بین الاقوامی

امریکہ ایران تنازع: ٹرمپ کا ’بڑے فیصلے‘ کا عندیہ، آبنائے ہرمز میں 105 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا

جنگ کے خاتمے کے دعووں کے باوجود کشیدگی برقرار؛ ٹرمپ کا ایرانی نظام کے خلاف مزید فوجی کارروائی پر غور، مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی موجودہ سطح سال کے اختتام تک برقرار رکھنے کا فیصلہ

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور سفارتی تعطل ختم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک جانب ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کی ہے، جبکہ دوسری جانب یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ تہران کے خلاف مزید بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کے تازہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری تنازع نے مشرق وسطیٰ میں وسیع تر سلامتی بحران کو جنم دے رکھا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے نفاذ کے دوران اب تک 105 تجارتی بحری جہازوں کا رخ تبدیل کیا جا چکا ہے۔

ٹرمپ: ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔

تاہم اسی دوران انہوں نے اس امکان کو بھی کھلا رکھا کہ اگر موجودہ صورتحال مطلوبہ نتائج نہیں دیتی تو امریکہ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس وقت ایک اہم فیصلے کے قریب ہیں اور ان کے سامنے مختلف آپشنز موجود ہیں۔

اس سے قبل Axios کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کے معاملے پر ایک ’’اہم موڑ‘‘ کے قریب پہنچ رہے ہیں اور یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جائے یا تنازع کو کسی دوسرے طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔

’’کیا ایرانی نظام کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر کارروائی کی جائے؟‘‘

ٹرمپ کے مطابق ان کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں دوبارہ نمایاں اضافہ کیا جائے یا نہیں۔

انہوں نے اپنے حالیہ مؤقف میں کہا کہ وہ ایک ’’بڑا فیصلہ‘‘ کرنے جا رہے ہیں اور تمام امکانات کھلے ہیں۔

یہ بیان اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ امریکی صدر پہلے بھی ایران کے خلاف بڑے حملوں کی دھمکی یا امکان کا اظہار کرتے رہے ہیں، تاہم بعض مواقع پر سفارتی کوششوں کو موقع دینے کے لیے فوجی کارروائی میں کمی بھی کی گئی۔

Axios کے مطابق ٹرمپ نے ستمبر میں کہا کہ وہ ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کن مرحلے کے قریب ہیں اور خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے مشاورت بھی ان کے آئندہ فیصلے کا حصہ ہو سکتی ہے۔

ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ بھی جاری

امریکی حکومت نے فوجی دباؤ کے ساتھ ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ بھی بڑھایا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی میں ایران کو اقتصادی طور پر محدود کرنا، اس کی توانائی اور تجارتی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھانا اور ایسے ممالک کو خبردار کرنا شامل رہا ہے جو واشنگٹن کے مطابق تہران کو اقتصادی یا مالی سہولت فراہم کرتے ہیں۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ان کی حکمت عملی کا بنیادی مقصد ہے۔

ٹرمپ نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے امریکی عوام کو توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز: جنگ کا سب سے حساس محاذ

امریکہ ایران تنازع میں آبنائے ہرمز سب سے اہم اور حساس محاذ بن چکا ہے۔

یہ آبی گزرگاہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

ایران کے ساحل اور خلیجی ممالک کے درمیان واقع اس راستے میں کسی بھی بڑے پیمانے کی عسکری کشیدگی سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

اسی لیے آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی فوجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت بھی عالمی منڈیوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

امریکی بحری ناکہ بندی، 105 تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے دوبارہ نفاذ کے بعد امریکی فورسز نے 105 تجارتی بحری جہازوں کا رخ تبدیل کیا ہے۔

CENTCOM کے مطابق امریکی فورسز ایران سے متعلق بحری پابندیوں کو نافذ کر رہی ہیں اور ان جہازوں کو ہدایات کے مطابق متبادل راستوں کی طرف منتقل کیا گیا ہے۔

امریکی کمانڈ پہلے بھی واضح کر چکی ہے کہ ایران کے ساحلی علاقوں اور بندرگاہوں سے آنے اور جانے والی بحری ٹریفک پر ناکہ بندی کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔

CENTCOM کے مطابق جولائی میں ناکہ بندی دوبارہ شروع کرتے وقت امریکی فورسز کو ایران جانے یا وہاں سے آنے والے بحری جہازوں کی نگرانی اور پابندیوں کے نفاذ کی ذمہ داری دی گئی تھی

ناکہ بندی پہلے بھی وسیع پیمانے پر نافذ کی جا چکی ہے

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق رواں سال اپریل سے جون کے دوران بھی ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کی گئی تھی۔

CENTCOM نے اس وقت بتایا تھا کہ امریکی فورسز نے 140 سے زائد تجارتی بحری جہازوں کا رخ تبدیل کیا، جبکہ نو ایسے جہازوں کو غیر فعال کیا گیا جنہیں امریکی حکام نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والا قرار دیا تھا۔

امریکی کمانڈ نے یہ بھی کہا تھا کہ انسانی امداد سے متعلق 50 سے زائد تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی۔

اس طرح موجودہ بحری کارروائی محض محدود اور عارضی سرگرمی نہیں بلکہ ایران پر واشنگٹن کے وسیع تر فوجی اور اقتصادی دباؤ کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔

جنگ کے خاتمے کے بجائے طویل ہوتی کشیدگی

ٹرمپ کی جانب سے جنگ جلد ختم ہونے کے بیانات کے باوجود زمینی صورتحال میں فوری خاتمے کے واضح آثار سامنے نہیں آئے۔

امریکی صدر ایک طرف سفارتی حل اور جنگ کے اختتام کی بات کرتے ہیں، دوسری طرف ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے امکان کو بھی مسترد نہیں کر رہے۔

یہ پالیسی بیک وقت دباؤ اور مذاکرات کے راستے کھلے رکھنے کی حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔

Axios کے مطابق ٹرمپ نے اس سے قبل بھی ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں دوبارہ ’’بہت مضبوط فوجی کارروائی‘‘ کا امکان ظاہر کیا تھا۔

امریکی فوج کو مشرق وسطیٰ میں موجودگی برقرار رکھنے کے احکامات

حالیہ صورتحال کے دوران امریکی انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ میں موجود اپنی فوجی طاقت کو فوری طور پر کم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Axios کے مطابق امریکی فوج کو موجودہ سطح کی فورسز سال کے اختتام تک خطے میں برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ اگر دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا جائے تو امریکی فوج پہلے سے تیار ہو۔

یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن نے خطے میں کسی فوری اور مکمل فوجی انخلا کا راستہ اختیار نہیں کیا۔

بلکہ امریکی فوجی موجودگی کو برقرار رکھتے ہوئے سفارتی اور فوجی دونوں آپشنز کھلے رکھے گئے ہیں۔

سعودی عرب پر حوثی حملوں نے صورتحال مزید پیچیدہ کر دی

امریکہ ایران تنازع کے دوران مشرق وسطیٰ میں ایک اور اہم پیش رفت یمن کے حوثیوں کی سرگرمیاں ہیں۔

ایران کے ساتھ منسلک حوثی فورسز کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرۂ احمر میں حملوں نے پہلے سے کشیدہ علاقائی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

امریکی حکام ایران اور حوثیوں کے درمیان تعلقات کو اس تنازع کے وسیع تر علاقائی تناظر میں اہم سمجھتے ہیں۔

Axios کے مطابق حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں سعودی مفادات اور جہازوں کو نشانہ بنائے جانے نے ایک اور اہم تجارتی اور توانائی کے راستے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

بحیرۂ احمر سے آبنائے ہرمز تک خطرات

مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحران میں دو اہم بحری راستے خصوصی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

ایک طرف آبنائے ہرمز ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست عسکری کشیدگی اور بحری کارروائیاں جاری ہیں۔

دوسری جانب بحیرۂ احمر اور باب المندب ہے، جہاں حوثی حملوں کے باعث عالمی تجارتی جہاز رانی کو خطرات لاحق ہیں۔

رائٹرز کے مطابق اٹلی نے بھی بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے مزید بحری موجودگی کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ باب المندب میں بڑھتے ہوئے خطرات نے یورپی ممالک کو بھی اپنی بحری حکمت عملی پر نظرثانی پر مجبور کیا ہے۔

عالمی توانائی منڈی پر دباؤ

آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کا سب سے بڑا عالمی اثر توانائی کے شعبے پر پڑ رہا ہے۔

خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک پہنچنے والی تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس راستے میں مسلسل رکاوٹ یا عسکری خطرات سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔

امریکی حکام کی جانب سے بحری ناکہ بندی اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں دباؤ نے توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھایا ہے۔

امریکہ میں بھی جنگ کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے ممکنہ اثرات پر بحث جاری ہے۔

جنگ کی مالی لاگت بھی بڑھ رہی ہے

امریکہ ایران جنگ صرف عسکری اور سفارتی محاذ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے مالی اثرات بھی نمایاں ہو چکے ہیں۔

امریکی کانگریس کے بجٹ آفس کے مطابق یکم اگست 2026 تک جنگ پر امریکی اخراجات تقریباً 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے، جبکہ ادارے نے اندازہ ظاہر کیا کہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں ماہانہ اخراجات میں مزید تقریباً 3 ارب ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ نے امریکی ہتھیاروں کے ذخائر، دفاعی بجٹ اور مستقبل کی عسکری تیاریوں پر بھی دباؤ بڑھایا ہے۔

امریکی کانگریس میں بھی جنگ پر اختلاف

امریکہ کے اندر بھی ایران جنگ پر سیاسی اور قانونی بحث جاری ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان نے 15 ستمبر کو تیسری مرتبہ جنگ کے خاتمے کے لیے وار پاورز قرارداد منظور کی۔ قرارداد 220 کے مقابلے میں 204 ووٹوں سے منظور ہوئی، تاہم اس نوعیت کی سابقہ کوششوں کی طرح اس اقدام کو بھی صدر کی مخالفت کا سامنا ہے۔

اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ کے معاملے پر امریکی سیاسی نظام میں بھی اختلاف موجود ہے، خصوصاً صدر کے فوجی اختیارات اور کانگریس کے جنگی اختیارات کے حوالے سے۔

خلیجی اتحادیوں کی تشویش

امریکی پالیسی میں ایک اہم عنصر خلیجی ممالک کے خدشات بھی ہیں۔

Axios کے مطابق ٹرمپ نے اس سے قبل ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے حوالے سے سعودی عرب اور قطر کے خدشات کو بھی مدنظر رکھا تھا، کیونکہ بڑے پیمانے کی جنگ کی صورت میں ایران خلیجی ممالک کے تیل اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اسی پس منظر میں ٹرمپ کی جانب سے خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے براہ راست مشاورت کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

سفارت کاری یا مزید جنگ؟ فیصلہ کن مرحلہ

موجودہ صورتحال میں واشنگٹن کے سامنے بنیادی طور پر دو راستے موجود دکھائی دیتے ہیں: ایک طرف سفارتی مذاکرات اور کسی نئے معاہدے کی کوشش، جبکہ دوسری جانب ایران پر مزید عسکری دباؤ۔

ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں دونوں امکانات کھلے رکھے ہیں۔

اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو آبنائے ہرمز، تجارتی جہاز رانی اور توانائی کی عالمی منڈی پر دباؤ کم ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب اگر مذاکرات ناکام رہتے ہیں اور واشنگٹن دوبارہ بڑے پیمانے پر حملوں کا فیصلہ کرتا ہے تو تنازع مزید وسیع ہونے کا خطرہ برقرار رہے گا۔

مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پھیلاؤ کا خدشہ

امریکہ ایران جنگ پہلے ہی خلیج فارس، آبنائے ہرمز، بحیرۂ احمر اور یمن تک اپنے اثرات دکھا رہی ہے۔

سعودی عرب پر حوثی حملوں، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خطرات اور آبنائے ہرمز میں امریکی بحری کارروائیوں نے خطے میں کئی مختلف محاذ پیدا کر دیے ہیں۔

اسی لیے آئندہ امریکی فیصلہ صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعلقات کا معاملہ نہیں ہوگا بلکہ سعودی عرب، خلیجی ریاستوں، اسرائیل، یمن اور عالمی توانائی و تجارت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

جنگ کے خاتمے کا راستہ ابھی غیر واضح

امریکی صدر کی جانب سے ایران جنگ جلد ختم ہونے کی امید کا اظہار اپنی جگہ، تاہم موجودہ عسکری سرگرمیوں، آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی، تجارتی جہازوں کے راستے تبدیل کیے جانے اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فورسز کی موجودگی برقرار رکھنے کے فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع کے اختتام کا عملی طریقہ کار ابھی واضح نہیں۔

ایک طرف واشنگٹن ایران پر اقتصادی اور عسکری دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے، دوسری طرف سفارتی راستے کو مکمل طور پر بند بھی نہیں کیا گیا۔

اب اہم سوال یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے معاملے میں آئندہ فیصلہ فوجی دباؤ بڑھانے، مذاکرات کو مزید وقت دینے یا دونوں حکمت عملیوں کو بیک وقت جاری رکھنے میں سے کس سمت لے جاتی ہے۔

فی الحال امریکی صدر نے اپنے تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں اور مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی کے باعث بحران کا اگلا مرحلہ خطے کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button