
ایران کا بڑا دعویٰ: امریکی-اسرائیلی جارحیت کے خلاف “نئے سرپرائزز” کی تیاری
“امریکہ کی جارحانہ اور دفاعی صلاحیتیں دباؤ کا شکار ہیں، اور ان کے فوجی وسائل توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا پا رہے،”
تہران — ایران نے جاری علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم اور غیر معمولی دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں امریکی اور اسرائیلی اقدامات کے جواب میں “نئے سرپرائزز” متعارف کرانے جا رہا ہے، جن کے اثرات جنگ کے نتائج پر گہرے ہو سکتے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، ایک اعلیٰ عسکری ذریعے نے انکشاف کیا کہ ایران نے موجودہ جنگی صورتحال کے پیش نظر متعدد نئے اقدامات کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔ ذریعے کے بقول، “یہ سرپرائزز صرف علامتی نہیں ہوں گے بلکہ ان پر عمل درآمد سے میدانِ جنگ میں بڑے اور فیصلہ کن نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔”
امریکی حکمت عملی پر تنقید
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگی محاذ پر اپنے تمام فوجی آپشنز کی ناکامی کا سامنا ہے، اور وہ اب اس تعطل سے نکلنے کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔ ذریعے کے مطابق، یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر نے جنگی بیانیے کو میدانِ جنگ سے ہٹا کر سوشل میڈیا پر منتقل کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں امریکی جنگی جہازوں کے خلاف ایران کی حالیہ کارروائیوں نے واشنگٹن کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ “امریکہ کی جارحانہ اور دفاعی صلاحیتیں دباؤ کا شکار ہیں، اور ان کے فوجی وسائل توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا پا رہے،” ذریعے نے دعویٰ کیا۔
آبنائے ہرمز اور توانائی کی جنگ
عسکری ذریعے نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اس بات کا ادراک ہو چکا ہے کہ وہ فوجی طاقت کے ذریعے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر محفوظ یا کھلا رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ان کے مطابق، یہ صورتحال نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی گولہ بارود اور وسائل میں کمی کے آثار بھی ظاہر ہو رہے ہیں، جس کے بعد واشنگٹن نے عملی اقدامات کے بجائے بیانات اور دھمکیوں کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔ “یہی وجہ ہے کہ اب الفاظ کی جنگ زیادہ شدت اختیار کر گئی ہے،” ذریعے نے کہا۔
ایران کی ممکنہ حکمت عملی
ایرانی ذریعے نے اشارہ دیا کہ آنے والے دنوں میں ایران کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات جنگ کے توازن کو بدل سکتے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے ان “سرپرائزز” کی نوعیت یا تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات ایران کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا، “ٹرمپ کے خالی دعووں کے برعکس، ایران نے ایسے اقدامات تیار کیے ہیں جو نہ صرف دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنائیں گے بلکہ جنگ کے نتائج کو بھی پہلے سے زیادہ واضح کر دیں گے۔”
ٹرمپ کے لیے پیغام
ذرائع نے ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں سوشل میڈیا بیانات سے ہٹ کر زمینی حقائق کا جائزہ لینا چاہیے۔ “انہیں چاہیے کہ کچھ وقت کے لیے فون سے دور ہو کر اپنی توجہ آسمان، اسٹاک مارکیٹ، اور تیل کی قیمتوں پر مرکوز کریں، کیونکہ اصل دباؤ وہیں سے آ رہا ہے،” ذریعے نے طنزیہ انداز میں کہا۔
بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی خدشات
تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کے اس بیان نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اگر ایران واقعی نئے فوجی یا اسٹریٹجک اقدامات کرتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا فریقین کشیدگی کم کرنے کی طرف بڑھتے ہیں یا آنے والے دنوں میں صورتحال مزید بگڑتی ہے۔



