
زندہ درگور ہوتی غریب عوام اور بے حس حکمران ……..مشتاق رضوی
درآمدات مہنگی ہونے سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جبکہ برآمدات میں اضافہ نہ ہونے سے زرمبادلہ کی کمی مزید گہری ہو گئی ہے
پاکستان آج اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ کساد بازاری نے ہر شعبے کو جکڑ لیا ہے،زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں، درآمدات اور برآمدات میں شدید عدم توازن ہے اور مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ غربت اور بے روزگاری عروج پر ہیں جبکہ مالیاتی خسارہ اور بیرونی قرضوں کا بوجھ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔معاشی بدحالی کا سب سے بڑا اثر غریب مزدور اور پڑھے لکھے نوجوانوں پر پڑا ہے۔ صنعتوں کی بندش، کاروبار کا سکڑاؤ اور سرمایہ کاری میں کمی کے باعث روزگار کے مواقع تقریباًختم ہو چکے ہیں یونیورسٹیوں سے ڈگریاں لے کر نکلنے والے لاکھوں بے روزگار نوجوان دفتروں کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن نوکری نہیں مل رہی سرکاری محکموں اور فیکٹریوں میں ڈاؤن سائزنگ ہو رہی ہے اور چھوٹے تاجر قرضوں کے بوجھ تلے دب کر کاروبار بند کرنے پر مجبور ہیں۔ نتیجتاً گھروں میں فاقے ہیں اور مایوسی نے نوجوانوں کو ملک چھوڑنے یا خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ حکومتی معاشی پالیسیاں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہیں حکومت قرضے پر قرضہ لے کر ملک چلا رہی ہے لیکن اس قرض کا کوئی حساب کتاب نہیں۔ بیرونی قرضے اربوں ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور ہر نیا قرضہ پرانے قرضے کی قسط اتارنے میں خرچ ہو جاتا ہے۔ مالیاتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے جسے پورا کرنے کے لیے عوام پر نئے نئے ٹیکس، پیٹرولیم لیوی اور بجلی گیس کے بھاری بل لادے جا رہے ہیں۔ درآمدات مہنگی ہونے سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جبکہ برآمدات میں اضافہ نہ ہونے سے زرمبادلہ کی کمی مزید گہری ہو گئی ہے۔اس اندھیرے میں سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کا دور دورہ ہے۔ حکمرانوں اور اشرافیہ کے بینک بیلنس میں سینکڑوں اربوں ڈالرز کا اضافہ ہو رہا ہے۔ وزراء، اراکین پارلیمنٹ، ججز اور اعلیٰ افسران لاکھوں روپے ماہانہ مراعات، مفت بجلی، مفت پٹرول، سرکاری رہائش اور مفت علاج کی سہولتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ایک غریب عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہا ہے۔ روزانہ اربوں روپے کی کرپشن ہو رہی ہے۔ بجلی، گیس اور ٹیکسز کی چوری کھلے عام جاری ہے لیکن ریاست اسے روکنے میں ناکام ہے۔حکومتی پالیسیوں نے غریب کو مکمل طور پر زندہ درگور کر دیا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے سفید پوش طبقہ بھی خط غربت سے نیچے چلا گیا ہےدوائیاں، تعلیم اور علاج ناقابل رسائی ہو چکے ہیں۔معاشی مجبوریوں کے باعث کئی خاندانوں نے خودکشی کو ترجیح دی ہے۔ جبکہ نوجوان۔نسل انتہائی مایوسی کا شکار ہے حالانکہ نوجوان نسل کسی بھی ملک و قوم کی ریڑھ کی حیثیت رکھتے ہیں
"کس سے منصفی چاہیں، کس کے ہاتھوں پہ اپنا لہو تلاش کریں ”
"پنجاب میں ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں سے راہ فرار، اشرافیہ کی عیاشیاں اور بڑھتا ہوا انسانی اور عوامی بحران "کے حوالے سے بھی آج رقلمطرازہوں معروف انویسٹیگیٹوجرنلسٹم حترم عبدالجبارخان نے پنجاب حکومت کی پالیسیوں پر بڑے تلخ حقائق سامنے رکھے ہیں ان کے مطابق حکومت نے سب سے پہلے 18,000 پرائمری سکولز کو آؤٹ سورس کیا۔ اس کے بعد دیہات اور قصبات میں موجود بیسک ہیلتھ یونٹس کو نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا۔ اب حکومت نے تحصیل ہیڈ کوارٹر اور ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کو بھی آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 60 ہسپتال جن میں 8 ڈی ایچ کیو اور 52 ٹی ایچ کیو شامل ہیں نجی شعبے کو دیے جا رہے ہیں۔ راجن پور کا ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو جام پور و روجھان بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔ اس طرح ریاست نے تعلیم اور صحت جیسی بنیادی آئینی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر جان چھڑوا لی ہے اور اب سارا زور صرف شہروں اور قصبات کی بیوٹیفکیشن پر دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب حکومت کے بڑے شہری منصوبے عوام پر مزید بوجھ بن رہے ہیں۔ لاہور کی میٹرو بس کے پٹرول اور آپریشنل اخراجات پورے کرنا حکومت کے لیے مشکل ہو گیا ہے اور پچھلے دنوں اس کی بندش کی افواہیں بھی گردش کرتی رہیں۔ اس کے باوجود اب فیصل آباد میں 22 کلومیٹر طویل میٹرو ٹریک پر 92 ارب روپے خرچ کر کے تعمیر شروع کر دی گئی ہے۔ پنڈی اور ملتان کے بعد فیصل آباد تیسرا بڑا شہر ہے جہاں شہر کی کھدائی سے لاکھوں لوگ روزانہ اذیت کا شکار ہیں۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے پہلے دور میں گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس جی ٹی ایس کو یہ کہہ کر ختم کر دیا گیا تھا کہ حکومت کا کام بسیں چلانا نہیں ہوتا۔روزگار کے محاذ پر صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ پنجاب حکومت نے ایک ہی حکم سے 46,000 خالی آسامیاں ختم کر دیں جن میں سے 30,000 صرف محکمہ تعلیم کی تھیں۔ ڈاکٹرز، پروفیسرز اور ٹیچرز سمیت گریڈ 1 سے 16 تک کی لاکھوں آسامیاں ختم کر دی گئیں۔ ریٹائرڈ غریب ملازمین کی پنشنز بھی بند کر دی گئیں۔ صنعتی یونٹ بند ہو رہے ہیں، کاروباری سرگرمیاں زوال پذیر ہیں اور بڑے ادارے مسلسل ڈاؤن سائزنگ کر رہے ہیں۔ اس سب کے نتیجے میں بیروزگاروں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔سب سے بڑا تضاد اور ظالم اشرافیہ بے لگام ہےمعاشی تفریق عیاشیوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ ایک طرف عام آدمی پر پیٹرولیم لیوی، بجلی کے بھاری بل، نئے نئے ٹیکسز اور بھاری جرمانے لاد دیے گئے ہیں۔ دوسری طرف وزراء، اراکین پارلیمنٹ، ججز اور اعلیٰ افسران لاکھوں روپے ماہانہ مراعات لے رہے ہیں۔ انہیں مفت بجلی، مفت پٹرول، سرکاری رہائش، مفت علاج معالجہ اور دیگر بے شمار سہولیات حاصل ہیں۔ اراکین پارلیمنٹ اور ججز کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں حالیہ دنوں میں بھی لاکھوں روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی نئی فورسز بنائی جا رہی ہیں اور افسران کی تعیناتیوں پر کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔اس سب کے باوجود حکومت قرضے پر قرضہ لے کر چلائی جا رہی ہے جس کا کوئی حساب کتاب نہیں۔ روزانہ اربوں روپے کی کرپشن ہو رہی ہے۔ بجلی، گیس اور ٹیکسز کی چوری کو لگام ڈالنے میں ریاست مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ محکمہ صحت، محکمہ تعلیم، بلدیات اور زراعت کا بیڑہ غرق کر دیا گیا اور غریب ملازمین کا معاشی قتل عام کیا گیا۔
ہمارے بزرگوں نے پاکستان کے لیے قربانیاں دیں۔ پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کے بہادر جوان آج بھی ملک کی سالمیت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ لیکن ان کی نسلیں آج پاکستان میں رہنے کے لیے ہر سانس کے بدلے تاوان دینے پر مجبور ہیں۔ اقتدار اور اپوزیشن دونوں ہی گونگے، بہرے اور اندھے بنے ہوئے ہیں۔ ایک جماعت کو اپنے لیڈر کی رہائی کی فکر ہے تو دوسری بڑی عوامی جماعت چوروں، ڈاکوؤں اور مافیاز کے ساتھ مفاہمت میں مصروف عمل ہے۔
ان معروضی حالات میں ملک میں امید کا کوئی امید کاچراغ نظر نہیں آ رہا۔جب تک اشرافیہ کی عیاشیاں کم نہیں ہوں گی، کرپشن پر ہاتھ نہیں ڈالاجائے گااور پیداواری معیشت پر توجہ نہیں دی جائے گی، پاکستان کا یہ معاشی بحران مزید گہرا ہوتا جائے گا۔ آج ضرورت اس امر کی ہےکہ حکمران اپنی ترجیحات بدلیں۔ قرضوں اور بڑے منصوبوں کے بجائے روزگار، تعلیم، صحت اور صنعت پر سرمایہ لگایا جائے تاکہ غریب عوام کو ریلیف مل سکے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب معاشی بدحالی سماجی انتشار اور انسانی تباہی کی شکل اختیار کر لے گی۔ جبکہ
ملک اور عوام کا اللہ ہی حافظ ہے ۔


