مشرق وسطیٰتازہ ترین

ایران میں جنگ اور جنگ بندی کے درمیان غیر یقینی زندگی

یہ جمود صرف انفرادی مایوسی تک محدود نہیں بلکہ روزگار، خاندان اور مستقبل سے متعلق بنیادی فیصلوں کو بھی متاثر کر رہا ہے

امیر سلطان زادہ

جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیاں، متضاد سیاسی بیانات اور مسلسل ہنگامی اقدامات نے بہت سے ایرانی شہریوں میں تھکن، غصے اور گہری بے یقینی کو جنم دیا ہے۔

بہت سے شہریوں کے لیے یہ غیر یقینی صورتحال خود جنگ سے بھی زیادہ ذہنی دباؤ کا باعث بن گئی ہے۔ مسئلہ اب صرف تشدد کے خدشے تک محدود نہیں بلکہ ایک مستحکم مستقبل کا تصور کرنے میں ناکامی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔

غیر یقینی صورتحال

تہران سے تعلق رکھنے والی ایک وکیل، جنہوں نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نےبتایا کہ موجودہ صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں جنگی بحران کب ختم ہو گا۔

انہوں نے کہا، ”اس وقت کی سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے خاتمے کا کوئی واضح وقت معلوم نہیں۔ جب آپ مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے کوئی منصوبہ ہی نہیں بنا سکتے، تو اس سے شدید ذہنی دباؤ پیدا ہوتا ہے ۔‘‘

ان کے مطابق یہ جمود صرف انفرادی مایوسی تک محدود نہیں بلکہ روزگار، خاندان اور مستقبل سے متعلق بنیادی فیصلوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

اصفہان کے ایک رہائشی نے گفتگو میں کہا، ”ہم مکمل طور پر مایوس ہو چکے ہیں۔ امن اور جنگ کے درمیان مسلسل غیر یقینی کی کیفیت ہمارے اذہان کے لیے کھیل بن چکی ہے، اور ہمیں نہ اپنے مستقبل سے کوئی واضح امید ہے اور نہ ہی اپنی ذہنی اور مالی سلامتی کے حوالے سے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس پورے تجربے نے لوگوں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اب نہ جنگ میں شامل کسی بھی فریق پر اعتماد باقی رہا ہے اور نہ ہی اس امید پر کہ کوئی دیرپا معاہدہ ہو سکے گا۔

تہران کے ایک تجارتی علاقے میں قائم چیک پوسٹ کے قریب ایرانی نوجوان فٹ پاتھ پر چل رہے ہیں، جہاں ان کے اوپر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی تصویر پر مشتمل ایک بڑا بل بورڈ نصب ہے
مئی 2026 میں ایران کی وزارت داخلہ کے ایک سروے کے مطابق تقریباً 60 فیصد ایرانی عوام مستقبل کے حوالے سے مایوسی کا شکار ہیںتصویر: Morteza Nikoubazl/NurPhoto/picture alliance

نئی نسل غیر یقینی صورتحال سے زیادہ متاثر

موجودہ غیر یقینی صورتحال کا سب سے زیادہ اثر نوجوان ایرانیوں پر پڑ رہا ہے، جن میں سے بیشتر کو 1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی ایران۔عراق جنگ یا طویل عرصے تک جنگی خطرات کے سائے میں زندگی گزارنے کا کوئی براہِ راست تجربہ نہیں۔ ان کے لیے یہ پہلی بار ہے کہ وہ ایک غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والے علاقائی تنازع کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

مغربی ایران سے تعلق رکھنے والی ایک نرس، جنہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی، نے کہا کہ جب کوئی معاشرہ اس نوعیت کی صورتحال سے دوچار ہوتا ہے تو مستقبل پر لوگوں کا اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے اور وہ طویل مدتی فیصلے مؤخر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

ان کے بقول، جس نسل نے طویل جنگ کا براہِ راست تجربہ نہیں کیا، اس کے لیےموجودہ حالات زیادہ پریشان کن ہیں۔ اس کی وجہ ان کی کمزوری نہیں بلکہ یہ ہے کہ ان کے پاس ایسی صورتحال میں زندگی گزارنے کا کوئی ذہنی یا عملی نمونہ موجود نہیں۔

ایران کے دارالحکومت تہران کے وسطی علاقے میں ایک ایرانی خاتون ایک سرکاری عمارت کے قریب سے گزر رہی ہے، جس پر امریکہ مخالف ایک بڑا بل بورڈ نصب ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ غیر یقینی کیفیت جتنی طویل ہوتی جائے گی، عوام کا اعتماد بحال کرنا اور انہیں مستقبل کے بارے میں امید اور حوصلہ دینا اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گاتصویر: Morteza Nikoubazl/NurPhoto/picture alliance

غصہ، مایوسی اور ذہنی تھکن میں اضافہ

فرانس کی یونیورسٹی آف لورین کے پروفیسر سعید پایوندی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب اعداد و شمار اور فیلڈ ریسرچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت ایران میں دو رجحانات بیک وقت نمایاں ہیں: مستقبل کے بارے میں گہری مایوسی اور حکومت کی عوامی مسائل حل کرنے اور مؤثر انداز میں حکمرانی کرنے کی صلاحیت پر شدید غصہ۔

انہوں نے مئی 2026 میں ایران کی وزارت داخلہ کے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کے مطابق تقریباً 60 فیصد ایرانی عوام مستقبل کے حوالے سے مایوسی کا شکار ہیں۔

پروفیسر پایوندی نے ایران وائر کی جانب سے شائع کیے گئے حالیہ سروے کے نتائج کا بھی حوالہ دیا، جن کے مطابق 64 فیصد جواب دہندگان نے غصے، تقریباً 50 فیصد نے مایوسی، 48 فیصد نے ڈپریشن جبکہ تقریباً 45 فیصد نے خوف اور بے چینی کا اظہار کیا۔

پروفیسر پایوندی کا کہنا ہے کہ غصے، ڈپریشن اور بے چینی کی شرح میں تقریباً 10 سے 12 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی کریک ڈاؤن اور اس کے بعد ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے عوام کی زندگی، سیاست اور مستقبل سے متعلق سوچ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

ماہرین کے نزدیک موجودہ صورتحال کو مزید پیچیدہ اس بات نے بنا دیا ہے کہ کسی بھی فریق نے عوام کو مستقبل کے بارے میں کوئی واضح اور قابل اعتماد راستہ یا امید فراہم نہیں کی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ غیر یقینی کیفیت جتنی طویل ہوتی جائے گی، عوام کا اعتماد بحال کرنا اور انہیں مستقبل کے بارے میں امید اور حوصلہ دینا اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button