمی کو مؤثر بنایا جا سکے۔
ان کے مطابق مستقبل میں حکومتی اداروں کی ڈیجیٹل موجودگی اور عوامی آگاہی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کلیدی کردار ادا کرے گی۔
محکمے اپنی آگاہی مہمات خود چلا رہے ہیں
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب حکومت کے مختلف محکمے اب اپنی ڈیجیٹل آگاہی مہمات خود چلا رہے ہیں تاکہ حکومتی منصوبوں اور عوامی خدمات سے متعلق درست معلومات براہِ راست عوام تک پہنچائی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے اور حکومت بھی اس تبدیلی کے مطابق اپنی حکمت عملی مرتب کر رہی ہے۔
پرنٹ میڈیا کی اہمیت برقرار ہے
وزیر اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ ڈیجیٹل میڈیا تیزی سے فروغ پا رہا ہے، تاہم پرنٹ میڈیا اب بھی مستند اور ذمہ دار صحافت کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا:
"ڈیجیٹل میڈیا پرنٹ میڈیا کو کھا رہا ہے، لیکن آج بھی درست معلومات اور مستند خبریں زیادہ تر پرنٹ میڈیا میں ہی شائع ہوتی ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ہمیشہ پرنٹ میڈیا کی سرپرستی اور تعاون کیا ہے اور حکومت اس شعبے کو مزید مضبوط دیکھنا چاہتی ہے۔
فیک نیوز اور ڈمی اخبارات بڑا چیلنج
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں اور گمراہ کن معلومات کی بھرمار ہے، جبکہ جعلی اور ڈمی اخبارات بھی صحافت کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے حالیہ عرصے میں اڑھائی ہزار سے زائد ڈمی اخبارات کی رجسٹریشن منسوخ کی ہے تاکہ سرکاری اشتہارات اور میڈیا سسٹم کو شفاف بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو اخبارات کی میڈیا لسٹ کی جانچ پڑتال اور تصدیق کرے گی تاکہ صرف فعال اور حقیقی ادارے ہی سرکاری فہرست میں شامل رہیں۔
صحافی کی تعریف کے لیے کمیٹی تشکیل
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ صحافتی تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ایک الگ کمیٹی قائم کی گئی ہے جو اس بات کا تعین کرے گی کہ "صحافی” کی تعریف کیا ہونی چاہیے۔
انہوں نے سوال اٹھایا:
"اگر کوئی شخص صرف ہال روڈ سے مائیک خرید لے تو کیا اسے صحافی تسلیم کر لیا جائے؟”
ان کا کہنا تھا کہ صحافت ایک ذمہ داری اور پیشہ ورانہ معیار کا تقاضا کرتی ہے، اس لیے اس شعبے میں واضح اصول اور معیار مقرر ہونا ضروری ہیں۔
پیکا قانون اور سوشل میڈیا
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اگر صحافتی تنظیمیں خود فیک نیوز، جھوٹے پروپیگنڈے اور غیر ذمہ دارانہ مواد کے خلاف مؤثر کارروائی کریں تو پیکا جیسے قوانین کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیکا قانون کا بنیادی تعلق پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا سے نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط معلومات اور غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں سے ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ:
"کیا سوشل میڈیا پر کسی کی عزت اچھال دینا بھی اظہارِ رائے کی آزادی ہے؟”
ہتکِ عزت اور ذاتی تجربات
وزیر اطلاعات نے کہا کہ وہ خود ہتکِ عزت کے مقدمات عدالتوں میں لے کر گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی، تاہم ان کا مقصد مالی ہرجانہ حاصل کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو ذمہ داری کا احساس دلانا تھا۔
انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود ڈیپ فیک ویڈیوز کا شکار رہ چکی ہیں اور اس معاملے میں متعدد بار عدالتوں سے رجوع کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا:
"میں ایک بیٹی کی ماں ہوں، کل میری بیٹی کی شادی بھی ہونی ہے۔ جب میرے بارے میں جعلی ویڈیوز پھیلائی جاتی ہیں تو اس کا میری شخصیت اور خاندان پر کیا اثر پڑتا ہے، اس کا احساس بھی ہونا چاہیے۔”
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایسے واقعات میں ملوث بعض افراد آج بھی خود کو عوامی ہیرو کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
صحافتی تنظیموں پر تنقید
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ صحافتی تنظیموں کی خاموشی بعض اوقات صحافت کو نقصان پہنچاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحافی کسی سیاسی جماعت یا گروہ کا نمائندہ نہیں بلکہ صرف صحافت کا نمائندہ ہونا چاہیے۔
ان کے مطابق میڈیا کے نام پر بعض عناصر معاشرے میں انتشار اور نفرت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جن کے خلاف صحافتی برادری کو خود مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
بلوچستان کے طلبہ اور قومی یکجہتی
وزیر اطلاعات نے اپنے خطاب میں بلوچستان کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ چند روز قبل بلوچستان سے طلبہ کا ایک وفد وزیراعلیٰ پنجاب سے ملا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بلوچستان سمیت دیگر صوبوں کے طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اور اسکالرشپ پروگرام میں خصوصی کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ قومی یکجہتی اور بین الصوبائی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کا مسئلہ صرف ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد ضروری ہے۔
بھارت پراکسی عناصر
اپنے خطاب میں عظمیٰ بخاری نے کیا کہ بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے چیلنجز کا مقابلہ صرف قومی اتحاد، مضبوط ریاستی اداروں اور ذمہ دار میڈیا کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
سوشل میڈیا کی آزادی اور ضابطہ
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا کو دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ آزادی حاصل ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پاکستان میں باضابطہ مفاہمتی معاہدوں (ایم او یوز) کے بغیر بھی کام کر رہے ہیں، اس لیے ان پلیٹ فارمز کے ساتھ مؤثر رابطے اور ضابطہ کاری پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ذمہ دار صحافت وقت کی ضرورت
خطاب کے اختتام پر عظمیٰ بخاری نے کہا کہ میڈیا جمہوریت کا اہم ستون ہے، تاہم آزادیٔ اظہار کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت، میڈیا، صحافتی تنظیموں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مشترکہ طور پر ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں مستند معلومات کو فروغ ملے، جعلی خبروں کی حوصلہ شکنی ہو، صحافیوں کے پیشہ ورانہ معیار کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور ہر شہری کی عزت، وقار اور قانونی حقوق محفوظ رہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب حکومت صحافتی اداروں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ایسے اقدامات جاری رکھے گی جو آزاد، ذمہ دار اور پیشہ ورانہ صحافت کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوں۔



