
ڈی پی اے اور ای پی ڈی کے ساتھ
برلن: جرمنی میں دنیا کی مشہور آٹوبان (Autobahn) ہائی ویز پر زیادہ سے زیادہ رفتار کی قانونی حد مقرر کرنے کے معاملے پر ایک نئی تحقیق نے برسوں سے جاری بحث کو ایک بار پھر تیز کر دیا ہے۔ تازہ مطالعاتی جائزے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر جرمن موٹر ویز پر 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ رفتار مقرر کر دی جائے تو ہر سال درجنوں قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں، جبکہ ٹریفک حادثات میں ہونے والی اموات میں نمایاں کمی آئے گی۔
یہ تحقیق بیورن اشٹائیگر فاؤنڈیشن (Björn Steiger Foundation) کی جانب سے کرائی گئی، جس کے نتائج ادارے کے ٹریفک سیفٹی ریسرچر زیگفریڈ بروک مان نے میڈیا کے سامنے پیش کیے۔ ان کے مطابق جرمنی دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں قومی سطح پر موٹر ویز پر رفتار کی کوئی عمومی حد مقرر نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے پر ہر چند سال بعد نئی بحث جنم لیتی ہے۔
آٹوبان: رفتار کی آزادی یا جانوں کا خطرہ؟
جرمنی کی آٹوبان دنیا بھر میں اپنی منفرد خصوصیت کی وجہ سے مشہور ہے، جہاں بیشتر حصوں پر گاڑی چلانے کے لیے زیادہ سے زیادہ رفتار کی کوئی قانونی حد موجود نہیں۔ اگرچہ بعض مخصوص مقامات پر ٹریفک کے دباؤ، تعمیراتی کام یا حفاظتی وجوہات کی بنا پر رفتار محدود کی جاتی ہے، تاہم ملک کے بڑے حصے میں ڈرائیور اپنی گاڑی اپنی صوابدید کے مطابق تیز رفتاری سے چلا سکتے ہیں۔
اسی خصوصیت نے جرمنی کو موٹر اسپورٹس اور تیز رفتار ڈرائیونگ کے شوقین افراد کے لیے منفرد مقام دیا ہے، لیکن ماہرینِ ٹریفک سیفٹی کا کہنا ہے کہ یہی آزادی بعض اوقات جان لیوا حادثات کا سبب بھی بنتی ہے۔
نئی تحقیق کے اہم نتائج
تحقیق کے مطابق اگر جرمن حکومت آٹوبان پر 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی قانونی رفتار نافذ کر دے تو:
- آٹوبان پر ہونے والی اموات میں 25 سے 30 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
- ہر سال 70 سے 90 افراد کی جان بچائی جا سکتی ہے۔
- سنگین ٹریفک حادثات کی شدت میں بھی واضح کمی آئے گی۔
- حادثات کے نتیجے میں ہونے والے معاشی نقصانات اور طبی اخراجات میں بھی کمی ممکن ہوگی۔
ریسرچر زیگفریڈ بروک مان کے مطابق رفتار جتنی زیادہ ہوگی، حادثے کے وقت گاڑی پر کنٹرول برقرار رکھنا اتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے، جبکہ تصادم کی شدت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رفتار میں معمولی کمی بھی جان لیوا حادثات کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے۔
2025 کے اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
تحقیق میں جرمنی کے گزشتہ سال کے سرکاری ٹریفک ڈیٹا کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق:
- 2025 کے دوران جرمنی میں ٹریفک حادثات میں مجموعی طور پر 2,800 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
- ان میں سے 292 افراد صرف آٹوبان پر ہونے والے حادثات میں جان سے گئے۔
- محققین کے مطابق اگر اس وقت رفتار کی حد 130 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی تو ان 292 میں سے تقریباً 70 سے 90 افراد کی جان بچائی جا سکتی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ آٹوبان مجموعی سڑکوں کے مقابلے میں نسبتاً محفوظ تصور کی جاتی ہے، تاہم انتہائی تیز رفتاری کی وجہ سے ہونے والے حادثات زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔
عوام کی اکثریت رفتار کی حد کے حق میں
جرمنی میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مختلف اداروں کی جانب سے کیے گئے عوامی سرویز سے بھی دلچسپ رجحان سامنے آیا ہے۔
زیادہ تر سرویز کے مطابق جرمن شہریوں کی اکثریت اب آٹوبان پر رفتار کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کیے جانے کی حمایت کرتی ہے۔
