
بہرا معاشرہ…….علی عباس کاظمی
یہ اس معاشرے کا بھی مسئلہ ہے جو اپنے افراد کو مسلسل مقابلے، بے یقینی، معاشی دباؤ، ناکامی کے خوف اور دوسروں کی توقعات کے بوجھ تلے زندہ رہنے پر مجبور کرتا ہے
ہم کسی انسان کی خاموشی کو اس کی رضامندی، اس کے صبر کو اس کی مضبوطی اور اس کی مسکراہٹ کو اس کی خوشی سمجھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ دوسروں کے درمیان رہتے ہوئے بھی تنہا ہیں۔ ان کے پاس گھر ہے، خاندان ہے، دوست ہیں، مگر کوئی ایسا شخص نہیں جس کے سامنے وہ اپنے اندر کی ٹوٹ پھوٹ بیان کر سکیں۔ ہم جسمانی تکلیف کو دیکھ کر فوراً متوجہ ہو جاتے ہیں، لیکن ذہن کے اندر اٹھنے والے طوفان کو اکثر کمزوری، وہم یا ناشکری کا نام دے کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ انسان کی اس خاموش اذیت کو سمجھنے کے لیے صرف ہمدرد دل نہیں، ایک بیدار ذہن اور بدلتے ہوئے معاشرتی رویوں کی بھی ضرورت ہے۔ یہ رویہ محض لاعلمی نہیں، ہماری اس اجتماعی تربیت کا نتیجہ ہے جس نے ہمیں دوسروں کے دکھ پر رائے دینا سکھایا ہے، ان کا دکھ سمجھنا نہیں۔ ہم انسان کی مسکراہٹ دیکھ کر اس کی خیریت کا فیصلہ کر لیتے ہیں، حالاں کہ بعض اوقات سب سے زیادہ ٹوٹا ہوا شخص ہی دوسروں کو مطمئن رکھنے کے لیے سب سے زیادہ مسکراتا ہے۔
ذہنی صحت کا بحران صرف ان لوگوں کا مسئلہ نہیں جو کسی نفسیاتی بیماری سے گزر رہے ہیں۔ یہ اس معاشرے کا بھی مسئلہ ہے جو اپنے افراد کو مسلسل مقابلے، بے یقینی، معاشی دباؤ، ناکامی کے خوف اور دوسروں کی توقعات کے بوجھ تلے زندہ رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ ایک شخص روزگار کی تلاش میں برسوں ذلیل ہو، گھر کے اخراجات پورے نہ کر سکے، بچوں کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہے اور ہر روز اپنی عزتِ نفس کو حالات کے ہاتھوں زخمی ہوتے دیکھے تو کیا اس کی ذہنی کیفیت کو صرف ذاتی کمزوری کہہ کر سمجھا جا سکتا ہے؟ ایک طالب علم سے پورے مستقبل کی ضمانت مانگی جائے، مگر اسے معیاری تعلیم، مناسب رہنمائی اور آگے بڑھنے کے یکساں مواقع نہ ملیں تو اس کی پریشانی کا ذمہ دار صرف اس کا کمزور حوصلہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ہر مشکل کا حل مثبت سوچ میں تلاش کرنا آسان ہے، مگر ان حالات کو بدلنا مشکل ہے جو انسان کی سوچ کو مسلسل مایوسی کی طرف دھکیل رہے ہوں۔ شاید اسی لیے ہم فرد کو بدلنے کی نصیحت زیادہ کرتے ہیں اور اپنے نظام، رویوں اور ترجیحات کا محاسبہ کم کرتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں ذہنی پریشانی کے ساتھ ایک اور ظلم بھی ہوتا ہے۔ متاثرہ شخص کو تکلیف کے ساتھ اپنی تکلیف ثابت کرنے کی ذمہ داری بھی اٹھانا پڑتی ہے۔ جب تک وہ بستر سے نہ لگ جائے، معمولاتِ زندگی ترک نہ کر دے یا اس کی حالت دوسروں کی نظر میں ناقابلِ برداشت نہ ہو جائے، اس کی پریشانی کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا۔ وہ اگر خاموش رہے تو کہا جاتا ہے کہ اسے کوئی مسئلہ نہیں، اگر بات کرے تو اسے توجہ حاصل کرنے کا خواہش مند قرار دیا جاتا ہے اور اگر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے تو اس کے کردار پر انگلی اٹھائی جاتی ہے۔ گویا معاشرے نے تکلیف سہنے کے لیے بھی ایک معیار مقرر کر رکھا ہے۔ انسان کو اتنا ہی دکھ بیان کرنے کی اجازت ہے جتنا دوسروں کی سہولت کے مطابق ہو۔ اس سے زیادہ دکھ ظاہر کرنا گویا معاشرتی نظم میں خلل ڈالنا ہے۔یہ رویہ گھروں سے شروع ہوتا ہے۔ بچے کو رونے سے روکا جاتا ہے، نوجوان کو خوف ظاہر کرنے پر شرمندہ کیا جاتا ہے، مرد کو ہر حال میں مضبوط رہنے کا حکم دیا جاتا ہے اور عورت کے جذبات کو اکثر اس کی فطرت کا نام دے کر غیر اہم سمجھ لیا جاتا ہے۔ بزرگوں کی تنہائی کو عمر کا تقاضا قرار دے کر نظرانداز کیا جاتا ہے، جبکہ نئی نسل کی پریشانیوں کو نازک مزاجی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یوں ہر عمر اور ہر طبقے کے لیے ایک الگ خاموشی تیار کر دی جاتی ہے۔ ہم اپنے بچوں کو کامیابی کا راستہ تو دکھاتے ہیں، مگر ناکامی برداشت کرنے اور مدد مانگنے کا سلیقہ نہیں سکھاتے۔ انہیں دوسروں سے آگے نکلنے کی تربیت دیتے ہیں، لیکن اپنے اندر کی شکست کو سمجھنے کا شعور نہیں دیتے۔ پھر جب کوئی فرد اس مسلسل دباؤ کے سامنے کمزور پڑنے لگتا ہے تو ہم اپنے کردار پر غور کرنے کے بجائے اسی فرد کی اصلاح شروع کر دیتے ہیں۔
ذہنی صحت کے معاملے میں ہماری سب سے بڑی غلطیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہم ہمدردی اور فیصلہ سازی کو ایک ہی چیز سمجھ بیٹھے ہیں۔خاندان اکثر یہ سمجھتا ہے کہ وہ متاثرہ فرد سے بہتر جانتا ہے کہ اس کے لیے کیا مناسب ہے۔ بعض اوقات یہ سوچ خیرخواہی سے پیدا ہوتی ہے، لیکن نیک نیتی ہر فیصلے کو درست نہیں بنا دیتی۔جہاں فیصلہ کرنے میں مشکل ہو وہاں معاونت فراہم کی جانی چاہیے اور جہاں فوری خطرہ موجود ہو وہاں مناسب پیشہ ورانہ مدد حاصل کی جانی چاہیے۔ لیکن مدد کا مقصد انسان کی آزادی چھیننا نہیں، اسے ممکن حد تک محفوظ اور بااختیار بنانا ہونا چاہیے۔یہی اصول علاج کے نظام پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کی تعلیم، تجربے اور طبی مہارت کی اپنی اہمیت ہے، لیکن مریض کا ذاتی تجربہ بھی ایسی معلومات فراہم کرتا ہے جو کسی رپورٹ یا تشخیص میں پوری طرح درج نہیں ہو سکتیں۔ مریض جانتا ہے کہ وہ روزمرہ زندگی میں کن مشکلات سے گزرتا ہے، کون سے ضمنی اثرات اسے پریشان کرتے ہیں، کون سی سہولت اس کی پہنچ سے باہر ہے اور علاج کے دوران اسے کن رویوں سے تکلیف پہنچتی ہے۔ اچھا معالج صرف یہ نہیں پوچھتا کہ مریض کو کیا تکلیف ہے، بلکہ یہ بھی جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ اس تکلیف نے اس کی زندگی کو کیسے متاثر کیا ہے اور وہ خود اپنی بہتری کے لیے کیا چاہتا ہے۔
ذہنی صحت کی سہولتوں کے حوالے سے ریاست کی ذمہ داری کو بھی محض آگاہی کے اشتہارات تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ماہرِ نفسیات تک پہنچنا عام آدمی کی مالی استطاعت سے باہر ہو، اگر بنیادی مراکزِ صحت میں مناسب رہنمائی دستیاب نہ ہو، اگر علاج کے لیے دور دراز شہروں کا سفر کرنا پڑے اور اگر ذہنی بیماری کے باعث روزگار یا تعلیم میں امتیاز کا سامنا کرنا پڑے تو صرف عوام کو شعور دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ شعور ضروری ہے، مگر سہولتوں کے بغیر شعور بے بسی بھی پیدا کر سکتا ہے۔ حکومتوں کو وسائل مختص کرنے، تربیت یافتہ عملہ فراہم کرنے، کمیونٹی کی سطح پر خدمات بڑھانے اور متاثرہ افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے قابلِ عمل اقدامات کرنے چاہییں۔ معاشرے کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ذہنی صحت پر خرچ کرنا غیر ضروری آسائش نہیں، انسانی زندگی اور اجتماعی کارکردگی میں سرمایہ کاری ہے۔ ہر ذہنی پریشانی لازماً کسی بیماری کی علامت نہیں، اور ہر مسئلے کو محض کمزور سوچ کہہ کر بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ انسان غم، صدمے، خوف اور دباؤ سے گزرتا ہے، لیکن جب یہ کیفیت اس کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کرنے لگے تو مناسب پیشہ ورانہ مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اس لیے غیر ضروری تشخیص سے بچنا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا حقیقی مسئلے کو نظرانداز نہ کرنا۔ کسی شخص کو خود سے کوئی مرض قرار دینا، اس کی بات سنے بغیر اسے بیمار سمجھ لینا یا ہر مشکل کا حل دوا میں تلاش کرنا دانش مندی نہیں۔ اسی طرح علاج سے دور رہنے کو بہادری سمجھنا بھی نقصان دہ ہے۔ درست راستہ معلومات، سنجیدہ گفتگو، مناسب تشخیص اور بروقت معاونت سے نکلتا ہے۔
عالمی یومِ ذہنی صحت کا پیغام ہمیں ایک بنیادی تبدیلی کی طرف بلاتا ہے۔ ذہنی بیماری کا تجربہ رکھنے والے افراد کو محض دوسروں کی ہمدردی کے مستحق سمجھنے کے بجائے ایسے انسانوں کے طور پر تسلیم کیا جائے جن کے پاس اپنے تجربات کی بنیاد پر اہم علم موجود ہے۔ ان کی آواز علاج، تحقیق، قانون سازی اور خدمات کی منصوبہ بندی میں شامل ہونی چاہیے۔ خاندانوں، معالجین، اداروں اور ریاست کو اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی، لیکن اس عمل میں متاثرہ شخص کی شخصیت، ترجیحات اور حقوق کو مرکز میں رکھنا ضروری ہے۔ کسی کی مدد کرنے کا مطلب اس کی جگہ زندگی گزارنا نہیں، بلکہ اس کے لیے ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن میں وہ اپنی زندگی کے فیصلوں میں زیادہ سے زیادہ شریک ہو سکے۔ کسی معاشرے کی اصل تہذیب اس بات سے ظاہر نہیں ہوتی کہ وہ خوش حال اور کامیاب لوگوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے۔ اس کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص ناکامی، بیماری، تنہائی یا بے یقینی کے دور سے گزر رہا ہو۔ کیا ہم اسے اپنے برابر بٹھا کر اس کی بات سن سکتے ہیں، یا فوراً اسے نصیحت، موازنہ اور فیصلوں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کو یہ اعتماد دے سکتے ہیں کہ وہ خوف اور پریشانی کا اظہار کریں تو ان کی عزت کم نہیں ہوگی؟ کیا ہمارے ادارے متاثرہ افراد کو فیصلوں میں حقیقی اختیار دینے کے لیے تیار ہیں، یا ہم صرف ان کی خاموشی کو اپنی کامیابی سمجھتے رہیں گے؟ اصلاح کا آغاز بڑے نعروں سے نہیں، ان چھوٹے رویوں سے ہوتا ہے جنہیں ہم روزانہ دہراتے ہیں۔ کسی کو غور سے سننا، اس کی تکلیف کا مذاق نہ اڑانا، اپنی رائے کو حتمی نہ سمجھنا اور ضرورت کے وقت مدد کا راستہ دکھانا معمولی کام دکھائی دے سکتے ہیں، مگر یہی ایک زیادہ مہذب معاشرے کی بنیاد ہیں۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ایسا معاشرہ بنانا چاہتے ہیں جہاں انسان اپنی تکلیف چھپانے پر مجبور ہو، یا ایسا جہاں وہ مدد مانگتے ہوئے اپنی عزتِ نفس کھونے سے نہ ڈرے۔ کیونکہ جس معاشرے میں انسان کو اپنے دکھ کے اظہار سے خوف آنے لگے، وہاں مسئلہ صرف چند افراد کی ذہنی صحت کا نہیں رہتا، پورے معاشرے کے ضمیر کا بن جاتا ہے۔


