پاکستاناہم خبریں

لاہور ایئرپورٹ پر بڑے صنعت کار میاں ادریس گرفتار، 12 ارب روپے کے مبینہ بجلی فراڈ کیس میں ایف آئی اے کی بڑی کارروائی

ذرائع کے مطابق میاں ادریس کے ساتھ فیسکو کے دو سابق سربراہان کو بھی حراست میں لیا گیا، جبکہ دیگر نامزد ملزمان کی گرفتاریوں کے لیے بھی چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بجلی کی غیر قانونی خرید و فروخت، اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال اور قومی خزانے کو تقریباً 11 ارب 96 کروڑ روپے کے نقصان پہنچانے کے الزام میں درج ہائی پروفائل مقدمے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے معروف صنعت کار اور ستارہ گروپ کے سربراہ میاں محمد ادریس کو لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا۔ ذرائع کے مطابق وہ امریکا روانہ ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) نے انہیں حراست میں لے کر بعد ازاں ایف آئی اے فیصل آباد کے حوالے کر دیا۔

اسی کارروائی کے دوران فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کے دو سابق چیف ایگزیکٹو افسران سمیت دیگر ملزمان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے، جبکہ متعدد افراد کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔

لاہور ایئرپورٹ پر گرفتاری کیسے عمل میں آئی؟

سکیورٹی ذرائع کے مطابق ایف آئی اے فیصل آباد نے 18 جولائی 2026 کو درج کیے گئے مقدمے کے بعد تمام نامزد ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں شامل کرا دیے تھے۔

اتوار کی دوپہر میاں ادریس امریکا جانے کے لیے لاہور ایئرپورٹ پہنچے تو امیگریشن کے دوران ان کے سفری ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی گئی۔ اس دوران انٹیلی جنس بیورو کے اہلکاروں نے انہیں حراست میں لے لیا۔ ضروری قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں ایف آئی اے فیصل آباد کے حوالے کر دیا گیا تاکہ مقدمے کی تفتیش میں شامل کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق میاں ادریس کے ساتھ فیسکو کے دو سابق سربراہان کو بھی حراست میں لیا گیا، جبکہ دیگر نامزد ملزمان کی گرفتاریوں کے لیے بھی چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔

ایف آئی آر میں کن افراد کو نامزد کیا گیا؟

ایف آئی اے سرکل فیصل آباد میں ایف آئی آر نمبر CC-FSD/ACC/35/26 کے تحت درج مقدمے میں مجموعی طور پر 13 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں فیسکو کے متعدد سابق چیف ایگزیکٹو افسران، نیپرا کے ایک اعلیٰ افسر اور نجی کمپنیوں کے ڈائریکٹرز شامل ہیں۔

نامزد افراد میں:

  • میاں ادریس
  • جاوید اقبال
  • محمد ایوب
  • عمران غفور
  • محمد ایاز
  • مختار اے شیخ
  • احمد سعید اعوان
  • تنویر صفدر چیمہ (سابق سی ای او فیسکو)
  • خورشید عالم (سابق سی ای او فیسکو)
  • راشد احمد اسلم (سابق سی ای او فیسکو)
  • بریگیڈیئر (ر) طارق رسول (سابق سی ای او فیسکو)
  • رانا عبدالجبار (سابق سی ای او فیسکو)
  • امتیاز حسین بلوچ (سابق سی ای او فیسکو)
  • محمد رمضان (ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نیپرا)

سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔

مقدمے کی بنیاد کیا ہے؟

ایف آئی اے کے مطابق مقدمہ کئی برسوں پر محیط انکوائری نمبر 27/2015 کی تکمیل کے بعد درج کیا گیا، جس میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے شواہد سامنے آئے۔

تحقیقات کے مطابق ستارہ انرجی لمیٹڈ کو بجلی پیدا کرنے کا لائسنس مخصوص شرائط کے تحت جاری کیا گیا تھا، تاہم کمپنی نے ان شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فیسکو کو بجلی فروخت کی۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اس دوران:

