پاکستاناہم خبریں

لاہور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی سٹریٹ موومنٹ، عظمیٰ بخاری کا عوامی ردعمل کی ویڈیوز کے ساتھ سخت ردعمل

کل فٹ پاتھ پر اگنور کیا، آج کرسی سے اٹھا دیا، مہمان ہے، ایسا سلوک نہیں کرنا چاہیے,نام نہاد سٹریٹ موومنٹ میں پولیس، گارڈز اور یوٹیومرز کے علاوہ کوئی تیسرا بندہ نہیں ہے: عظمیٰ بخاری

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
انصار ذاہد سیال-پاکستان

لاہور: وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے لاہور کے دورے اور تحریک انصاف کی جانب سے جاری سٹریٹ موومنٹ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد ویڈیوز شیئر کی ہیں۔ ان ویڈیوز کے ذریعے انہوں نے لاہور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی سرگرمیوں کے دوران مبینہ عوامی ردعمل کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

عظمیٰ بخاری نے اپنی ایک پوسٹ میں لاہور کے شہریوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، "لاہوریو! یہ دن بھی دیکھنا تھا، بری بات۔” انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ مبینہ طور پر پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز انہیں فٹ پاتھ پر نظرانداز کیا گیا جبکہ اگلے روز کرسی سے اٹھا دیا گیا، تاہم ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ مہمان ہیں اور ان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہونا چاہیے۔

پنجاب کی وزیر اطلاعات نے ویڈیو میں نظر آنے والے عوامی ردعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ احتجاجاً یہ کہہ رہے تھے کہ متعلقہ افراد جھوٹ بول رہے ہیں، جبکہ گارڈز نے لوگوں کو پیچھے کیا۔ ان کے بقول، "موصوف نے معصوم بن کر منہ دوسری طرف کر لیا” اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس نوعیت کا ردعمل مختلف مقامات پر سامنے آ رہا ہے۔

سٹریٹ موومنٹ میں عوامی شرکت پر سوال

عظمیٰ بخاری نے ایک دوسری ویڈیو بھی ایکس پر پوسٹ کی جس میں انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی سٹریٹ موومنٹ میں عوامی شرکت کے حوالے سے سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں پولیس، سکیورٹی اہلکاروں اور یوٹیوبرز کے علاوہ عام شہریوں کی موجودگی دکھائی نہیں دیتی۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، "پلیز کوئی پولیس، گارڈز اور یوٹیوبرز کے علاوہ کوئی بندہ دکھا دے۔” ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی سٹریٹ موومنٹ کو عوامی حمایت حاصل نہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ "میرا کام ہے آپ کو اصلیت دکھانا، فیصلہ آپ خود کر لیں۔”

وزیر اطلاعات پنجاب نے مزید کہا کہ ویڈیو میں رات 8 بج کر 23 منٹ پر نظر آنے والے منظر کو دیکھ کر شہری خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہاں کتنی عوام موجود تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سٹریٹ موومنٹ کے دوران ٹریفک روکی گئی اور پھر ایسی ویڈیوز بنائی گئیں جن سے زیادہ لوگوں کی موجودگی کا تاثر پیدا ہو۔

یہ الزامات بنیادی طور پر عظمیٰ بخاری کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز اور ان کے اپنے سیاسی مؤقف پر مبنی ہیں، اس لیے ویڈیوز میں نظر آنے والے افراد کی تعداد یا ان کی وابستگی کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

لاہور میں سٹریٹ موومنٹ اور سیاسی کشیدگی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ان دنوں تحریک انصاف کی سٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں لاہور میں موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے لاہور کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور پارٹی کارکنوں و مقامی قیادت کے ساتھ سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ ایک روز قبل لکشمی چوک میں پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاری کے معاملے پر بھی کشیدگی پیدا ہوئی تھی، جس کے بعد سہیل آفریدی پولیس موبائل میں بیٹھ گئے تھے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس واقعے کو گرفتاری قرار دیا گیا، جبکہ پولیس حکام نے گرفتاری کی تردید کی۔

عظمیٰ بخاری نے اس واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی اور کہا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی گرفتاری سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی اطلاعات درست نہیں۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی خود پولیس گاڑی میں بیٹھے تھے۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں سرگرمیاں

دستیاب رپورٹس کے مطابق سہیل آفریدی کی لاہور میں سرگرمیوں کے دوران ان کا قافلہ مختلف علاقوں سے گزرا۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان کا قافلہ شاہ جمال سے روانہ ہو کر کینال روڈ، مسلم ٹاؤن انڈرپاس اور فیروزپور روڈ کی جانب گیا، جبکہ بعد ازاں وہ اچھرہ بازار کی طرف بھی گئے۔

اس سے ایک روز قبل بھی ان کی جانب سے لاہور کے اندرونی علاقوں، جن میں موچی گیٹ، اکبری گیٹ، بھاٹی گیٹ اور لوہاری گیٹ شامل ہیں، میں سیاسی سرگرمی کی گئی تھی۔

سیاسی بیانیے کی جنگ تیز

سہیل آفریدی کے لاہور دورے کے ساتھ ہی پنجاب حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی بیانیے کی جنگ بھی تیز ہوگئی ہے۔ ایک جانب پی ٹی آئی اپنی سرگرمیوں کو سٹریٹ موومنٹ کا حصہ قرار دے رہی ہے، جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے اس کی عوامی پذیرائی اور طریقہ کار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

عظمیٰ بخاری اس سے قبل بھی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی سٹریٹ موومنٹ پر تنقید کر چکی ہیں۔ 4 ستمبر کو انہوں نے الزام لگایا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا چارٹر طیارے کے ذریعے سٹریٹ موومنٹ چلا رہے ہیں۔

دوسری طرف لاہور میں پی ٹی آئی کی سرگرمیوں کے دوران کارکنوں اور پولیس کے درمیان کشیدگی، گرفتاریوں کے الزامات اور سیاسی رہنماؤں کے باہمی بیانات نے معاملے کو مزید سیاسی اہمیت دے دی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق لاہور میں سہیل آفریدی کی سرگرمیوں کے دوران پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے ہراساں کیے جانے اور گرفتاریوں کی شکایات بھی سامنے آئیں، جبکہ پنجاب اسمبلی میں ہونے والی بعض سرگرمیوں کے دوران بھی تلخی اور تصادم کی اطلاعات ملیں۔

یوں لاہور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی سٹریٹ موومنٹ محض ایک سیاسی سرگرمی تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے ساتھ عوامی شرکت، پولیس کارروائیوں، سوشل میڈیا ویڈیوز اور پنجاب و خیبرپختونخوا حکومتوں کے درمیان بیانات کی جنگ بھی نمایاں ہوگئی ہے۔ عظمیٰ بخاری کی تازہ پوسٹس اسی سیاسی کشمکش کا حصہ ہیں، جبکہ ان کی جانب سے پیش کیے گئے عوامی ردعمل کے دعووں کا حتمی اندازہ مکمل ویڈیو سیاق و سباق اور آزادانہ تصدیق سے ہی ممکن ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button