پاکستاناہم خبریں

پاکستان اور افغانستان کے سرحدی جھڑپوں کے بعد چمن اور سپین بولدک کے رہائشیوں کی جنگ سے بچاؤ کی اپیل

چمن اور سپین بولدک کے رہائشیوں نے امن کی اپیل کی ہے، اور دونوں ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ جنگ کو ان کے علاقوں سے دور رکھیں

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک میں ایک اور بگڑتے ہوئے تناؤ کی خبریں سامنے آئی ہیں، جبکہ چمن اور سپین بولدک کے مقامی رہائشیوں نے جنگ کو روکنے اور امن کی بحالی کے لیے اپنے حکومتوں سے اپیل کی ہے۔ حالیہ جھڑپوں نے سرحدی علاقوں میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے، اور دونوں ممالک کے رہائشیوں نے امن کی ضرورت اور انسانی جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

استنبول میں افغان اور پاکستانی مذاکرات کاروں کی ملاقات

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، جمعے کے روز استنبول میں افغان اور پاکستانی مذاکرات کاروں نے اہم امن بات چیت کا آغاز کیا، جس کا مقصد گزشتہ ماہ قطر میں طے پانے والی جنگ بندی کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ اس جنگ بندی کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان جاری شدید جھڑپوں کا خاتمہ ہوا تھا، جن میں درجنوں افراد کی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ مذاکرات کا مقصد جھڑپوں کو دوبارہ شروع ہونے سے بچانا اور سرحدی صورتحال میں استحکام لانا ہے۔

چمن اور سپین بولدک کے رہائشیوں کی جنگ سے بچنے کی اپیل

چمن کے رہائشی محب اللہ اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کرکٹ کھیل رہے تھے جب اچانک حالات بدلے اور سرحدی جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ انہوں نے کہا، "یہاں معصوم بچے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہاں کی نگرانی رکھی جائے تاکہ علاقے کے لوگ محفوظ رہیں۔”

دوسری جانب، افغان علاقے سپین بولدک کے رہائشی عین اللہ نے بتایا کہ "یہ جنگ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کی زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ یہ سب رکنا چاہیے تاکہ ہم سکون سے زندگی گزار سکیں۔” انہوں نے کہا کہ علاقے میں جنگ کا اثر بچوں اور خواتین پر بھی پڑ رہا ہے، اور عوام کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

سپین بولدک کے 35 سالہ رہائشی نور محمد نے بھی دونوں حکومتوں سے امن قائم کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا، "ہم دونوں حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہماری حالت پر توجہ دیں۔”

طالبان حکومت کا موقف اور پاکستان کا ردعمل

افغان طالبان نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سرحدی علاقے سپین بولدک میں فائرنگ کا آغاز کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں کئی افراد جان سے گئے ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغان فورسز نے مذاکراتی ٹیم کے احترام میں کوئی ردِ عمل نہیں دیا تاکہ شہریوں کا نقصان نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اسلامی امارت کی فورسز نے ابھی تک کسی قسم کی فوجی کارروائی نہیں کی ہے۔”

پاکستان نے افغان طالبان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغان فورسز نے پہلے فائرنگ کی تھی، جس کا پاکستانی فوج نے محتاط اور ذمہ دارانہ انداز میں جواب دیا۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق، "پاکستانی افواج کی ذمہ دارانہ کارروائی سے حالات پر قابو پا لیا گیا ہے اور جنگ بندی برقرار ہے۔” پاکستان نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

دہشت گردی اور سرحد پار حملوں کا مسئلہ

پاکستان نے الزام عائد کیا ہے کہ افغان حکومت طالبان کے زیرِ انتظام علاقوں میں پاکستان مخالف عسکریت پسند گروپوں، خاص طور پر تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کو پناہ دے رہی ہے، جو پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرآبی نے کہا، "پاکستانی وفد نے ثالثوں کو شواہد پر مبنی، جائز اور منطقی مطالبات پیش کیے ہیں، جن کا واحد مقصد سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔”

دوسری جانب، افغان ذریعے نے بتایا کہ پاکستان کے مطالبات، خاص طور پر اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے حوالے سے، افغانستان کے داخلی مسائل سے متعلق نہیں ہیں۔ اس ذریعے نے کہا، "پاکستان اسلامی امارت کے معقول مطالبے کو قبول نہیں کرتا کہ اس کی زمین یا فضائی حدود کسی دوسرے ملک یا داعش کے لیے استعمال نہ ہو۔”

داعش کی موجودگی اور اس کا اثر

داعش کا ایک مقامی گروہ مشرقی افغانستان میں سرگرم ہے، جو طالبان حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ داعش کے یہ گروہ وقفے وقفے سے حملے کرتے ہیں اور طالبان حکومت کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔ اس صورتحال نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان مزید تناؤ پیدا کیا ہے، اور اس کی وجہ سے دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات میں مشکلات آ رہی ہیں۔

مذاکرات میں تعطل اور تشویش

حالیہ مذاکرات میں اختلافات کی صورت میں تعطل پیدا ہوا ہے، خاص طور پر جنگ بندی کی تفصیلات طے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوا ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے کو مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ سنگاپور کے ایس راجارتنم سکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے عبدالـباسط نے کہا، "یہ تعطل ظاہر کرتا ہے کہ جو کشیدگی پہلے دبی ہوئی تھی، اب کھل کر سامنے آ گئی ہے۔” انہوں نے مزید کہا، "اصل مسئلہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ہے، اور اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو مجھے حیرت نہیں ہوگی۔”

پاکستانی فوج کا موقف اور شہریوں کی حالت

پاکستانی فوج نے حالیہ جھڑپوں میں 23 اہلکاروں کی شہادت کی تصدیق کی ہے، جبکہ 29 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق، افغانستان میں ہونے والی لڑائی میں 50 شہری ہلاک اور 447 زخمی ہوئے تھے۔

چمن اور سپین بولدک کے مقامی رہائشیوں نے اپنے حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے حالات پر توجہ دیں اور انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ عبدالحبیب، جو چمن میں رہائش پذیر ہیں، نے کہا کہ "گولیاں ہمارے گھروں پر لگیں، لوگ شدید پریشانی میں ہیں۔ ہم حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے حالات پر توجہ دیں اور ہمدردی دکھائیں۔ اللہ ان کے درمیان امن پیدا کرے اور صلح کرائے۔”

نتیجہ:

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد امن کی بحالی کے لیے دونوں حکومتوں اور مقامی افراد کی کوششیں جاری ہیں۔ مذاکرات کے باوجود سرحدی علاقے میں کشیدگی برقرار ہے، اور دونوں فریقین ایک دوسرے کو مزید تشویش اور نقصان کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ چمن اور سپین بولدک کے رہائشیوں نے امن کی اپیل کی ہے، اور دونوں ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ جنگ کو ان کے علاقوں سے دور رکھیں تاکہ وہ امن اور سکون سے اپنی زندگی گزار سکیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button