رفتار کی حد کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جدید ٹریفک نظام میں حفاظت کو رفتار پر ترجیح دی جانی چاہیے، جبکہ مخالفین کا مؤقف ہے کہ آٹوبان جرمنی کی شناخت کا حصہ ہے اور مناسب تربیت یافتہ ڈرائیور تیز رفتار میں بھی محفوظ انداز سے گاڑی چلا سکتے ہیں۔
وفاقی وزارت ٹرانسپورٹ اب بھی مخالف
اگرچہ عوامی رائے میں رفتار کی حد کے حق میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، لیکن جرمنی کی وفاقی وزارت ٹرانسپورٹ اب بھی اس تجویز کی مخالفت کر رہی ہے۔
وزارت کا مؤقف ہے کہ جرمنی کے موجودہ ٹریفک قوانین اور حفاظتی معیارات پہلے ہی دنیا کے بہترین نظاموں میں شمار ہوتے ہیں، جبکہ تمام حادثات کی وجہ صرف زیادہ رفتار نہیں ہوتی بلکہ انسانی غلطیاں، موسمی حالات، غفلت اور دیگر عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی وجہ سے وفاقی حکومت نے اب تک آٹوبان پر عمومی رفتار کی حد نافذ کرنے سے گریز کیا ہے۔
ماحولیاتی فوائد بھی متوقع
رفتار کی حد کے حامی صرف انسانی جانوں کے تحفظ کو ہی دلیل نہیں بناتے بلکہ اس کے ماحولیاتی فوائد بھی سامنے لاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر:
- آٹوبان پر رفتار 130 کلومیٹر فی گھنٹہ
- جبکہ دیگر شاہراہوں پر 80 کلومیٹر فی گھنٹہ
مقرر کر دی جائے تو:
- ایندھن کی کھپت کم ہوگی۔
- کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی آئے گی۔
- فضائی آلودگی میں بھی کمی ممکن ہوگی۔
- جرمنی کے ماحولیاتی اہداف کے حصول میں مدد مل سکتی ہے۔
وزارت ماحولیات کا محتاط اندازہ
تاہم جرمنی کی وفاقی وزارت ماحولیات اس معاملے میں نسبتاً محتاط مؤقف رکھتی ہے۔
وزارت کے مطابق رفتار کی حد متعارف کرانے سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی ضرور آئے گی، لیکن اس کا مجموعی اثر بہت زیادہ نہیں ہوگا۔
سرکاری اندازوں کے مطابق آٹوبان پر رفتار محدود کرنے سے روڈ ٹرانسپورٹ کے شعبے سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں میں صرف 2.7 فیصد کمی آئے گی۔
اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ رفتار کی حد ماحول کے لیے مثبت قدم ثابت ہو سکتی ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مزید وسیع اور جامع اقدامات بھی ناگزیر ہوں گے۔
رفتار کی حد پر اختلاف کیوں؟
جرمنی میں آٹوبان صرف ایک شاہراہ نہیں بلکہ قومی ثقافت اور صنعتی تاریخ کی علامت بھی سمجھی جاتی ہے۔
جرمن آٹو موبائل صنعت، خصوصاً اعلیٰ کارکردگی والی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے لیے بغیر رفتار کی حد والی ہائی ویز ایک منفرد شناخت رکھتی ہیں۔
اسی لیے اس موضوع پر سیاسی جماعتوں، ماہرین، صنعت کاروں اور عوام کے درمیان برسوں سے اختلاف پایا جاتا ہے۔
ایک طبقہ اسے شہری آزادی اور ڈرائیونگ کلچر کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اسے غیر ضروری خطرہ سمجھتے ہوئے جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔
بحث دوبارہ شدت اختیار کر گئی
بیورن اشٹائیگر فاؤنڈیشن کی نئی تحقیق منظرعام پر آنے کے بعد جرمنی میں آٹوبان پر رفتار کی قانونی حد مقرر کرنے کی بحث ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مستقبل میں اس حوالے سے کوئی قانون سازی کرتی ہے تو اس کا مقصد صرف رفتار محدود کرنا نہیں بلکہ انسانی جانوں کا تحفظ، سڑکوں پر حادثات میں کمی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ نظام کو فروغ دینا ہوگا۔
تاہم وفاقی حکومت کی موجودہ پالیسی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر آٹوبان پر عمومی رفتار کی حد نافذ ہونے کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں، البتہ تازہ تحقیق نے اس اہم قومی مسئلے پر عوامی اور سیاسی بحث کو نئی توانائی ضرور فراہم کر دی ہے۔



