پاکستاناہم خبریں

اقوام متحدہ میں مصنوعی ذہانت پر پاکستان اور تاجکستان کی مشترکہ اعلیٰ سطحی کانفرنس، جامع اور انسانی مرکز AI کو پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر قرار

انہوں نے زور دیا کہ AI کی ترقی صرف تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ سماجی انصاف، مساوی مواقع اور پائیدار ترقی کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

اقوام متحدہ، نیویارک | 15 جولائی 2026: اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور پائیدار ترقی کے موضوع پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی بین الاقوامی مباحثے میں عالمی رہنماؤں، سفارت کاروں، ٹیکنالوجی ماہرین، اقوام متحدہ کے حکام اور نوجوان نمائندوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل کی عالمی معیشت اور ترقی کا اہم ستون بننے جا رہی ہے، تاہم اس کے فوائد کو صرف ترقی یافتہ ممالک تک محدود رکھنے کے بجائے دنیا کے تمام ممالک، خصوصاً ترقی پذیر ریاستوں تک مساوی انداز میں پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

تقریب کا عنوان "AI and the Future of Sustainable Development: Innovation, Inclusion and Resilience” تھا، جس کا مشترکہ اہتمام اقوام متحدہ میں پاکستان اور تاجکستان کے مستقل مشنز نے پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے اشتراک سے ہائی لیول پولیٹیکل فورم آن سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ (HLPF) کے موقع پر کیا۔

اس اہم تقریب میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام، مختلف ممالک کے سفارت کار، مصنوعی ذہانت کے عالمی ماہرین، گوگل اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے نمائندوں، جامعات، نوجوان رہنماؤں اور طلبہ نے شرکت کی۔

مصنوعی ذہانت ترقی کا ذریعہ بھی، چیلنج بھی

مقررین نے کہا کہ مصنوعی ذہانت دنیا بھر میں معیشت، تعلیم، صحت، صنعت، زراعت، روزگار اور حکمرانی سمیت تقریباً ہر شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ترقی پذیر ممالک کو ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مالی وسائل، ڈیٹا، جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ انسانی وسائل تک مساوی رسائی نہ دی گئی تو مصنوعی ذہانت عالمی سطح پر موجود معاشی اور تکنیکی عدم مساوات کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ AI کی ترقی صرف تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ سماجی انصاف، مساوی مواقع اور پائیدار ترقی کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔

نوجوانوں کو AI انقلاب کا مرکز بنانے پر زور

کانفرنس کے مقررین نے کہا کہ دنیا کی نوجوان آبادی کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں صرف صارف نہیں بلکہ اختراع کار (Innovators)، محققین اور مستقبل کے قائدین بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ نوجوانوں کو AI ٹیکنالوجیز تک مساوی رسائی، معیاری تعلیم، تکنیکی تربیت، تحقیق کے مواقع اور اسٹارٹ اپ معاونت فراہم کی جائے تاکہ وہ مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

رانا مشہود احمد خان کا خطاب

پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ پاکستان نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کی عالمی معیشت کے لیے تیار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے لیے 40.58 ارب روپے مختص کیے ہیں تاکہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد نوجوانوں کو صرف روزگار کے متلاشی بنانے کے بجائے انہیں مستقبل کے ٹیکنالوجی لیڈر، کاروباری شخصیات اور اختراع کار بنانا ہے۔

پاکستان میں AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی پیش رفت

رانا مشہود احمد خان نے پاکستان میں نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے جاری مختلف منصوبوں کی تفصیلات بھی پیش کیں۔

انہوں نے بتایا کہ:

  • اب تک 6 لاکھ سے زائد لیپ ٹاپ طلبہ میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
  • 73 ہزار نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت (AI)، بلاک چین (Blockchain) اور ڈیٹا سائنس کی جدید تربیت دی جا چکی ہے۔
  • 217 ہزار نوجوانوں کو 8 ہزار مختلف ٹیکنیکل کورسز کے لیے اسکالرشپس فراہم کی گئی ہیں۔
  • ڈیجیٹل یوتھ ہب پر 8 لاکھ 4 ہزار سے زائد صارفین رجسٹر ہو چکے ہیں۔
  • اس پلیٹ فارم کے ذریعے ایک لاکھ 14 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔
  • 3 ہزار 180 ادارے اس پروگرام کے ساتھ شراکت دار بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کے نوجوانوں کو چوتھے صنعتی انقلاب کا حصہ بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔

