کالمزعلی عباس کاظمی

مولا بخش زندہ ہے….علی عباس کاظمی

وقت بدلا تو تعلیم میں مار پیٹ کے خلاف آواز اٹھی۔ محکمہ تعلیم نے جسمانی سزا روکنے اور" مار نہیں پیار" کا اصول اپنانے کی بات کی

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

ہماری قوم کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ یہاں ڈنڈا چلتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم ڈنڈے کو چلانے والے ہاتھ کی نیت پر بحث کرنے کے بجائے اس کے اختیار کو تسلیم کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ طاقت ور کے ہاتھ میں وہی عمل نظم و ضبط بن جاتا ہے اور کمزور کے ہاتھ میں بدتمیزی۔ اپنے لیے سختی ناانصافی دکھائی دیتی ہے اور دوسروں پر وہی سختی مسلط کرنے کا موقع ملے تو اسے اصلاح کا نام دے دیا جاتا ہے۔ یہی دوہرا معیار ہماری اجتماعی سوچ میں اس قدر سرایت کر چکا ہے کہ ہم جبر کی مخالفت بھی اپنے مفاد کے مطابق کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مولا بخش کی کہانی دراصل اس ذہنیت کی داستان ہے جو دلیل سے زیادہ دھونس، شعور سے زیادہ خوف اور انصاف سے زیادہ اطاعت پر یقین رکھتی ہے۔بچپن کے اسکول یاد آتے ہیں تو استاد، تختی، کتاب اور امتحان کے ساتھ مولا بخش بھی ذہن میں آ جاتا ہے۔ اس زمانے میں استاد بلا امتیاز بچوں کو مرغا بناتے اور ڈنڈے سے سزا دیتے تھے۔ مولا بخش اس ڈنڈے کا ایسا نام تھا جسے سنتے ہی کلاس میں سناٹا چھا جاتا تھا۔ بچے سبق یاد کرتے، سوالوں کے جواب رٹتے اور اپنی پوری کوشش کرتے کہ اس سزا سے بچ جائیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں نے اس خوف کو تعلیم کا لازمی حصہ سمجھ کر قبول کیا، کیونکہ اس وقت بڑوں کی اکثریت بھی اسی تجربے سے گزر کر آئی تھی۔ بچے کی خاموشی کو فرمانبرداری، اس کی گھبراہٹ کو ادب اور اس کے خوف کو استاد کا احترام سمجھ لیا جاتا تھا۔ کسی نے یہ جاننے کی زحمت کم ہی کی کہ جو بچہ سزا سے بچنے کے لیے سبق یاد کر رہا ہے، وہ حقیقت میں علم حاصل کر رہا ہے یا محض سزا دینے والے کو مطمئن کرنے کی مشق کر رہا ہے۔
وقت بدلا تو تعلیم میں مار پیٹ کے خلاف آواز اٹھی۔ محکمہ تعلیم نے جسمانی سزا روکنے اور” مار نہیں پیار” کا اصول اپنانے کی بات کی۔ یہ تبدیلی درست تھی، کیونکہ کسی بچے کی تذلیل یا جسمانی اذیت کو تعلیم کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ مگر ہمارے ہاں اصلاح کا ایک پرانا مرض ہے۔ ہم حکم جاری کر کے سمجھتے ہیں کہ مسئلہ حل ہو گیا، حالاں کہ اصل کام حکم کے بعد شروع ہوتا ہے۔ استاد کو بچوں کی نفسیات سمجھانے، کلاس میں نظم قائم رکھنے کے متبادل طریقے سکھانے، والدین کو تربیت کے اصولوں سے آگاہ کرنے اور اسکولوں میں مؤثر نگرانی کا نظام بنانے کی ضرورت تھی۔ اگر ان اقدامات کے بغیر صرف ڈنڈے پر پابندی لگا دی جائے تو ممکن ہے سزا کا ایک طریقہ کم ہو جائے، لیکن غصہ، تحقیر اور اختیار کے غلط استعمال کی دوسری صورتیں باقی رہیں۔ بچوں کو تحفظ عملی تحفظ تب ملتا ہے جب بڑوں کی سوچ بھی تبدیل ہو۔ہماری غلطی یہ بھی ہے کہ ہم ماضی کو یا تو مکمل طور پر اچھا ثابت کرتے ہیں یا یکسر برا قرار دے دیتے ہیں۔ اگر کسی شخص نے سخت سزا کے باوجود زندگی میں کامیابی حاصل کر لی تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سزا ہی اس کی کامیابی کا سبب تھی۔ ممکن ہے اس نے اپنے حالات کے باوجود ترقی کی ہو، نہ کہ ان حالات کی وجہ سے۔ جو بچے خوف کے باعث تعلیم سے دور ہو گئے، جن کی خود اعتمادی مجروح ہوئی یا جو اپنی صلاحیتیں ظاہر نہ کر سکے، ان کی کہانیوں کا حساب کون دے گا؟ ہم اکثر زندہ بچ جانے والوں کی کامیابی کو اپنے نظام کی خوبی بنا کر پیش کرتے ہیں، مگر ان لوگوں کی ناکامیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جنہیں اسی نظام نے پیچھے دھکیل دیا۔
مولا بخش اسکول سے نکلا تو کیا ہمارے مزاج سے بھی نکل گیا؟ پاکستانی معاشرے کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ڈنڈے کی شکل بدل گئی ہے، اس کی نفسیات نہیں۔ہم اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں کہ بڑوں سے بحث نہ کرو، مگر انہیں یہ نہیں بتاتے کہ دلیل کے ساتھ اختلاف کرنا بدتمیزی نہیں۔ ہم ملازم سے وفاداری چاہتے ہیں، مگر اسے اپنی غلطی بتانے کی آزادی نہیں دیتے۔ ہم معاشرے میں امن چاہتے ہیں، مگر اپنے رویوں سے اختلاف کرنے والوں کے لیے جگہ تنگ کر دیتے ہیں۔ یوں ایک نسل دوسری نسل کو صرف روایات نہیں دیتی، اپنے خوف اور تعصبات بھی منتقل کرتی ہے۔اس ذہنیت کا سب سے خطرناک نتیجہ یہ ہے کہ ہم طاقت کو جواب دہ بنانے کے بجائے اس کے سامنے سر جھکانے کو دانش مندی سمجھنے لگتے ہیں۔ سیاست میں عوام سے اختیار کے وعدے کیے جاتے ہیں، مگر اقتدار حاصل کرنے کے بعد انہیں اکثر محض تماشائی بنا دیا جاتا ہے۔ انتخابات کے دن شہری کی رائے قیمتی ہوتی ہے، پھر روزمرہ مسائل کے دوران اسی شہری کو اپنی آواز سنوانے کے لیے دروازے کھٹکھٹانے پڑتے ہیں۔ مہنگائی کا بوجھ عام آدمی اٹھاتا ہے، مگر فیصلے کرنے والوں کی ترجیحات اکثر اس کی دسترس سے باہر رہتی ہیں۔ قانون کی پابندی کمزور سے سختی کے ساتھ طلب کی جاتی ہے، جبکہ بااثر افراد کے معاملے میں رعایت کے راستے تلاش کیے جاتے ہیں۔ جب انصاف کا معیار انسان کے عمل کے بجائے اس کے مرتبے سے طے ہونے لگے تو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔
جرائم کی روک تھام، شہریوں کی حفاظت اور قانون پر عمل درآمد کے لیے ریاست کو مؤثر طاقت درکار ہوتی ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب طاقت استعمال کرنے والے سے یہ پوچھنا مشکل ہو جائے کہ اس نے اختیار کس بنیاد پر استعمال کیا۔ امن کے نام پر ہر سختی کو درست نہیں کہا جا سکتا، جس طرح آزادی کے نام پر ہر خلاف ورزی کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مہنگائی کے مقابلے میں عوام کو صبر کا مشورہ دینا آسان ہے، لیکن ان کی مشکلات کم کرنے کے لیے مؤثر فیصلے کرنا اصل ذمہ داری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی ناگزیر ہو سکتی ہے، مگر اس کے ساتھ قانون، شفافیت اور انسانی حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ کسی مسئلے کا نام لے کر اختیار حاصل کر لینا اور پھر اس اختیار کے استعمال کا حساب نہ دینا اصلاح نہیں، جواب دہی سے فرار ہے۔تعلیم کے میدان میں اس ذہنیت کی ایک اور شکل سامنے آتی ہے۔ جب معاشرے میں قابلیت سے زیادہ تعلق اور علم سے زیادہ سند کی قدر ہو تو جعلی ڈگریاں، نقل اور سفارش محض انفرادی بے ایمانی نہیں رہتیں، ایک وسیع تر اخلاقی خرابی کی علامت بن جاتی ہیں۔ ہم بچوں کو محنت کا درس دیتے ہیں، مگر عملی زندگی میں انہیں ایسے لوگوں کو کامیاب دیکھنا پڑتا ہے جو قابلیت کے بغیر عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس تضاد سے نوجوان کے ذہن میں محنت اور دیانت کی قدر کمزور پڑتی ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اصولوں پر چلنا شاید کمزور لوگوں کی مجبوری ہے اور کامیابی کے لیے طاقت ور حلقوں تک رسائی زیادہ اہم ہے۔ پھر ہم اسی نوجوان سے اعلیٰ کردار، قانون پسندی اور قومی خدمت کی توقع رکھتے ہیں۔ معاشرہ اپنے عمل سے جو سبق دیتا ہے، اس کے خلاف تقریریں زیادہ دیر تک مؤثر نہیں رہ سکتیں۔
اس صورت حال کا علاج "مولابخش”ا نہیں، بلکہ نظم و ضبط اور ذمہ داری کا ایسا تصور قائم کرنا ہے جو خوف کے بجائے شعور پر کھڑا ہو۔ استاد کو اتنا بااختیار ضرور ہونا چاہیے کہ وہ تعلیمی ماحول برقرار رکھ سکے، مگر اس کے اختیار کے ساتھ تربیت، نگرانی اور جواب دہی بھی لازم ہے۔ بچے کی غلطی پر مناسب نتیجہ سامنے آنا چاہیے، لیکن سزا اس کی تذلیل یا جسمانی اذیت کا ذریعہ نہیں بننی چاہیے۔ والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر نافرمانی بدتمیزی نہیں اور ہر سوال بغاوت نہیں ہوتا۔ اداروں کو بھی ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں غلطی کی نشاندہی کرنے والے کو دشمن نہ سمجھا جائے۔ جب انسان کو اپنی بات کہنے، غلطی تسلیم کرنے اور بہتر راستہ اختیار کرنے کا موقع ملتا ہے تو نظم و ضبط محض بیرونی دباؤ نہیں رہتا، اس کی شخصیت کا حصہ بننے لگتا ہے۔ صرف حکومت، محکمہ تعلیم یا کسی ایک ادارے کو مورد الزام ٹھہرا کر ہم اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے۔ اگر ہم گھر میں کمزور پر رعب جماتے ہیں، اپنے سے اختلاف کرنے والے کی بات نہیں سنتے، سفارش کو جائز سمجھتے ہیں اور قانون کی پابندی صرف اس وقت چاہتے ہیں جب نقصان کسی دوسرے کو پہنچ رہا ہو تو ہم بھی اسی نظام کو مضبوط کر رہے ہیں جس پر تنقید کرتے ہیں۔ تبدیلی کا آغاز بڑے نعروں سے پہلے ان چھوٹے فیصلوں سے ہوتا ہے جن میں ہمیں اپنے اختیار اور اپنے مفاد کے خلاف بھی انصاف کرنا پڑتا ہے۔ جو شخص اپنے گھر میں انصاف نہیں کرتا، وہ اقتدار میں انصاف کی امید کیسے پیدا کر سکتا ہے؟ جو استاد سوال سے خوف زدہ ہے، وہ طالب علم میں تحقیق کا شوق کیسے جگائے گا؟ اور جو شہری دوسروں کے حق پر خاموش رہتا ہے، وہ اپنے حق کے لیے مضبوط معاشرہ کیسے تعمیر کرے گا؟مولا بخش کی اصل شکست اس وقت شروع ہوگی جب استاد بچے کو خوف زدہ کیے بغیر پڑھا سکے گا، والد اپنے بیٹے کو اپنی بات سے اختلاف کرنے کی اجازت دے گااور صاحب اختیار اپنے فیصلوں کا حساب دینے کو اپنی توہین نہیں سمجھے گا۔مولا بخش اب بھی زندہ ہے، بس ہر بار نیا نام لے کر آتا ہے۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو صرف حکم ماننے کا ہنر نہ جانتی ہو بلکہ درست اور غلط میں فرق بھی کر سکے، جو قانون سے ڈرے نہیں بلکہ اس کی اہمیت سمجھے اور جو طاقت ملنے پر دوسروں کو دبانے کے بجائے ان کے حقوق کا تحفظ کرے۔ ورنہ ہر ادارے میں ایک نیا "مولا بخش "پیدا ہوتا رہے گا

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button