
سینیٹ کمیٹی نے سابق ارکانِ پارلیمان اور اہلِ خانہ کے لیے نیلا سرکاری پاسپورٹ منظور کر لیا، مراعات اور گرین پاسپورٹ کی ساکھ پر نئی بحث چھڑ گئی
ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر خود قانون ساز بھی سبز پاسپورٹ کے ساتھ بیرونِ ملک سفر کو مشکلات سے بھرپور سمجھتے ہیں اور اپنے لیے متبادل سہولتیں چاہتے ہیں
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: پاکستانی سینیٹ کی ایک قائمہ کمیٹی کی جانب سے سابق ارکانِ پارلیمان، ان کے شریکِ حیات اور زیر کفالت بچوں کو بھی نیلے رنگ کا سرکاری پاسپورٹ جاری کرنے سے متعلق بل کی منظوری کے بعد ملک بھر میں ایک نئی سیاسی، قانونی اور اخلاقی بحث شروع ہو گئی ہے۔ ناقدین اس اقدام کو ایسے وقت میں غیر مناسب قرار دے رہے ہیں جب پاکستانی گرین پاسپورٹ عالمی سطح پر اپنی کمزور ساکھ، محدود سفری سہولتوں اور ویزا پابندیوں کے باعث شدید تنقید کی زد میں ہے۔
تجویز کے مطابق سابق ارکانِ قومی اسمبلی، سینیٹ اور دیگر قانون ساز اداروں سے وابستہ افراد کے ساتھ ساتھ ان کے اہلِ خانہ کو بھی سرکاری نوعیت کا نیلا پاسپورٹ جاری کیا جا سکے گا۔ اس فیصلے نے نہ صرف پارلیمانی مراعات بلکہ عوامی نمائندوں کی ترجیحات پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
گرین پاسپورٹ کی کمزور عالمی حیثیت
اس وقت پاکستانی عام شہریوں کو جاری ہونے والا سبز پاسپورٹ دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹوں میں شمار ہوتا ہے۔ حالیہ عالمی درجہ بندی کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ 100ویں نمبر پر آ چکا ہے، جبکہ سال کے آغاز میں اس کی رینکنگ 98ویں تھی۔ اسی عرصے کے دوران ان ممالک کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے جہاں پاکستانی شہری ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر خود قانون ساز بھی سبز پاسپورٹ کے ساتھ بیرونِ ملک سفر کو مشکلات سے بھرپور سمجھتے ہیں اور اپنے لیے متبادل سہولتیں چاہتے ہیں، تو پھر عام پاکستانی شہریوں کے پاسپورٹ کی عالمی ساکھ بہتر بنانے کی ذمہ داری کون ادا کرے گا؟

موجودہ نظام کیا ہے؟
پاکستان میں اس وقت وفاقی پارلیمان اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے موجودہ منتخب ارکان اپنی مدتِ رکنیت کے دوران نیلے رنگ کا سرکاری پاسپورٹ رکھنے کے مجاز ہیں۔ یہ پاسپورٹ بنیادی طور پر سرکاری ذمہ داریوں اور سرکاری دوروں کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔
تاہم حالیہ بل میں اس سہولت کو سابق ارکانِ پارلیمان تک بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کے شریکِ حیات اور زیر کفالت بچوں تک بھی توسیع دینے کی تجویز شامل ہے۔
اس سے قبل خیبر پختونخوا اسمبلی بھی موجودہ منتخب نمائندوں کے اہلِ خانہ کو نیلا پاسپورٹ دینے کی منظوری دے چکی ہے، جس پر صوبائی حکومت کو شدید عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اخلاقی اور قانونی سوالات
اس فیصلے کے بعد متعدد قانونی ماہرین اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ سرکاری پاسپورٹ بنیادی طور پر سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لیے جاری کیا جاتا ہے، لہٰذا ایسے افراد کے اہلِ خانہ کو یہ سہولت دینا کس بنیاد پر درست قرار دیا جا سکتا ہے جن کے پاس خود کوئی سرکاری ذمہ داری موجود نہیں۔
ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگر کسی منتخب نمائندے کو بیرونِ ملک سرکاری دوروں کے لیے خصوصی سفری دستاویز درکار ہے تو یہ ضرورت صرف اس کی سرکاری ذمہ داریوں تک محدود ہونی چاہیے، نہ کہ اس کے خاندان کے دیگر افراد تک۔
زاہد حسین: یہ گرین پاسپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار ہے
معروف سیاسی تجزیہ کار زاہد حسین کے مطابق سینیٹ کمیٹی کا یہ اقدام دراصل پاکستانی گرین پاسپورٹ پر خود قانون سازوں کے عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حیران کن بات ہے کہ نہ صرف سابق ارکان بلکہ ان کے اہلِ خانہ کے لیے بھی اس سہولت کو زندگی بھر کے لیے دینے کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ ان کے خاندان کے افراد کی کوئی ایسی سرکاری ذمہ داری نہیں ہوتی جس کے لیے سرکاری پاسپورٹ ناگزیر ہو۔