2030 تک ایک ملین AI ماہرین تیار کرنے کا ہدف

رانا مشہود احمد خان نے پاکستان کی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 2030 تک:

  • 10 لاکھ AI پروفیشنلز تیار کرنے،
  • 10 ہزار AI ٹرینرز کی تربیت،
  • ملک بھر میں AI تعلیم،
  • تحقیق،
  • اختراع،
  • اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ

کا ہدف مقرر کیا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، AI تعلیم، تحقیق، اختراع اور ذمہ دار مصنوعی ذہانت (Responsible AI) کے فروغ کے لیے مشترکہ سرمایہ کاری کی جائے تاکہ ڈیجیٹل تقسیم کو کم کیا جا سکے۔

تاجکستان کی قومی AI حکمت عملی

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تاجکستان کے وزیر اقتصادی ترقی و تجارت عبدالرحمن عبدالرحمن زادہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت وسطی ایشیا سمیت پوری دنیا کی اقتصادی ترقی کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تاجکستان نے 2040 تک کے لیے وسطی ایشیا کی پہلی قومی مصنوعی ذہانت حکمت عملی اختیار کی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ:

  • 2025 سے 2030 تک کی مدت کو ڈیجیٹل معیشت اور اختراع کا دور قرار دیا گیا ہے۔
  • تاجکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک اہم قرارداد کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا۔
  • ملک میں IT Hub Dushanbe قائم کیا گیا ہے تاکہ وسطی ایشیا میں AI تحقیق، اختراع، ڈیجیٹل مہارتوں اور علاقائی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل تقسیم ختم کرنے کے لیے مساوی مواقع اور بین الاقوامی شراکت داری ناگزیر ہے۔

عالمی ماہرین کی پینل ڈسکشن

تقریب کے دوران ایک خصوصی پینل ڈسکشن بھی منعقد ہوئی جس میں:

  • جینیفر لوئی (AI Trust & Safety Expert، UNDP)
  • ہاشم سید (Google AI Go-To-Market Lead)
  • بسمہ قمر (یوتھ ڈیلیگیٹ)

نے شرکت کی، جبکہ چین، آذربائیجان اور قازقستان کے نمائندوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

پینل نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کو صرف کاروباری منافع کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے جامع ترقی، سماجی مساوات اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے حصول کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے خاص طور پر SDG-9 (صنعت، اختراع اور بنیادی ڈھانچہ) کے حصول میں AI کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا۔

سائبر سکیورٹی اور AI گورننس پر زور

ماہرین نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ کے ساتھ سائبر سکیورٹی، غلط معلومات، ڈیٹا کے تحفظ، اخلاقی استعمال اور پرائیویسی جیسے نئے چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتوں، نجی شعبے، جامعات اور عالمی اداروں کو مل کر ایسے مضبوط قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دینے ہوں گے جو AI کے محفوظ، ذمہ دار اور شفاف استعمال کو یقینی بنا سکیں۔

پاکستان کا مؤقف

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے اختتامی خطاب میں کہا کہ مصنوعی ذہانت ترقی پذیر ممالک کے لیے غیر معمولی مواقع پیدا کر سکتی ہے، تاہم اس کے فوائد اس وقت تک مکمل طور پر حاصل نہیں کیے جا سکتے جب تک عالمی تعاون، مساوی رسائی اور مشترکہ تحقیق کو فروغ نہ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نوجوانوں کو بااختیار بنانے، ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے عالمی برادری کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

عالمی برادری کے لیے مشترکہ پیغام

تقریب کے اختتام پر مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مصنوعی ذہانت کو انسانیت کی خدمت، سماجی انصاف، معاشی ترقی، تعلیم، صحت اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ اگر AI کی ترقی کو جامع، شفاف، ذمہ دار اور انسانی مرکز پالیسیوں کے تحت آگے بڑھایا جائے تو یہ نہ صرف ڈیجیٹل معیشت بلکہ دنیا بھر میں پائیدار ترقی، غربت کے خاتمے، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور عالمی تعاون کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button