پاکستاناہم خبریں

سیکیورٹی فورسز کی مشترکہ کارروائیاں، 49 دہشت گرد ہلاک، بھاری مقدار میں اسلحہ و دھماکہ خیز مواد برآمد

سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے خیبرپختونخوا کے اضلاع بنوں، شمالی وزیرستان، اورکزئی اور خیبر میں متعدد انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کیں۔

سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: ملک میں دہشت گردی کے خطرات کے خاتمے اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے گزشتہ چند روز میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں متعدد تیز رفتار اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر مشترکہ آپریشنز کیے ہیں، جن میں بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو ہلاک کرنے اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائیوں کا مقصد بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد گروہوں، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے وابستہ عناصر کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا اور ملک میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کو ناکام بنانا تھا۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں 12 خوارج جبکہ بلوچستان میں 37 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ یوں فراہم کردہ ضلعی تفصیلات کے مطابق مجموعی تعداد 49 بنتی ہے، اگرچہ ابتدائی بیان میں مجموعی تعداد 39 بتائی گئی ہے۔ حتمی تعداد متعلقہ حکام کی تصدیق سے واضح ہوگی۔

خیبرپختونخوا میں متعدد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز

سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے خیبرپختونخوا کے اضلاع بنوں، شمالی وزیرستان، اورکزئی اور خیبر میں متعدد انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کیں۔

حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران ہندوستانی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج سے وابستہ 12 خوارج کو ہلاک کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے زیر استعمال ٹھکانوں اور خفیہ مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ آپریشنز کے نتیجے میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت اور ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی کو بھی ناکام بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

بھاری مقدار میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد

خیبرپختونخوا میں کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد، آئی ای ڈی ریموٹ ڈیٹونیٹرز، اسلحہ، گولہ بارود اور موٹر سائیکلیں برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

حکام کے مطابق برآمد ہونے والے سامان کو قبضے میں لینے کے بعد ناکارہ بنا دیا گیا، جبکہ دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانوں اور نیٹ ورک سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔

سیکیورٹی اداروں کے مطابق برآمد ہونے والا سامان دہشت گرد حملوں کی تیاری اور سیکیورٹی فورسز و شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا۔

بلوچستان میں بھی بڑے پیمانے پر کارروائیاں

بلوچستان میں بھی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف متعدد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے۔

تفصیلات کے مطابق مستونگ، مچھ، خضدار اور پنجگور کے اضلاع میں مجموعی طور پر 10 انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی گئیں۔

حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الہندوستان سے وابستہ 37 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

سیکیورٹی فورسز نے کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے زیر استعمال مختلف مقامات کو بھی نشانہ بنایا اور ان کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔

دھماکہ خیز ڈرم اور ریموٹ ڈیٹونیشن کا سامان قبضے میں

بلوچستان میں کیے گئے آپریشنز کے دوران سیکیورٹی فورسز نے بھاری مقدار میں اسلحہ، دھماکہ خیز ڈرم اور ریموٹ ڈیٹونیشن کا سامان قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

حکام کے مطابق برآمد شدہ مواد کو سیکیورٹی کے تقاضوں کے مطابق ناکارہ بنا دیا گیا، جبکہ دہشت گردوں کے دیگر ممکنہ ساتھیوں اور سہولت کاروں کی تلاش بھی جاری ہے۔

سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے، تخریبی کارروائیاں کرنے اور شہری علاقوں میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے سے روکنا ہے۔

دہشت گرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا

سیکیورٹی حکام کے مطابق خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بیک وقت جاری انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں سے دہشت گرد نیٹ ورکس کو اہم نقصان پہنچا ہے۔

ان کارروائیوں میں نہ صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا بلکہ ان کے زیر استعمال اسلحہ، دھماکہ خیز مواد، مواصلاتی و ریموٹ ڈیٹونیشن آلات اور نقل و حرکت کے ذرائع بھی قبضے میں لیے گئے۔

حکام کے مطابق کارروائیوں کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کی صلاحیت کو ختم کرنا، ان کے نیٹ ورک کو توڑنا اور ممکنہ حملوں کو ان کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ناکام بنانا ہے۔

سیکیورٹی فورسز کا عزم

سیکیورٹی فورسز نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک کی سلامتی اور سرحدوں کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر جاری رہیں گی اور دہشت گرد عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور معاونت فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف بھی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

"عزمِ استحکام” کے تحت انسداد دہشت گردی مہم

حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ملک میں جاری انسداد دہشت گردی کی مسلسل مہم کا حصہ ہیں، جو "عزمِ استحکام” کے وژن کے تحت آگے بڑھائی جارہی ہے۔

اس مہم کے تحت دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، علاقوں کی کلیئرنس اور سینیٹائزیشن سمیت مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں۔

سیکیورٹی اداروں کے مطابق ایسے علاقوں میں جہاں دہشت گرد عناصر کی موجودگی یا نقل و حرکت کی اطلاعات ہوں، وہاں کارروائی کرکے علاقے کو کلیئر کیا جارہا ہے تاکہ دہشت گرد دوبارہ اپنے نیٹ ورک قائم نہ کرسکیں۔

علاقے کی سینیٹائزیشن کا عمل جاری

حکام کا کہنا ہے کہ مختلف کارروائیوں کے بعد متعلقہ علاقوں میں سینیٹائزیشن آپریشنز بھی جاری ہیں، جن کا مقصد دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانوں، خفیہ راستوں اور سہولت کاری کے نیٹ ورک کا سراغ لگانا ہے۔

سیکیورٹی فورسز کے مطابق کسی بھی علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے صرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کافی نہیں بلکہ ان کے نیٹ ورک، اسلحہ کے ذخائر اور سہولت کاروں کا بھی خاتمہ ضروری ہے۔

بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں مسلسل دباؤ

خیبرپختونخوا اور بلوچستان طویل عرصے سے دہشت گردی کے مختلف چیلنجز کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ موجودہ کارروائیوں میں ان دونوں صوبوں کے متعدد حساس اضلاع کو شامل کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیوں کا دائرہ مزید بڑھایا جاسکتا ہے، جبکہ دہشت گرد عناصر کی نقل و حرکت اور ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی پر مسلسل نظر رکھی جارہی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ

سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ ملک میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

حکام کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور کسی بھی دہشت گرد گروہ کو ملک میں دوبارہ منظم ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دہشت گردوں کے خلاف حالیہ کارروائیوں میں بڑی تعداد میں دہشت گردوں کی ہلاکت اور بھاری مقدار میں اسلحہ و دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی کو سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اہم کامیابی قرار دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا ریاستی ادارے مؤثر اور فیصلہ کن انداز میں جواب دیں گے، جبکہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے تک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور سینیٹائزیشن کا عمل جاری رہے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button