اہم خبریںپاکستان

ملک بھر میں مون سون کا نیا اسپیل، نشیبی علاقے زیرِ آب آنے کا خدشہ

پاکستان میں مون سون بارشوں اور سیلاب کا نیا خطرہ، ایک ماہ میں 100 سے زائد اموات، مزید شدید بارشوں کی پیش گوئی

انصار ذاہد سیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

اسلام آباد: پاکستان ایک بار پھر شدید مون سون بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے خطرے سے دوچار ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہونے والی موسلادھار بارشوں، اچانک آنے والے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مختلف حادثات کے نتیجے میں ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ سینکڑوں افراد زخمی اور ہزاروں خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز کے دوران مزید شدید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

مزید بارشوں کی پیش گوئی، ہائی الرٹ جاری

محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون ہواؤں کا ایک نیا اور طاقتور سلسلہ ملک کے بالائی، وسطی اور جنوبی علاقوں میں داخل ہو رہا ہے، جس کے باعث پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارشوں کا امکان ہے۔

ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب، پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ اور دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

ایک ماہ میں قیمتی جانوں کا نقصان

حالیہ مون سون سیزن کے دوران مختلف حادثات میں ایک سو سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ان میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں۔

زیادہ تر ہلاکتیں مکانوں کی چھتیں اور دیواریں گرنے، کرنٹ لگنے، تیز بہاؤ میں بہہ جانے، لینڈ سلائیڈنگ اور ٹریفک حادثات کے باعث رپورٹ ہوئیں، جبکہ متعدد افراد مختلف حادثات میں زخمی بھی ہوئے۔

ریسکیو اداروں کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور کئی مقامات پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

کئی علاقے زیرِ آب آنے کا خدشہ

شدید بارشوں کے باعث مختلف شہروں کی سڑکیں، گلیاں اور نشیبی علاقے زیرِ آب آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

شہری انتظامیہ نے برساتی نالوں کی صفائی، نکاسیٔ آب کے نظام کو فعال رکھنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔

دریاؤں اور برساتی ندی نالوں کے کنارے آباد آبادیوں کو بھی محتاط رہنے اور کسی بھی ہنگامی اطلاع کی صورت میں فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

زرعی شعبہ بھی متاثر ہونے کا خدشہ

زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل بارشیں جہاں بعض فصلوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں، وہیں ضرورت سے زیادہ بارشیں کھڑی فصلوں، سبزیوں، باغات اور مویشیوں کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔

کسانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ فصلوں کے کھیتوں سے اضافی پانی کے فوری اخراج کا انتظام کریں اور مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔

این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم ایز کی تیاریاں

قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں نے ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

ریسکیو ٹیموں، ضلعی انتظامیہ، صحت کے اداروں، بلدیاتی محکموں اور دیگر متعلقہ اداروں کو کسی بھی ممکنہ ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا کہا گیا ہے، جبکہ حساس علاقوں میں مشینری، کشتیوں، ایمبولینسز اور دیگر امدادی سامان کی دستیابی بھی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید نمایاں

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

ان کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران بارشوں کے انداز، شدت اور دورانیے میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے، جس کے باعث اچانک سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، شدید گرمی اور غیر معمولی موسمی واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید نکاسیٔ آب کے نظام، شہری منصوبہ بندی، آبی ذخائر کی بہتری، جنگلات کے تحفظ اور موسمیاتی موافقت پر مبنی پالیسیوں پر مزید توجہ دینا ہوگی۔

شہریوں کے لیے احتیاطی ہدایات

ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ شدید بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ندی نالوں اور برساتی پانی کے بہاؤ کے قریب جانے سے اجتناب کریں، بجلی کی کھلی تاروں اور پانی میں ڈوبے ہوئے برقی آلات سے دور رہیں اور سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔

حکومت اور امدادی اداروں کا عزم

حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ادارے اور دیگر متعلقہ محکمے ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں، شہریوں کی محفوظ منتقلی اور بنیادی سہولیات کی بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں پاکستان کو مستقبل میں ایسے شدید موسمی واقعات کا سامنا بار بار ہو سکتا ہے، اس لیے مضبوط انفراسٹرکچر، مؤثر ڈیزاسٹر مینجمنٹ، بروقت وارننگ سسٹم اور عوامی آگاہی ہی جانی و مالی نقصانات کو کم کرنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button