پاکستاناہم خبریں

امریکا–ایران مذاکرات کا دوسرا دور: جنگ بندی میں توسیع ترجیح، پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز

انہوں نے کہا کہ چند رکاوٹیں بدستور موجود ہیں، تاہم ان کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں تاکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

اسلام آباد: پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل ایک نازک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں دوسرے دور کے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور جنگ بندی میں توسیع کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق، فوری ترجیح جنگ بندی کو مزید 45 دن کے لیے بڑھانا ہے، جس کے لیے متحارب فریقوں سے رابطے جاری ہیں۔ موجودہ جنگ بندی، جو 7 اپریل کو ثالثی کے ذریعے طے پائی تھی، 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے اور اس کی مدت میں توسیع نہ ہونے کی صورت میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

پاکستان کا مرکزی کردار

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس پورے عمل میں مرکزی ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ ترکی اور مصر کی حمایت بھی حاصل ہے۔ تہران نے آئندہ مذاکرات کے لیے دوبارہ اسلام آباد کو میزبان بنانے کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ جنگ بندی دباؤ کا شکار ہے، تاہم برقرار ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد میں 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے براہ راست مذاکرات میں انہوں نے خود شرکت کی اور پاکستان نے اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے دن رات محنت کی۔

انہوں نے کہا کہ چند رکاوٹیں بدستور موجود ہیں، تاہم ان کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں تاکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

عالمی سطح پر رابطے اور حمایت

وزیراعظم نے سانائے تاکائیچی (جاپانی وزیر اعظم) کے ساتھ گفتگو میں بھی پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا کہ اسلام آباد جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ جاپانی قیادت نے پاکستان کے کردار کو سراہا اور مکمل حمایت کا اظہار کیا۔

دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے مختلف عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے، جن میں وانگ یی (چین)، ہاکان فیدان (ترکی)، فیصل بن فرحان (سعودی عرب) اور بدر عبدالعاطی (مصر) شامل ہیں۔ ان روابط کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور مذاکراتی عمل کو جاری رکھنا ہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔

مذاکرات میں بنیادی اختلافات

اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات، جو 1979 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے اہم رابطہ سمجھے جا رہے ہیں، کسی باضابطہ معاہدے کے بغیر ختم ہوئے، تاہم سفارت کار اسے ایک “اہم سفارتی موقع” قرار دے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، تعطل کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:

  • امریکا کا ایران کے جوہری پروگرام پر طویل مدتی پابندیوں اور نگرانی کا مطالبہ
  • ایران کا اپنے خودمختار جوہری حقوق (این پی ٹی کے تحت) تسلیم کرنے پر اصرار
  • پابندیوں میں فوری نرمی اور قابل اعتماد ضمانتوں کا مطالبہ
  • اعتماد سازی کے اقدامات کی ترتیب پر اختلاف، جس نے “سرکلر ڈیڈ لاک” پیدا کیا

آبنائے ہرمز: ایک حساس مسئلہ

آبنائے ہرمز مذاکرات کا سب سے حساس پہلو بن کر سامنے آیا ہے۔ امریکا نے آزاد اور محفوظ بحری گزرگاہ پر زور دیا ہے، جبکہ ایران اسے اپنی اسٹریٹجک برتری کا حصہ سمجھتا ہے۔

حالیہ دنوں میں امریکا کی جانب سے ممکنہ بحری ناکہ بندی کی تیاریوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ ایسا اقدام جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔

سفارتی ونڈو اور آئندہ لائحہ عمل

سفارتی ذرائع کے مطابق، موجودہ صورتحال کو ایک “تنگ مگر حقیقی سفارتی موقع” قرار دیا جا رہا ہے، جس میں محدود وقت کے اندر پیش رفت ضروری ہے۔ پاکستان اور اس کے شراکت دار ایک غیر رسمی عالمی اتحاد تشکیل دینے میں کامیاب ہوئے ہیں، جس کا مقصد جنگ بندی میں توسیع اور مذاکراتی عمل کو جاری رکھنا ہے۔

یہ کوششیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں کہ:

  • جنگ بندی میں کم از کم 45 دن کی توسیع ہو
  • تکنیکی سطح پر مذاکرات دوبارہ شروع ہوں
  • بڑے تصادم کے خطرے کو کم کیا جا سکے

ماہرین کی رائے

ماہرین کے مطابق، اگرچہ مذاکرات مشکل مرحلے میں ہیں، تاہم جنگ بندی کا برقرار رہنا ایک مثبت اشارہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی پیش رفت کے لیے لچک، اعتماد سازی اور مسلسل سفارتی رابطے ناگزیر ہیں۔

اہم نکات:

  • امریکا–ایران مذاکرات کا دوسرا دور متوقع، کوششیں جاری
  • جنگ بندی میں 45 دن کی توسیع فوری ترجیح
  • پاکستان مرکزی ثالث، ترکی اور مصر کی حمایت
  • آبنائے ہرمز سب سے حساس تنازعہ
  • بنیادی اختلافات بدستور برقرار
  • عالمی سفارتی رابطوں میں تیزی

مبصرین کے مطابق، آنے والے دن اس عمل کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اگر جنگ بندی میں توسیع اور مذاکرات کی بحالی ممکن ہو جاتی ہے تو خطے میں بڑے تصادم کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button