  • پاور پرچیز ایگریمنٹ (PPA) کی خلاف ورزی کی گئی۔
  • نیپرا کی منظوری کے بغیر کئی معاملات انجام دیے گئے۔
  • بجلی کے نرخوں کے تعین میں قواعد کو نظر انداز کیا گیا۔
  • ریگولیٹری نگرانی مؤثر انداز میں نہیں کی گئی۔
  • نجی کمپنیوں کو غیر قانونی مالی فوائد پہنچائے گئے۔

تحقیقات کے مطابق ان تمام اقدامات کے نتیجے میں قومی خزانے کو تقریباً 11 ارب 96 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔

2007 سے 2015 تک کا مبینہ فراڈ

ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق 2007 سے 2015 کے درمیان ستارہ گروپ سے وابستہ کمپنیوں اور فیسکو کے بعض اعلیٰ حکام نے مبینہ ملی بھگت کے ذریعے ایسا نظام قائم کیا جس کے تحت نجی کمپنیوں نے منظور شدہ نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فیسکو کو بجلی فروخت کی۔

دوسری جانب انہی کمپنیوں نے اپنی صنعتی یونٹس کے لیے فیسکو سے نسبتاً کم نرخوں پر بجلی حاصل کی، جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔

ایف آئی اے کے مطابق یہ پورا عمل متعلقہ قوانین، لائسنس کی شرائط اور ریگولیٹری فریم ورک کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انجام دیا گیا۔

جعلی دستاویزات اور سستی گیس حاصل کرنے کے الزامات

تحقیقاتی ادارے نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزمان نے صرف بجلی کے معاملات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز سے رعایتی نرخوں پر گیس حاصل کرنے کے لیے بھی جعلی دستاویزات استعمال کیں۔

چارج شیٹ کے مطابق:

  • گیس کے حصول کے لیے غلط معلومات فراہم کی گئیں۔
  • لائسنس کی مقررہ حدود سے زیادہ بجلی پیدا کی گئی۔
  • غیر قانونی طور پر پیدا ہونے والی بجلی فیسکو کو فروخت کی جاتی رہی۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ان تمام معاملات کی مالیاتی جانچ جاری ہے۔

30 ارب روپے کے ایک اور کیس کا بھی انکشاف

ایف آئی اے کے ایک تفتیشی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ میاں ادریس کے خلاف ایک اور بڑے مقدمے میں بھی تحقیقات جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان پر:

  • آئی پی پیز سے متعلق مبینہ 30 ارب روپے کے فراڈ،
  • تقریباً 12 ارب روپے کی گیس اور بجلی چوری،
  • اور مختلف مالی بے ضابطگیوں

کے الزامات بھی زیرِ تفتیش ہیں۔

حکام کے مطابق فیسکو اور سوئی گیس کے بعض افسران کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ایف آئی اے کی قانونی دفعات

ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف:

  • انسدادِ بدعنوانی ایکٹ،
  • پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات،
  • دھوکہ دہی،
  • جعل سازی،
  • اختیارات کے ناجائز استعمال،
  • امانت میں خیانت،
  • جعلی دستاویزات کے استعمال

سمیت متعدد سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

تحقیقاتی ادارے کے مطابق مزید شواہد سامنے آنے پر مقدمے میں نئی دفعات اور مزید ملزمان بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

عدالت سے جسمانی ریمانڈ

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے فیسکو کے دو سابق چیف ایگزیکٹو افسران خورشید عالم اور احمد سعید اختر کو گرفتار کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا، جہاں سے ان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا۔

دوسری جانب دیگر نامزد ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیے جا چکے ہیں تاکہ وہ ملک سے باہر نہ جا سکیں۔

مزید تحقیقات جاری

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کیس پاکستان کے پاور سیکٹر میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے بڑے مقدمات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ادارے کے مطابق مختلف سرکاری اور نجی اداروں سے مزید ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے، مالی لین دین کا فرانزک آڈٹ کیا جا رہا ہے اور تمام نامزد افراد کے کردار کا الگ الگ جائزہ لیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، اس لیے تمام ملزمان کو قانون کے مطابق صفائی پیش کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ حتمی ذمہ داری کا تعین عدالت میں شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button