
کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا کی نیول ہیڈکوارٹرز آمد،ملکی بحری دفاع، اسٹریٹجک تعاون اور میری ٹائم سکیورٹی کے فروغ کے عزم کا اعادہ
دونوں عسکری رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی حالات کے تناظر میں سمندری سلامتی پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: پاکستان کی قومی دفاعی حکمت عملی اور بحری سلامتی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت کے طور پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ (CNSC) جنرل سید عامر رضا نے نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملک کی بحری سلامتی، اسٹریٹجک دفاع، آپریشنل تیاریوں اور خطے میں بدلتی ہوئی میری ٹائم سکیورٹی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ایڈمرل نوید اشرف کی مبارکباد
ملاقات کے آغاز میں سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف نے جنرل سید عامر رضا کو کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
نیول چیف نے اس امید کا اظہار کیا کہ جنرل سید عامر رضا کی قیادت میں قومی اسٹریٹجک اداروں کے درمیان باہمی تعاون مزید مضبوط ہوگا اور پاکستان کے دفاعی نظام کو مزید مؤثر بنانے میں اہم پیش رفت ہوگی۔
میری ٹائم سکیورٹی کے بدلتے ہوئے چیلنجز پر غور
ملاقات کے دوران بحرِ ہند، بحیرۂ عرب اور خطے میں بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ دونوں عسکری رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی حالات کے تناظر میں سمندری سلامتی پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق گفتگو میں سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ، بندرگاہوں کی سکیورٹی، بحری سرحدوں کے دفاع، انسدادِ دہشت گردی، انسدادِ اسمگلنگ، بحری قزاقی کی روک تھام اور حساس تنصیبات کے تحفظ جیسے اہم موضوعات بھی زیرِ بحث آئے۔
پاک بحریہ ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار
ایڈمرل نوید اشرف نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک بحریہ ملک کے سمندری مفادات، بحری حدود، ساحلی تنصیبات اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر وقت مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک بحریہ جدید جنگی حکمت عملی، پیشہ ورانہ مہارت، جدید ٹیکنالوجی اور مسلسل تربیت کی بدولت ہر قسم کے روایتی اور غیر روایتی بحری خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
نیول چیف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاک بحریہ نہ صرف ملکی بحری سرحدوں کے دفاع کی ذمہ دار ہے بلکہ خطے میں امن، استحکام اور محفوظ بحری گزرگاہوں کے قیام میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے۔
جنرل سید عامر رضا کی پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین
کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا نے پاک بحریہ کی اعلیٰ سطح کی آپریشنل تیاریوں، جنگی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بحریہ نے قومی دفاع اور سمندری سلامتی کے میدان میں ہمیشہ اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے پاکستان کی بحری سرحدوں کے تحفظ، قومی مفادات کے دفاع اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا مؤثر جواب دینے کے لیے پاک بحریہ کے غیر متزلزل عزم کو قابلِ ستائش قرار دیا۔
بین الادارہ جاتی ہم آہنگی کی اہمیت پر زور
ملاقات میں قومی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مسلح افواج کے مختلف اداروں کے درمیان قریبی تعاون اور مؤثر رابطہ کاری کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
دونوں عسکری رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جدید دور کے پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی، معلومات کا تبادلہ، مربوط منصوبہ بندی اور اعلیٰ سطح کی پیشہ ورانہ ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
بحری دفاع پاکستان کی قومی سلامتی کا اہم ستون
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کا طویل ساحلی علاقہ، اہم بندرگاہیں، سمندری تجارتی راستے اور بحیرۂ عرب میں اس کا اسٹریٹجک محل وقوع ملکی معیشت اور قومی سلامتی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے میں پاک بحریہ، نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ اور دیگر دفاعی اداروں کے درمیان مضبوط تعاون نہ صرف بحری سرحدوں کے مؤثر دفاع کو یقینی بناتا ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام اور پاکستان کے اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
قومی دفاع کے لیے مشترکہ عزم
ملاقات کے اختتام پر دونوں عسکری رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کے داخلی و خارجی خطرات سے نمٹنے، بحری سرحدوں کے تحفظ، میری ٹائم سکیورٹی کو مزید مستحکم بنانے اور قومی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے باہمی تعاون اور پیشہ ورانہ ہم آہنگی کو مزید فروغ دیتی رہیں گی۔



