پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

مریم نواز سے آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل کی ملاقات، پنجاب میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کے اقدامات کو سراہا

ملاقات میں راشن کارڈ، لیبر قوانین، لیبر کالونیز، صنعتی ورکرز کے لیے رہائشی سہولیات، سماجی تحفظ اور مزدوروں کے حقوق سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
انصار ذاہد سیال-پاکستان

لاہور: وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے عالمی ادارہ محنت (ILO) کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ایف ہونگبو نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی، جس میں پنجاب میں مزدوروں اور صنعتی ورکرز کی فلاح و بہبود، لیبر قوانین کے نفاذ، کم از کم اجرت، سماجی تحفظ، رہائش، چائلڈ لیبر کے خاتمے، پیشہ ورانہ صحت و حفاظت اور خواتین کی صنعتی شعبے میں شرکت سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف نے عالمی ادارہ محنت کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پنجاب میں محنت کش طبقے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے مختلف اقدامات اور منصوبوں سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ایف ہونگبو نے پنجاب حکومت کی جانب سے مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا اور محنت کشوں کے لیے سہولیات میں اضافے کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ملاقات میں راشن کارڈ، لیبر قوانین، لیبر کالونیز، صنعتی ورکرز کے لیے رہائشی سہولیات، سماجی تحفظ اور مزدوروں کے حقوق سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔

مزدوروں کی فلاح حکومت کی ترجیح ہے، مریم نواز

وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب حکومت محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کو اپنی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نہ صرف مزدوروں کو قانونی حقوق اور سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے بلکہ ان کے خاندانوں کو صحت، رہائش، تعلیم اور بنیادی ضروریات کی سہولیات کی فراہمی پر بھی توجہ دے رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد پنجاب لیبر کوڈ 2026 نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت کم از کم اجرت میں اضافہ، مزدوروں کی باقاعدہ رجسٹریشن اور لیبر قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ لیبر قوانین کے مؤثر نفاذ کے ساتھ ساتھ مزدوروں کو سوشل سکیورٹی کوریج، بہتر رہائش اور ان کے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

49 لاکھ ورکرز کو کم از کم اجرت کی ادائیگی یقینی بنانے کا دعویٰ

وزیرِاعلیٰ نے بتایا کہ گزشتہ تین سال کے دوران پنجاب میں 49 لاکھ ورکرز کو کم از کم اجرت کی ادائیگی یقینی بنائی گئی ہے، جبکہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی کی گئی۔

ان کے مطابق کم از کم اجرت سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی پر 752 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف قوانین بنانا نہیں بلکہ ان پر عملی طور پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے تاکہ مزدوروں کو ان کے جائز حقوق حاصل ہو سکیں۔

70 ہزار سے زائد بچوں کی جبری مشقت کی نشاندہی

مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب حکومت چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے بھی خصوصی اقدامات کر رہی ہے۔ صوبے میں 70 ہزار سے زائد بچوں سے جبری مشقت کی نشاندہی کی گئی، جبکہ 3,644 بچوں کو سکولوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے خصوصی ہیلپ لائنز اور بحالی مراکز بھی قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ مشقت سے نکالے جانے والے بچوں کو تعلیم، بحالی اور معاشرے میں دوبارہ باعزت مقام حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ حکومت بچوں کو محنت پر مجبور کرنے کے بجائے انہیں تعلیم اور محفوظ مستقبل فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

12 لاکھ صنعتی ورکرز کو راشن کارڈ کی سہولت

مریم نواز شریف نے عالمی ادارہ محنت کے وفد کو بتایا کہ پنجاب میں 12 لاکھ صنعتی ورکرز کو مریم نواز راشن کارڈ کے ذریعے سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جس کے تحت اب تک 3.7 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔

آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ایف ہونگبو نے مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے گرانٹس میں نمایاں اضافے کو بھی سراہا۔

مریم نواز شریف کے مطابق راشن کارڈ پروگرام کا مقصد محنت کش خاندانوں کو مہنگائی کے دباؤ سے نمٹنے میں معاونت فراہم کرنا اور ان کی بنیادی ضروریات کے حصول کو آسان بنانا ہے۔

لیبر انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کا نفاذ

وزیرِاعلیٰ نے بتایا کہ پنجاب میں لیبر انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (LIMS) کے ذریعے کم از کم اجرت کے نفاذ، چائلڈ لیبر کے خاتمے اور پیشہ ورانہ حفاظت و صحت (OSH) پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے لیبر انسپکشن کے عمل کو مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ صنعتی اداروں میں مزدوروں کے حقوق اور حفاظتی قوانین پر عملدرآمد کی نگرانی بہتر انداز میں کی جا سکے۔

مریم نواز شریف کے مطابق صنعتی حادثے کی صورت میں لیبر انسپکٹرز کا ریسکیو 1122 کے ساتھ فوری رابطہ بھی LIMS کے ذریعے یقینی بنایا گیا ہے، جس سے ہنگامی صورتحال میں ردعمل کا وقت کم کرنے میں مدد ملے گی۔

پیشہ ورانہ صحت اور حفاظت کے لیے ہزاروں انسپکشن

مریم نواز شریف نے بتایا کہ صنعتی کارکنوں کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔ ایکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ قوانین پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے 42,858 انسپکشنز کی گئیں جبکہ متعلقہ اداروں کو 22,547 ایڈوائزریز جاری کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی کارکنوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں فیکٹریوں اور صنعتی اداروں میں حفاظتی معیار کو بہتر بنانے کے لیے نگرانی کا عمل مزید مؤثر کیا جا رہا ہے۔