زاہد حسین کے مطابق اگر سرکاری پاسپورٹ کا دائرہ مسلسل وسیع کیا جاتا رہا تو اس کی اصل اہمیت اور مقصدیت بھی متاثر ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیلا پاسپورٹ صرف انہی افراد تک محدود رہنا چاہیے جنہیں واقعی سرکاری نوعیت کے بین الاقوامی فرائض انجام دینے ہوتے ہیں۔
حسن عسکری رضوی: سیاست دان مراعات کے معاملے پر متحد ہو جاتے ہیں
معروف سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے بھی اس اقدام پر اخلاقی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتیں قومی پالیسیوں پر اختلاف رکھتی ہیں، لیکن جب معاملہ اپنی مراعات کا ہو تو تمام اختلافات پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔

ان کے مطابق سینیٹ کمیٹی کی جانب سے اس بل کی متفقہ منظوری بھی اسی رجحان کی تازہ مثال ہے۔
ڈاکٹر رضوی نے کہا کہ سرکاری پاسپورٹ صرف اس مدت تک محدود ہونا چاہیے جب تک کوئی شخص عوامی یا سرکاری منصب پر فائز ہو اور اس کی ذمہ داریوں میں بیرونِ ملک سرکاری دورے شامل ہوں۔ ان کے مطابق ایسے فیصلوں سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ قانون سازوں کی اولین ترجیح عوامی مسائل کے بجائے اپنی سہولتیں اور مراعات ہیں۔
قانون سازوں کا مؤقف: یہ نئی مراعت نہیں، ایک حق ہے
دوسری جانب کئی قانون ساز اس بل پر ہونے والی تنقید کو غیر ضروری قرار دیتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ نیلا پاسپورٹ کوئی نئی مراعت نہیں بلکہ عوامی عہدے سے وابستہ ایک انتظامی حق ہے، جیسا کہ ہزاروں حاضر سروس اور ریٹائرڈ سرکاری افسران کو پہلے ہی یہ سہولت حاصل ہے۔
سینیٹر پلوشہ بہرام نے اس حوالے سے کہا کہ بلاوجہ اس معاملے کو متنازع بنایا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق اگر ہزاروں بیوروکریٹس ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سرکاری پاسپورٹ رکھتے ہیں تو پھر سیاست دانوں کے لیے یہی سہولت زیرِ بحث کیوں آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ قانون سازوں کی تعداد دو ہزار سے بھی کم ہے جبکہ ایسے بیوروکریٹس کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے جو نیلے پاسپورٹ کے حامل ہیں۔
"نیلا پاسپورٹ تمام دروازے نہیں کھولتا”
سینیٹر پلوشہ بہرام نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ نیلا پاسپورٹ رکھنے سے دنیا بھر میں خصوصی سہولتیں حاصل ہو جاتی ہیں۔
ان کے مطابق یورپی ممالک سمیت بیشتر ترقی یافتہ ممالک کے لیے نیلا پاسپورٹ رکھنے والے پاکستانیوں کو بھی باقاعدہ ویزا حاصل کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سرکاری پاسپورٹ پر سفر کے لیے ہر مرتبہ وزارتِ خارجہ سے منظوری اور مخصوص فارم حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے اور اس کے استعمال کا ایک مکمل ضابطہ کار موجود ہے۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا اور مختلف سماجی حلقوں میں اس فیصلے پر شدید بحث جاری ہے۔
بعض صارفین کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب لاکھوں پاکستانی روزگار، تعلیم اور کاروبار کے لیے ویزا مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، پارلیمان کو اپنی توجہ پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی ساکھ بہتر بنانے، سفارتی تعلقات مضبوط کرنے اور عام شہریوں کے لیے سفری سہولتوں میں اضافے پر مرکوز کرنی چاہیے۔
دوسری جانب بعض حلقے اس موقف کی حمایت کرتے ہیں کہ اگر یہی سہولت بیوروکریسی کو حاصل ہے تو منتخب عوامی نمائندوں کو اس سے محروم رکھنا بھی مناسب نہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی سے منظوری کے بعد یہ بل پارلیمانی کارروائی کے اگلے مراحل سے گزرے گا، جہاں اسے سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظوری ملنے کے بعد صدرِ مملکت کے دستخط درکار ہوں گے تاکہ یہ باقاعدہ قانون بن سکے۔
تاہم اس سے پہلے ہی اس تجویز نے پاکستان میں مراعات، احتساب، عوامی نمائندگی اور پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی حیثیت سے متعلق ایک وسیع قومی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس معاملے کا اصل سوال صرف نیلے پاسپورٹ تک محدود نہیں بلکہ یہ اس بات سے بھی جڑا ہے کہ عوامی نمائندوں کی ترجیحات کیا ہیں اور وہ عام شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے کس حد تک سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔



