
اسرائیلی وزیر دفاع کا بڑا دعویٰ، "امریکی جنگی طیاروں نے ایران پر حملوں کے لیے اسرائیلی اڈے استعمال کیے”
امریکی فضائی کارروائیوں، ایران۔اسرائیل جنگ بندی اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر نئی بحث
تل ابیب: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے دوران اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک اہم اور توجہ حاصل کرنے والا بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر حالیہ امریکی فضائی حملوں کے دوران امریکی جنگی طیاروں نے اسرائیلی فوجی اڈوں کو استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں ایران یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا تو اسرائیل پوری طاقت سے جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
وزیر دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ عسکری کشیدگی کے بعد گزشتہ چند روز سے لڑائی میں وقتی وقفہ دیکھا جا رہا ہے، تاہم خطے میں حالات اب بھی انتہائی حساس تصور کیے جا رہے ہیں۔
امریکی فضائی حملوں کے حوالے سے اہم دعویٰ
اسرائیلی وزیر دفاع نے منگل کے روز ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکی فضائیہ نے ایران کے خلاف اپنے حالیہ حملوں کے دوران اسرائیلی فوجی اڈوں سے آپریشنز کیے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایران خطے کے مختلف مقامات پر کارروائیاں کر رہا ہے، تاہم اس نے اسرائیل کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا۔
کاٹز کے مطابق ایران اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ امریکی جنگی طیارے اسرائیلی سرزمین سے بھی پرواز کر کے اپنے اہداف کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
"صورتحال کسی بھی وقت بدل سکتی ہے”
اسرائیلی وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ اگرچہ اس وقت اسرائیل پر براہِ راست حملہ نہیں ہو رہا، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال انتہائی غیر یقینی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالات ایک گھنٹے کے اندر بھی تبدیل ہو سکتے ہیں، اس لیے اسرائیل ہر ممکن صورتحال کے لیے مکمل تیاری کیے ہوئے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
جوابی کارروائی کی واضح دھمکی
اسرائیل کاٹز نے زور دے کر کہا کہ اگر ایران یا اس کے حمایت یافتہ گروہ اسرائیل پر حملہ کرتے ہیں تو اس کا جواب فوری، سخت اور بھرپور انداز میں دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے نہ صرف انہوں نے بلکہ اسرائیلی وزیراعظم بھی متعدد بار واضح اعلان کر چکے ہیں کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔
وزیر دفاع کے مطابق اسرائیلی فوج ہر قسم کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
حالیہ جنگ اور جنگ بندی کا پس منظر
حالیہ کشیدگی کا آغاز ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع کے بعد ہوا، جس کے دوران امریکہ نے ایران کے مختلف مقامات پر مسلسل فضائی حملے کیے۔
رپورٹس کے مطابق تقریباً تیرہ راتوں تک جاری رہنے والی اس عسکری کارروائی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان وقتی طور پر لڑائی رک گئی، جبکہ جمعے سے براہِ راست فوجی کارروائیوں میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
اگرچہ اسرائیل اس حالیہ مرحلے میں براہِ راست جنگی کارروائیوں میں شامل نہیں تھا، تاہم اسرائیلی قیادت مسلسل اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری شراکت داری
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی طیاروں کی جانب سے اسرائیلی اڈوں کے استعمال کا دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون کی ایک اور اہم مثال ہوگی۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کئی دہائیوں سے انٹیلی جنس، فضائی دفاع، میزائل شکن نظام، مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی منصوبہ بندی میں قریبی تعاون کرتے رہے ہیں۔
ایران کا ممکنہ ردعمل
اسرائیلی وزیر دفاع کے بیان پر ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
تاہم ماضی میں ایرانی حکام متعدد بار یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ اگر کسی بھی ملک نے اپنی سرزمین ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے دی تو اسے بھی ممکنہ نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس دعوے کی مزید تفصیلات سامنے آتی ہیں تو اس سے خطے میں سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
امریکہ کا مؤقف
امریکی حکام کی جانب سے بھی اسرائیلی وزیر دفاع کے اس بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
واشنگٹن اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیوں کا مقصد اپنے قومی مفادات اور خطے میں سلامتی کو یقینی بنانا ہے، جبکہ وہ وسیع پیمانے پر جنگ سے گریز کا خواہاں ہے۔
علاقائی سلامتی پر ممکنہ اثرات
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کئی محاذوں پر کشیدگی برقرار ہے۔
ان کے مطابق اگر جنگ بندی برقرار نہ رہ سکی یا کسی بھی فریق کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائی شروع ہوئی تو اس کے اثرات نہ صرف ایران اور اسرائیل بلکہ پورے خطے، عالمی توانائی کی منڈی، بین الاقوامی تجارت اور بحری راستوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
سفارت کاری اور عسکری تیاری ساتھ ساتھ
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ دنوں میں لڑائی میں وقتی وقفہ آیا ہے، لیکن دونوں جانب عسکری تیاریوں اور سخت بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ صورتحال اب بھی نازک ہے۔ ان کے مطابق مستقل امن کے لیے سفارتی مذاکرات، علاقائی تعاون اور اعتماد سازی ناگزیر ہیں، جبکہ کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔
نوٹ: اس خبر میں امریکی طیاروں کے اسرائیلی اڈے استعمال کرنے سے متعلق بیان اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے دعوے پر مبنی ہے۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق یا امریکی حکام کی باضابطہ توثیق اس وقت سامنے نہیں آئی۔