چھ بڑے شہروں میں نئے سیفٹی مراکز کا قیام

وزیرِاعلیٰ نے بتایا کہ لاہور، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور رحیم یار خان میں ورکرز کی پیشہ ورانہ صحت اور حفاظت کے لیے نئے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔

ان کے مطابق لاہور میں پاکستان کی پہلی ایکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ لیبارٹری رواں سال قائم کی جائے گی، جبکہ فیصل آباد میں او ایس ایچ لیبارٹری بھی سال کے اختتام تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ان اقدامات کا مقصد صنعتی کارکنوں کو کام کی جگہ پر صحت اور حفاظت کے حوالے سے بہتر سہولیات فراہم کرنا اور صنعتی اداروں میں عالمی معیار کے حفاظتی اصولوں کو فروغ دینا ہے۔

خواتین کی صنعتی شعبے میں شرکت بڑھانے کے لیے 577 ڈے کیئر سنٹرز

مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب حکومت نجی فیکٹریوں اور دفاتر میں خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل لیبر ویلفیئر کے تحت 577 ڈے کیئر سنٹرز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ خواتین ورکرز کو کام کی جگہ پر اپنے بچوں کی نگہداشت کے حوالے سے سہولت حاصل ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے سازگار اور محفوظ کام کا ماحول پیدا کرنا معاشی سرگرمیوں میں ان کی مؤثر شرکت بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔

لیبر مارکیٹ ریسرچ اور روزگار مراکز قائم کرنے کا منصوبہ

وزیرِاعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ آئندہ دو سال کے دوران لاہور، گوجرانوالہ، ملتان اور راولپنڈی میں لیبر مارکیٹ ریسرچ سیلز اور ایمپلائمنٹ فیسیلیٹیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔

ان مراکز کے ذریعے لیبر مارکیٹ سے متعلق معلومات، روزگار کے مواقع، ہنرمندی کی ضروریات اور ملازمت کے متلاشی افراد کو سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب حکومت آجروں کو بھی لیبر قوانین کی پاسداری میں معاونت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی بہتر بنایا جا سکے۔

صنعتی ورکرز کے لیے رہائشی منصوبوں کی تعریف

ملاقات کے دوران آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ایف ہونگبو نے پنجاب حکومت کی جانب سے صنعتی ورکرز کے لیے اپارٹمنٹس کی الاٹمنٹ کے اقدام کو سراہا۔

انہوں نے مزدوروں کے لیے رہائش، سماجی تحفظ اور فلاحی سہولیات کی فراہمی کے اقدامات کو اہم قرار دیتے ہوئے پنجاب حکومت کی کوششوں کی تعریف کی۔

مریم نواز شریف نے بتایا کہ لیبر کالونیز اور صنعتی ورکرز کی رہائش سے متعلق منصوبوں پر بھی کام جاری ہے تاکہ محنت کش خاندانوں کو بہتر رہائشی سہولیات میسر آ سکیں۔

PESSI کے ذریعے صحت کی سہولیات

وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن (PESSI) محنت کشوں اور ان کے اہلِ خانہ کو بہتر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے لیے سماجی تحفظ صرف مالی معاونت تک محدود نہیں بلکہ صحت، تعلیم، رہائش اور خاندان کی مجموعی فلاح بھی اس کا اہم حصہ ہے۔

عالمی معیار کے مطابق لیبر پالیسی بنانے کے لیے آئی ایل او سے تعاون

مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب حکومت معاشی ترقی اور عالمی سپلائی چین میں لیبر کے بین الاقوامی معیار کو شامل کرنے کے لیے عالمی ادارہ محنت (ILO) کی معاونت حاصل کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں لیبر قوانین کے نفاذ اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر تسلیم شدہ لیبر اسٹینڈرڈز کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

اس موقع پر آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ایف ہونگبو نے پنجاب میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ورکرز کی فلاح، سماجی تحفظ اور محفوظ کام کی جگہیں معاشی ترقی کے لیے اہم ہیں۔

مریم نواز کو یو این ہیبی ٹیٹ ایوارڈ ملنے پر مبارکباد

ملاقات کے دوران عالمی ادارہ محنت کے ڈائریکٹر جنرل نے وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف کو یو این ہیبی ٹیٹ سکرول آف آنر ایوارڈ ملنے پر مبارکباد بھی دی اور اس اعزاز پر خراجِ تحسین پیش کیا۔

گلبرٹ ایف ہونگبو نے پنجاب میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے گرانٹس میں نمایاں اضافے سمیت مختلف اقدامات کو سراہا۔

ملاقات میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ پنجاب میں محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ، محفوظ کام کے ماحول، سماجی تحفظ، چائلڈ لیبر کے خاتمے اور عالمی لیبر معیارات کے نفاذ کے لیے پنجاب حکومت اور عالمی ادارہ محنت کے درمیان تعاون کو مزید بڑھایا جائے گا۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت پنجاب کا مقصد ایسا لیبر نظام تشکیل دینا ہے جس میں مزدوروں کو ان کے بنیادی حقوق، مناسب اجرت، محفوظ کام کی جگہ، سماجی تحفظ، رہائش اور ان کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم کے مواقع میسر ہوں، جبکہ صنعتی و کاروباری شعبے کو بھی قوانین کی پاسداری کے لیے ضروری معاونت فراہم کی جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button